کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَتَّابٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ } قَالَ: يَعْنِي الْبَحِيرَةَ، وَالسَّائِبَةَ، وَالْوَصِيلَةَ، وَالْحَامَ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ: مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَإِنَّهُ قَالَ: كَانُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْآيَاتِ فَنُهُوا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: { قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ } فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ بِخِلَافِ هَذَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَمَا لَكَ تَقُولُ هَذَا ؟ فَقَالَ: هَاهْ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: اللہ نے ان میں سے کوئی چیز مقرر نہیں فرمائی۔ جبکہ عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیات کے متعلق سوال کرتے تھے تو انہیں اس سے منع کر دیا گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: ﴿قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ﴾ یعنی تم سے پہلے بھی ایک قوم نے ایسے سوالات کیے، پھر اس کے منکر ہوگئے۔ اس پر میں نے عکرمہ سے کہا: مجھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بیان کیا ہے، تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جواب دینے سے عاجز ہو کر ہاں بس ایسا ہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 839
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خصيف ورواية عتّاب عنه.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»