کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ } قَالَ: طَعَامُهُ مَا قَذَفَ بِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہاں «طَعَامُهُ» سے مراد وہ مچھلی وغیرہ ہے جسے سمندر خشکی کی طرف پھینک دے۔
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: { أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ }، قَالَ: صَيْدُهُ: الطَّرِيُّ، وَطَعَامُهُ: الْمَالِحُ لِلْمُسَافِرِ وَالْمُقِيمِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ کے بارے میں فرمایا: «صَيْدُهُ» سے مراد تازہ شکار ہے اور «طَعَامُهُ» سے مراد وہ مچھلی ہے جسے سمندر خشکی کی طرف باہر پھینک دے، جو مسافر اور مقیم دونوں کے لیے حلال ہے۔
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا لَفَظَ بِهِ الْبَحْرُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «صَيْدُهُ» سے مراد وہ مچھلی ہے جس کا شکار کیا جائے، اور «طَعَامُهُ» سے مراد وہ ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْبَحْرَيْنِ فَسَأَلَنِي أَهْلُهَا عَمَّا يَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَكِ، فَأَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا أَمَرْتَهُمْ ؟ فَقُلْتُ: أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَقَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَعَلَوْتُكَ بِالدِّرَّةِ، ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ: { أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ } قَالَ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا رَمَى بِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ سمندر جو مچھلی خشکی پر پھینک دے اس کا کیا حکم ہے؟ میں نے انہیں اسے کھانے کا حکم دیا۔ جب واپس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: تم نے انہیں کیا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا: میں نے انہیں کھانے کا حکم دیا تھا۔ فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہیں درے سے مارتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ اور فرمایا: «صَيْدُهُ» وہ ہے جسے خود شکار کیا جائے اور «طَعَامُهُ» وہ ہے جسے سمندر خشکی پر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا يَحِلُّ لَكُمُ الصَّيْدُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ، وَقَرَأَ: { وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا } .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حالتِ احرام میں تمہارے لیے شکار حلال نہیں ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ یعنی اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم حالتِ احرام میں ہو۔
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: هِيَ مُبْهَمَةٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ آیت مبہم ہے۔