کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ» کا بیان
حدیث نمبر: 739
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: إِذَا قَبِلَ الْقَاضِي الْهَدِيَّةَ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ .
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: جب قاضی تحفہ قبول کرے تو وہ سحت کھاتا ہے، اور جب رشوت قبول کرے تو وہ کفر کی حد کو پہنچ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 740
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ كُفْرٌ، وَهِيَ بَيْنَ النَّاسِ سُحْتٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فیصلہ میں رشوت لینا کفر ہے، اور لوگوں کے درمیان لین دین میں یہ سحت یعنی حرام مال ہے۔
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ السُّحْتِ، أَهُوَ الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ، قَالَ: لَا، { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } وَالظَّالِمُونَ، وَالْفَاسِقُونَ، وَلَكِنَّ السُّحْتَ: أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلَمَةٍ، فَيُهْدِيَ لَكَ، فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ .
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سحت یعنی حرام مال کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ حکم میں دی جانے والی رشوت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾، ﴿الظَّالِمُونَ﴾، اور ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ یہ الگ آیات ہیں، لیکن سحت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ظلم میں تم سے مدد مانگے، اور تمہیں کچھ ہدیہ دے، اور تم وہ قبول کر لو، پس یہی سحت ہے۔
حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَسَمَ شَيْئًا، فَدَعَا رَجُلًا يَحْسِبُ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ أَعْطَيْتَهُ شَيْئًا، قَالَ: إِنْ شَاءَ، وَهُوَ سُحْتٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مال تقسیم کیا، اور ایک شخص کو حساب لگانے کے لیے بلایا، تو کسی نے کہا: اگر آپ اسے بھی کچھ دے دیتے؟ تو فرمایا: اگر چاہے تو لے لے، لیکن یہ سحت یعنی حرام مال ہوگا۔
حدیث نمبر: 743
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ أُجُورَ الْقُسَّامِ، وَيَقُولُ: كَانُوا يَقُولُونَ: الرِّشْوَةُ عَلَى الْحُكْمِ سُحْتٌ، مَا أَرَى حُكْمًا يُؤْخَذُ عَلَيْهِ رِشْوَةٌ .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ اُجرت لے کر مال کی تقسیم کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرمایا کرتے: لوگ کہا کرتے تھے کہ فیصلہ کرنے پر رشوت لینا سحت یعنی حرام ہے، اور میں نہیں دیکھتا کہ کوئی ایسا فیصلہ ہو جس پر رشوت لینا جائز ہو۔
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَانَ يَكْرَهُ الشَّرْطَ، وَلَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَقْسِمَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ فَيُعْطِيهِ الشَّيْءَ مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ شرط کے ساتھ کسی کو مال دینے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اگر کوئی شخص بغیر شرط کے کسی کے لیے تقسیم کرے اور کچھ دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ سُحْتٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ وَثَمَنُ الْقِرْدِ، وَثَمَنُ الْخِنْزِيرِ، وَثَمَنُ الْخَمْرِ، وَثَمَنُ الْمَيْتَةِ، وَثَمَنُ الدَّمِ، وَعَسْبُ الْفَحْلِ، وَأَجْرُ النَّائِحَةِ وَالْمُغَنِّيَةِ، وَأَجْرُ الْكَاهِنِ، وَأَجْرُ السَّاحِرِ، وَأَجْرُ الْقَائِفِ، وَثَمَنُ جُلُودِ السِّبَاعِ، وَثَمَنُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ، فَإِذَا دُبِغَتْ فَلَا بَأْسَ بِهَا، وَأَجْرُ صُوَرِ التَّمَاثِيلِ، وَهَدِيَّةُ الشَّفَاعَةِ، وَجَعِيلَةُ الْغَرَقِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: فیصلے میں رشوت لینا سحت یعنی حرام مال ہے، اسی طرح بدکار عورت کا مہر، کتے، بندر، خنزیر، شراب، مردار، خون کی قیمت، نر جانور کے جفتی کرانے کا معاوضہ، نوحہ کرنے والی اور گانے والی کا اجرت، کاہن، جادوگر اور قائف یعنی نسب جوڑنے والا، درندوں کی کھالیں، مردار کی کھال کی قیمت، البتہ اگر چمڑا دباغت سے پاک کر دیا جائے تو اس میں حرج نہیں، مجسموں کی تصاویر کی اجرت، سفارش کی بنیاد پر تحفہ اور ڈوبنے والے کی بازیابی پر انعام بھی سب سحت میں شامل ہیں۔