کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 828
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا } قَالَ: مُتَعَمِّدًا لِقَتْلِهِ، نَاسِيًا لِإِحْرَامِهِ، فَذَلِكَ الَّذِي يُحْكَمُ عَلَيْهِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو جانور کو جان بوجھ کر قتل کرے لیکن اپنا احرام بھول گیا ہو، یہی وہ شخص ہے جس پر کفارہ کا حکم لاگو ہوگا۔
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا } قَالَ: لَا أَرَى فِي الْخَطَأِ شَيْئًا .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا﴾ کے بارے میں فرمایا: میری رائے میں خطا یعنی غلطی سے قتل پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 830
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا } قَالَ: مَنْ قَتَلَ صَيْدًا، ثُمَّ عَادَ، أُعِيدَ عَلَيْهِ الْجَزَاءُ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا﴾ کے متعلق فرمایا: جس شخص نے احرام کی حالت میں شکار کو قتل کیا پھر دوبارہ ایسا کیا تو اس پر دوبارہ جزا یعنی کفارہ واجب ہوگی۔
حدیث نمبر: 831
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: يُحْكَمُ عَلَيْهِ مَرَّةً أُخْرَى .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: شکار دوبارہ کرنے کی صورت میں اس پر دوبارہ کفارے کا حکم لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: { فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ }، قَالَ: إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يُحْكَمُ عَلَيْهِ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ ذَبَحَهُ، وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ قُوِّمَ جَزَاؤُهُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا، فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا، وَإِنَّمَا أُرِيدَ بِالطَّعَامِ الصِّيَامُ، وَإِنَّهُ إِذَا وُجِدَ الطَّعَامُ، وُجِدَ جَزَاؤُهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ﴿فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ کے بارے میں فرمایا: جب مُحرم شکار کر لے تو اس پر اس کا کفارہ واجب ہوگا، اگر اس کے پاس اسی کے مثل جانور موجود ہو تو اسے ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر دے، اگر اس کے پاس ایسا جانور نہ ہو تو اس جانور کی قیمت دراہم میں لگائی جائے گی، پھر دراہم کے برابر غلہ کا حساب لگایا جائے گا اور ہر آدھا صاع کے بدلے ایک روزہ رکھا جائے گا۔ یہاں غلہ سے روزے مراد ہیں، اور جب غلہ موجود ہو تو اس کا کفارہ بھی موجود سمجھا جائے گا۔