کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَكَانَ عَامَّةُ عَيْشِهِمْ مِنْهَا، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، قَالَ نَاسٌ: حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ، وَقَدْ كَانَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ يَشْرَبُونَهَا وَهُمْ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ، فَمَاتُوا، فَقَدْ كَانُوا يَشْرَبُونَهَا، إِنَّمَا أُنْزِلَ تَحْرِيمُهَا، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ } إِلَى قَوْلِهِ: { فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ }، فَقَالَ الْقَوْمُ: فَقَدِ انْتَهَيْنَا يَا رَبَّنَا، فَقَالَ: { لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا } الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا يَشْرَبُونَهَا، ثُمَّ مَاتُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْزِلَ تَحْرِيمُهَا { إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ } .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ شراب پیا کرتے تھے، اور ان کی عام زندگی اسی پر چلتی تھی۔ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا: ہم پر تو شراب حرام ہوگئی، مگر فلاں، فلاں، اور فلاں تو شراب پیا کرتے تھے اور وہ سب جنتی ہیں، حالانکہ وہ شراب پیتے ہوئے ہی فوت ہوگئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾، پھر فرمایا: ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾، تو صحابہ نے کہا: اے ہمارے رب! ہم باز آ گئے۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾، یعنی ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جنہوں نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے کے بعد تحریم سے پہلے شراب پی تھی، پھر وہ متقی بنے، ایمان لائے، نیک عمل کیے، پھر دوبارہ تقویٰ اختیار کیا، ایمان پر جمے رہے، احسان پر عمل کیا، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 808
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لأن الحسن البصري أرسله، والإسناد صحيح إلى الحسن، وقد صح الحديث من طرق أخرى كما سيأتي.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: اصْطَبَحَ نَاسٌ مِنَ الْخَمْرِ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ قُتِلُوا .
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: احد کے دن کچھ لوگ صبح کو شراب پی کر نکلے، پھر وہ جنگ میں قتل ہو گئے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 809
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه البخاري كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2815، 4044، 4618، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4939، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 809، 2881»
حدیث نمبر: 810
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا } قَالَ: ذَمَّهَا اللهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَلَالٌ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ فِيهِ بَعْدَ ذَلِكَ آيَةً فِي شَأْنِ الْخَمْرِ هِيَ أَشَدُّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ }، فَكَانَ السُّكْرُ فِيهَا حَرَامًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى الْآيَةَ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ } ... إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ } قَالَ قَتَادَةُ: فَجَاءَ تَحْرِيمُهَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ، قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، مَا أَسْكَرَ مِنْهَا وَمَا لَمْ يُسْكِرْ .
مظاہر امیر خان
قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا﴾ میں شراب اور جوئے کو برا کہا، مگر اس وقت ان کو حرام نہیں کیا، اس وقت یہ دونوں حلال تھے۔ پھر اس کے بعد اللہ عزوجل نے ایک اور آیت نازل فرمائی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ یعنی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، اس آیت کے ذریعے نشے کی حالت میں نماز پڑھنا حرام کیا گیا۔ پھر سورۂ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ تا ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس آیت کے ذریعے شراب کی حرمت مکمل ہو گئی، اس کا تھوڑا ہو یا زیادہ، نشہ آور ہو یا نہ ہو، سب حرام قرار دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 810
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مرسِلِه قتادة، وقد صحّ معناه من حديث عمر بن الخطاب، وسبق تخريجه في الحديث رقم [٨٠٨].
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 811
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَمَّا نَزَلَتْ: { إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ } قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ الْخَمْرَ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلَا يَطْعَمْهُ، وَلَا يَبِعْهُ، فَأَهَرَاقُوهَا، حَتَّى جَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَجِدُونَ رِيحَهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ .
