کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ» کا بیان
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ يَهُودِيٍّ، وَلَا نَصْرَانِيٍّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا فِي وَصِيَّةٍ، وَلَا يُجِيزُهَا فِي الْوَصِيَّةِ إِلَّا فِي السَّفَرِ .
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ کا عمل یہ تھا کہ وہ مسلمانوں پر یہودی یا نصرانی کی گواہی کو قبول نہیں کرتے تھے، سوائے وصیت کے معاملے میں، اور وصیت میں بھی اس وقت قبول کرتے تھے جب سفر کی حالت ہو۔
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ }، أَيْ: مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مِلَّتِكُمْ .
مظاہر امیر خان
سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: یعنی تمہارے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب والوں میں سے۔
حدیث نمبر: 853
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ» سے مراد تمہارے دین کے علاوہ لوگ ہیں۔
حدیث نمبر: 854
قَالَ الْمُغِيرَةُ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو یہ بات ایضاً کہتے ہوئے سنا تھا۔
حدیث نمبر: 855
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
عبیدہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح فرمایا۔
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ }، قَالَ: إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ فِي أَرْضِ غُرْبَةٍ، فَلَمْ يَجِدْ مُسْلِمًا، فَأَشْهَدَ مِنْ غَيْرِ الْمُسْلِمِينَ شَاهِدَيْنَ، فَشَهَادَتُهُمَا جَائِزَةٌ، وَإِنْ جَاءَ مُسْلِمَانِ فَشَهِدَا بِخِلَافِ ذَلِكَ، أُخِذَ بِشَهَادَةِ الْمُسْلِمِينَ، وَتُرِكَتْ شَهَادَتُهُمَا .
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: جب کوئی شخص کسی اجنبی سرزمین میں وفات پا جائے اور وہاں کوئی مسلمان موجود نہ ہو، تو اگر وہ غیر مسلموں میں سے دو گواہ بنا لے تو ان کی گواہی قابل قبول ہوگی، لیکن اگر بعد میں دو مسلمان آ کر اس کے خلاف گواہی دیں تو مسلمانوں کی گواہی قبول کی جائے گی اور غیر مسلموں کی گواہی چھوڑ دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ رَجُلًا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاءَ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُمْ عَلَى وَصِيَّتِهِ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ بِاللهِ مَا خَانَا، وَلَا كَذَبَا، وَلَا بَدَّلَا، وَأَنَّهَا لَتَرِكَتُهُ، ثُمَّ أَجَازَ شَهَادَتَهُمَا .
مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص دقوقاء میں وفات پا گیا، اور وہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بناتا، تو اس نے اہلِ کتاب میں سے دو افراد کو گواہ بنایا۔ وہ دونوں اس کی میراث لے کر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایسا معاملہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش نہیں آیا تھا۔ پھر انہوں نے دونوں گواہوں کو عصر کی نماز کے بعد قسم دی کہ اللہ کی قسم! ہم نے خیانت نہیں کی، نہ جھوٹ بولا، نہ وصیت میں کوئی تبدیلی کی، اور یہ واقعی اسی شخص کی میراث ہے۔ پھر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی گواہی کو معتبر قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 858
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ }، قَالَ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: مِنَ الْقَبِيلَةِ، أَوْ غَيْرِ الْقَبِيلَةِ .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد مسلمان ہیں، البتہ یہ فرمایا کہ خواہ وہ مسلمان اسی قبیلے سے ہوں یا کسی اور قبیلے سے۔
حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ } قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ .
مظاہر امیر خان
سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد اہلِ کتاب ہیں۔
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: { مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوَّلِينَ } وَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْأَوْلَيَانِ صَغِيرَيْنِ ؟ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ﴿مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوَّلِينَ﴾، اور فرمایا: ذرا سوچو اگر وہ پہلے دو گواہ بچے ہوں تو پھر کیا ہوگا؟
حدیث نمبر: 861
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوَّلِينَ } .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: ﴿مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوَّلِينَ﴾۔
حدیث نمبر: 862
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: (وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةً إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ) .
مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے: ﴿وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةً إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ﴾ یعنی اور ہم گواہی نہیں چھپاتے، اگر ایسا کریں تو یقیناً ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے۔