کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 775
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ } قَالَ: هُوَ الرَّجُلُ يَحْلِفُ عَلَى الْأَمْرِ يَرَى أَنَّهُ كَمَا حَلَفَ، فَلَا يَكُونُ كَذَلِكَ، قَالَ: يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی بات پر قسم کھاتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ بات ویسی ہی ہے جیسی اس نے قسم کھائی، مگر بعد میں حقیقت اس کے خلاف نکلتی ہے، تو ایسے شخص پر کفارہ لازم آتا ہے۔
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اللَّغْوُ: أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ عَلَى الْمَعْصِيَةِ، فَلَا يُؤَاخِذُهُ اللهُ إِنْ تَرَكَهَا، وَلَكِنْ يُؤَاخِذُهُ إِنْ عَمِلَ بِهَا، فَقُلْتُ لِأَبِي بِشْرٍ: كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ: يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ وَيَتْرُكُ الْمَعْصِيَةَ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: لغو قسم وہ ہے کہ آدمی کسی معصیت پر قسم کھا لے، تو اگر وہ گناہ کو ترک کر دے تو اللہ اس پر مؤاخذہ نہیں فرماتا، لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرے تو اس پر مؤاخذہ ہوگا۔ میں نے ابو بشر رحمہ اللہ سے پوچھا: پھر وہ کیا کرے؟ انہوں نے کہا: اپنی قسم کا کفارہ دے اور گناہ چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: هُوَ الرَّجُلُ يَحْلِفُ عَلَى الشَّيْءِ ثُمَّ يَرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: لغو قسم وہ ہے کہ آدمی کسی چیز پر قسم کھا لے، اور پھر اسے گمان ہو کہ بات ویسے ہی ہے جیسے اس نے قسم کھائی، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہو۔
حدیث نمبر: 778
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ مِثْلَهُ .
مظاہر امیر خان
ابو مالک رحمہ اللہ نے بھی فرمایا: لغو قسم وہ ہے کہ آدمی کسی بات پر قسم کھا لے، اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ بات درست نہ تھی۔
حدیث نمبر: 779
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: هُوَ قَوْلُ النَّاسِ: لَا وَاللهِ، وَبَلَى وَاللهِ، لَا يَعْتَقِدُ عَلَى الْيَمِينِ .
مظاہر امیر خان
عامر الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: لغو قسم لوگوں کے وہ کلمات ہیں جیسے «لَا وَاللَّهِ» اور «بَلَىٰ وَاللَّهِ»، جن پر دل میں قسم کا یقین نہ ہو۔
حدیث نمبر: 780
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ سَأَلَهَا عَنْ لَغْوِ الْيَمِينِ، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے لغو قسم کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: وہی قسم ہے جو عامر الشعبی رحمہ اللہ نے بیان کی، یعنی بے ارادہ طور پر «لَا وَاللَّهِ» یا «بَلَىٰ وَاللَّهِ» کہنا۔
حدیث نمبر: 781
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: هُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ: لَا وَاللهِ، وَبَلَى وَاللهِ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لغو قسم وہ ہے کہ آدمی کہے «لَا وَاللَّهِ» یا «بَلَىٰ وَاللَّهِ»۔
حدیث نمبر: 782
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ وَسِيمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَغْوُ الْيَمِينِ: أَنْ تَحْلِفَ وَأَنْتَ غَضْبَانُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لغو قسم یہ ہے کہ آدمی غصے کی حالت میں قسم کھا لے۔
حدیث نمبر: 783
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هُوَ: لَا وَاللهِ، وَبَلَى وَاللهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لغو قسم «لَا وَاللَّهِ» اور «بَلَىٰ وَاللَّهِ» کہنا ہے۔
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: الْأَيْمَانُ ثَلَاثَةٌ: يَمِينٌ تُكَفَّرُ، وَيَمِينٌ لَا تُكَفَّرُ، وَيَمِينٌ لَا يُؤَاخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، فَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي تُكَفَّرُ فَرَجُلٌ يُعَاهِدُ أَنْ لَا يَفْعَلَ كَذَا وَكَذَا فَيَفْعَلُهُ، فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي لَا تُكَفَّرُ فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ عَلَى الْأَمْرِ يَتَعَمَّدُ فِيهِ الْكَذِبَ، فَلَيْسَ فِيهِ كَفَّارَةٌ، وَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي لَا يُؤَاخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا فَرَجُلٌ يَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ يَرَى أَنَّهُ كَمَا حَلَفَ عَلَيْهِ، فَلَا يَكُونُ كَذَلِكَ، فَهَذَا مَا لَا كَفَّارَةَ فِيهِ، وَهُوَ اللَّغْوُ .
مظاہر امیر خان
ابو مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قسمیں تین طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جس پر کفارہ لازم ہے، دوسری وہ جس پر کفارہ نہیں، اور تیسری وہ جس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ پہلی یہ کہ آدمی کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر وہ کر لے تو کفارہ دینا ہوگا، دوسری یہ کہ جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، اس پر کوئی کفارہ نہیں بلکہ وہ گناہ کبیرہ ہے، اور تیسری یہ کہ کسی بات پر قسم کھائے اس گمان میں کہ وہ صحیح ہے، لیکن حقیقت میں وہ ویسے نہ ہو، تو ایسی قسم پر نہ مؤاخذہ ہے نہ کفارہ، اور یہی لغو قسم ہے۔