مظاہر امیر خان
قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب آیت ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ﴾ نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ عزوجل نے شراب کو حرام کر دیا ہے، جو کسی کے پاس ہے، نہ اسے پیے نہ بیچے، پس سب نے شراب بہا دی، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیوں میں اس کی بو آنے لگی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 811
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مرسِلِه قتادة، وله شاهد صحيح أخرجه مسلم وغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: نَا شَدَّادٌ أَبُو الْفُرَاتِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ شَيْخٌ - أَوْ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدَائِنِ - قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ مِنْبَرِ حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا بَالُ أَقْوَامٍ بَلَغَنِي أَنَّهُمْ يَبِيعُونَ الْخَمْرَ، وَيَقْتَنُونَ الْخِنْزِيرَ ؟ أَلَا إِنَّ بَائِعَ الْخَمْرِ وَشَارِبَهَا فِي الْإِثْمِ سَوَاءٌ، وَإِنَّ مُقْتَنِيَ الْخِنْزِيرِ وَآكِلَهُ فِي الْإِثْمِ سَوَاءٌ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ تَعَاهَدُوا أَرِقَّكُمْ فَانْظُرُوا مَا يَأْتُونَكُمْ بِهِ مِنْ كَسْبِهِمْ، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! یہ کیا ماجرا ہے کہ کچھ لوگ شراب بیچتے اور خنزیر پالتے ہیں؟ خبردار! شراب پینے والا اور بیچنے والا گناہ میں برابر ہیں، خنزیر پالنے والا اور کھانے والا بھی گناہ میں برابر ہیں، اپنے غلاموں کا خیال رکھو کہ وہ تمہارے لیے کہاں سے کماتے ہیں، کیونکہ وہ گوشت جو حرام سے پیدا ہو جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 812
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة أبي داود وجهالة حال شدّاد، ومعناه صحيح بشواهده الآتي ذكرها.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 812، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 17073، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22041، 24562»
حدیث نمبر: 813
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ، لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى صَفَا صَفْوُهَا، وَرَسَبَ كَدَرُهَا .
مظاہر امیر خان
سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اسے اتنی دیر تک چھوڑا جاتا ہے کہ اس کا صاف حصہ اوپر آ جاتا ہے اور گندہ نیچے بیٹھ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 813
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه النسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5762، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5237، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 813، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24458، 24459»
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَزَلْ مُشْرِكًا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِنْ سَكِرَ مِنْهَا لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ فِيهِنَّ مَاتَ كَافِرًا .
مظاہر امیر خان
خیثمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے وہ شام تک اپنے دن بھر میں مشرک ہی رہتا ہے، اگر اس سے نشہ ہو جائے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ ان دنوں میں مر جائے تو کافر مرے گا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 814
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وهو موقوف على عبد الله بن عمرو، وقد روي عنه مرفوعًا، وهو صحيح كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، 5357، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، 951، 3645، 7325، 7326، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 692، 5680، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2136، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 814، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، 4613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24536، 24564، 24565»
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لُعِنَتِ الْخَمْرُ، وَشَارِبُهَا، وَسَاقِيهَا، وَبَائِعُهَا، وَمُشْتَرِيهَا، وَعَاصِرُهَا، وَمُعْتَصِرُهَا، وَحَامِلُهَا، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَآكِلُ ثَمَنِهَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، نچوڑنے والے پر، نچوانے والے پر، اس کو اٹھانے والے پر، جس کے پاس لے جائی جائے اس پر، اور اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 815
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف ابن أبي ليلى، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 2248، 7321، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3674، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3380، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 815، 816، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4879، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22045، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 13641، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 2734، وأخرجه الطبراني فى (الصغير) برقم: 753»
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَعَنَ اللهُ الْخَمْرَ، وَلَعَنَ شَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا، وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے شراب پر لعنت فرمائی ہے، اور اس کے پینے والے، پلانے والے، نچوڑنے والے، نچوانے والے، اٹھانے والے، جس کے پاس لے جائی جائے، بیچنے والے، خریدنے والے اور اس کی قیمت کھانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 816
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف فُلَيْح من قبل حفظه، وجهالة سعيد بن عبد الرحمن، وهو صحيح لغيره كما في الحديث السابق.
