کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ» کا بیان
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ النَّاسَ يَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ لَا يَدْرُونَ كَيْفَ مَوْضِعُهَا: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ } وَإِنَّ الْقَوْمَ إِذَا عُمِلَ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي فَلَمْ يُنْكِرُوهُ، وَرَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ، عَمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو میں نے منبر پر فرماتے ہوئے سنا: لوگ اس آیت کو پڑھتا ہے لیکن اس کے درست معنی نہیں سمجھتا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ یعنی اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو، اگر تم راہ راست پر ہو تو کسی گمراہ کا تمہ کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، حقیقت یہ کہ جب لوگ برائی کو دیکھیں لیکن اس کا انکار نہ کریں اور ظالم کو دیکھیں مگر اسے نہ روکیں، تو اللہ عزوجل ان سب کو عمومی عذاب میں مبتلا کر دیگا۔
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوهُ فَلَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا أَصَابَهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ يَمُوتُوا .
مظاہر امیر خان
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی قوم میں ہو جن کے درمیان گناہوں کا ارتکاب کیا جا رہا ہو، وہ اس بات کی طاقت بھی رکھتا ہو کہ اسے روک سکے مگر نہ روکے، تو اللہ عزوجل ان سب کو موت سے پہلے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَرَأَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ } قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: دَعُوا ذِكْرَ هَذِهِ الْآيَةِ، فَلَيْسَتْ لَكُمْ، فَإِذَا قُبِلَتْ مِنْكُمْ فَهِيَ لَكُمْ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے یہ آیت تلاوت کی ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾، تو ایک کہنے والے نے کہا: اس کا ذکر چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے نہیں ہے، جب تم سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قبول کر لیا جائے تب یہ تمہارے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 843
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ: إِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْكُمُ الْيَوْمَ، فَقُولُوهَا، فَإِذَا رُدَّتْ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: آج تمہاری بات قبول کی جاتی ہے، پس اسے کہو، لیکن جب تمہاری بات کو رد کر دیا جائے تو پھر تم اپنی اصلاح کی فکر کرو۔
حدیث نمبر: 844
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، نَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ } قَالَ: مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مَا لَمْ يَكُنْ مِنْ دُونِ ذَلِكَ السَّوْطُ وَالسَّيْفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ، فَعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو جب تک کہ تمہیں کوڑے اور تلوار کا سامنا نہ کرنا پڑے، پھر جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے تو اپنی اصلاح کی فکر کرو۔
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ: { عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ } يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ﴾ کے بارے میں کہا: اس سے مراد اہلِ کتاب ہیں۔
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، وَجَرِيرٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: آمُرُ إِمَامِي بِالْمَعْرُوفِ ؟ قَالَ: إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ فَلَا، فَإِنْ كُنْتَ وَلَا بُدَّ فَاعِلًا فَفِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ . وَزَادَ أَبُو عَوَانَةَ: وَلَا تَغْتَبْ إِمَامَكَ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا میں اپنے امام کو نیکی کا حکم دوں؟ انہوں نے فرمایا: اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ تمہیں قتل کر دے گا تو نہ کہو، اور اگر ضرور کہنا ہو تو اسے اپنے اور اس کے درمیان آهستہ کہو، اور ابو عوانہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اور اپنے امام کی غیبت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَا أَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ خَيْرٌ لِي أَمْ أُقْبِلُ عَلَى نَفْسِي ؟ قَالَ: أَمَّا مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَمَنْ كَانَ خِلْوًا فَلْيُقْبِلْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ، وَلْيَنْصَحْ وَلِيَّ أَمْرِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کرنا بہتر ہے یا اپنی ذات کی اصلاح میں لگ جانا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی ہو اسے اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اور جو تنہا ہو وہ اپنی ذات کی اصلاح میں لگ جائے اور اپنے حاکم کو نصیحت کرے۔
حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ فَقَالَ: أَوْصِنِي، قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ اللهَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا فَأَصْغِ لَهَا سَمْعَكَ، فَإِنَّهُ خَيْرٌ تُؤْمَرُ بِهِ، أَوْ شَرٌّ تُصْرَفُ عَنْهُ .
مظاہر امیر خان
مسعر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے نصیحت فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: جب تم اللہ عزوجل کو یہ فرماتے سنو ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ تو پوری توجہ سے سنو، کیونکہ یا تو کسی خیر کا حکم دیا جا رہا ہوتا ہے یا کسی شر سے روکا جا رہا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ } قَالَ: لَيْسَ هَذَا أَوَانَهَا، تَقُولُونَهَا مَا قُبِلَتْ مِنْكُمْ، فَإِذَا رُدَّتْ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: ابھی اس آیت پر عمل کرنے کا وقت نہیں آیا، تم اسے اس وقت کہو جب تمہاری بات قبول کی جاتی ہو، پس جب تمہاری بات کو رد کر دیا جائے تو پھر اپنی اصلاح کی فکر کرو، تمہیں گمراہ ہونے والے کا کوئی نقصان نہیں ہوگا جب تم ہدایت پر ہو۔
حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِذَا أَتَيْتَ الْأَمِيرَ الْمُؤَمَّرَ فَلَا تَأْتِهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ .
مظاہر امیر خان
خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب کسی مقرر کردہ امیر کے پاس جانا ہو تو اس کے پاس لوگوں کے مجمع میں نہ جانا۔