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 2248، 7321، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3674، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3380، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 815، 816، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4879، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22045، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 13641، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 2734، وأخرجه الطبراني فى (الصغير) برقم: 753»
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الْعَوَّامُ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب کا عادی شخص لات اور عزیٰ کی عبادت کرنے والے کی مانند ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف للانقطاع بين المسيّب وعبد الله بن عمرو، وهو حسن لغيره كما سيأتي في الحديث بعده رقم [٨١٨]، وقد روي مرفوعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ولا يصح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 817، 818، والبزار فى (مسنده) برقم: 2382، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24538»
حدیث نمبر: 818
وَأَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مُعَاقِرُ الْخَمْرِ كَمَنْ عَبَدَ اللَّاتَ وَالْعُزَّى .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب پینے والا ایسا ہے جیسے اس نے لات و عزیٰ کی عبادت کی ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 818
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف عُبيدة، وهو حسن لغيره - موقوفًا 
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 817، 818، والبزار فى (مسنده) برقم: 2382، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24538»
حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُطِيعُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَا الشَّعْبِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَعَنَ اللهُ فُلَانًا، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ أَذِنَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ، وَإِنَّ التِّجَارَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا فِيمَا يَحِلُّ أَكْلُهُ، أَوْ شُرْبُهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ فلان پر لعنت کرے، وہ پہلا شخص تھا جس نے شراب کی خرید و فروخت کی اجازت دی، اور یقیناً تجارت صرف اسی چیز میں جائز ہے جس کا کھانا یا پینا جائز ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 819
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته، وأصل القصة في "الصحيحين" كما سيأتي
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 819، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11167، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22040، 37152»
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: لَوْ رَأَيْتُ أَحَدًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ لَا يَرَانِي إِلَّا قَتَلْتُهُ، فَاسْتَطَعْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ لَقَتَلْتُهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں کسی کو شراب پیتے دیکھتا اور وہ مجھے نہ دیکھتا، اور مجھے قدرت حاصل ہوتی کہ اسے قتل کر دوں تو میں ضرور اسے قتل کر دیتا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 820
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف حبان بن علي، ومتنه منكر
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُلَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا فِيهَا كُرُومٌ، وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّتِهَا الْخَمْرُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ، فَأَقْبَلَ الدَّوْسِيُّ عَلَى رَجُلٍ كَانَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ بِبَيْعِهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا، وَأَكْلَ ثَمَنِهَا، فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِيهَا قَطْرَةٌ .
مظاہر امیر خان
عبد الرحمن بن وعلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم ایک ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں ہمارے انگوروں کے باغات ہیں، اور ان کی اکثر پیداوار شراب کی صورت میں نکلتی ہے، تو سیدنا ابن عباس نے فرمایا: ایک شخص قبیلہ دوسر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب سے بھرا مشکیزہ بطور ہدیہ لے کر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ نے اسے تمہارے بعد حرام کر دیا ہے؟ تو وہ دوسری شخص اپنے ساتھی کی طرف متوجہ ہوا اور اسے حکم دیا کہ اسے بیچ دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ جس نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اس نے اس کی خرید و فروخت اور اس کی قیمت کھانا بھی حرام کیا ہے؟ تو اس نے مشکیزے کو زمین پر انڈیلنے کا حکم دیا یہاں تک کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 821
درجۂ حدیث محدثین: سند المصنف ضعيف لضعف فُليح من قبل حفظه، ولكنه ينفرد به، بل هو صحيح أخرجه مسلم وغيره من غير طريقه كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1578، 1579، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4942، 4944، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4678، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6215، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2148، 2613، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 821،، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10842، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7984»
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: نَا أَبُو النَّضِرِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، وَكَانَ يُهْدِيهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ، فَقَالَ: أَفَلَا أَبِيعُهَا ؟ فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ عَلَيْنَا شُرْبَهَا حَرَّمَ عَلَيْنَا بَيْعَهَا، فَقَالَ: أَفَلَا أُكَارِمُ بِهَا الْيَهُودَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُكَارِمُوا الْيَهُودَ بِهَا، قَالَ: مَا أَصْنَعُ ؟ قَالَ: صُبَّهَا فِي الْبَطْحَاءِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب کی ایک مشک پیش کی، جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ دیا کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اس کو تمہارے لیے حرام کر دیا ہے۔ اس شخص نے کہا: تو کیا میں اسے بیچ نہیں سکتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے لیے اس کے پینے کو حرام کیا، اس نے ہمارے لیے اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا۔ اس نے کہا: کیا میں یہ یہودیوں کو دے کر ان کی عزت افزائی نہ کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس کو پینا حرام کرتا ہے، اس کے لیے یہودیوں سے اس کی عزت افزائی بھی حرام ہے۔ پھر اس شخص نے کہا: اب میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مکہ کی وادی میں بہا دو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة، وهو صحيح لغيره يشهد له الحديث السابق.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 822، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1064، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1806»
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: نَا عَمْرٌو، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ عُثْمَانُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِيَّاكُمْ وَالْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحٌ لِكُلِّ شَرٍّ، وَإِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قِيلَ: إِمَّا أَنْ تَسْجُدَ لِهَذَا الصَّلِيبِ، وَإِمَّا أَنْ تَحْرِقَ هَذَا الْكِتَابَ، وَإِمَّا أَنْ تَقْتُلَ هَذَا الصَّبِيَّ، وَإِمَّا أَنْ تُصِيبَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، وَإِمَّا أَنْ تَشْرَبَ هَذِهِ الْكَأْسَ - الْخَمْرَ - فَرَأَى أَنَّهَا أَهْوَنُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا شَرِبَهَا فَعَلَ ذَلِكَ، سَجَدَ لِلصَّلِيبِ، وَحَرَقَ الْكِتَابَ، وَقَتَلَ الصَّبِيَّ، وَأَصَابَ مِنَ الْمَرْأَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: تم شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے۔ اور تم میں سے ایک شخص، جو تم سے پہلے تھا، اسے کہا گیا کہ یا تو اس صلیب کو سجدہ کر، یا اس کتاب کو جلا دے، یا اس بچے کو مار ڈال، یا اس عورت سے بدکاری کر، یا اس پیالے میں شراب پی، تو اس نے شراب پینا سب سے ہلکا سمجھا، اور جب اس نے شراب پی لی، تو اس نے وہ سب کچھ کیا، یعنی صلیب کو سجدہ کیا، کتاب کو جلایا، بچے کو قتل کیا اور عورت سے بدکاری کی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 823
درجۂ حدیث محدثین: الحديث سنده رجاله ثقات، فإن كان يحيى بن جعدة سمع من عثمان، فالسند صحيح، والأحرى أنه لم يسمع منه، لكن الحديث صحّ من غير طريقه كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 823، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17434، 19740»
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ .
مظاہر امیر خان
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سب سے بڑا کبیرہ گناہ شراب پینا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 824
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 824، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4612، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11372، 11498، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3134»
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ يَكُونُ بِالسَّوَادِ يَتَّجِرُ فِي الْخَمْرِ، فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ، فَكَتَبَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنِ اكْسِرُوا كُلَّ مَالٍ وَجَدْتُمُوهُ لَهُ، وَسَيِّبُوا كُلَّ مَاشِيَةٍ هِيَ لَهُ .
مظاہر امیر خان
ابو عمرو شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک شخص کے متعلق خبر پہنچی جو سواد کے علاقے میں شراب کی تجارت کرتا تھا جس سے وہ مالدار ہو گیا اور اس کا مال بہت بڑھ گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم لکھ بھیجا کہ اس کا جو مال ملے اسے توڑ دو، اور اس کے جو مویشی ہوں انہیں آزاد چھوڑ دو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 825
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ فِيهِ قِمَارٌ فَهُوَ مِنَ الْمَيْسِرِ، حَتَّى لَعِبِ الصِّبْيَانِ بِالْجَوْزِ وَالْكِعَابِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ہر وہ چیز جس میں جوا ہو وہ میسر یعنی جوا میں شامل ہے، حتیٰ کہ بچوں کا اخروٹ اور پانسوں کے ساتھ کھیلنا بھی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 826
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف الليث بن أبي سُلَيم.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 826، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21006، 21007، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19728، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 26696»
حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ قِمَارَ الصِّبْيَانِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بچوں کے جوئے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 827
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال مغيرة.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»