کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ» کا بیان
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ } قَالَ: إِذَا قَتَلَ الْمُحَارِبُ قُتِلَ، وَإِذَا قَتَلَ وَأَخَذَ الْمَالَ صُلِبَ، وَإِذَا أَخَذَ الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلْ قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ مِنْ خِلَافٍ، وَإِذَا دَفَّ فِي الطَّرِيقِ، وَأَخَافَ السَّبِيلَ، وَلَمْ يَأْخُذْ مَالًا، وَلَمْ يَقْتُلْ نُفِيَ مِنَ الْأَرْضِ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: اگر محارب نے کسی کو قتل کیا ہو تو اسے قتل کیا جائے، اگر قتل کے ساتھ مال بھی لوٹا ہو تو سولی پر چڑھایا جائے، اگر صرف مال لوٹا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو اس کا ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دیے جائیں، اور اگر صرف راستہ زبردستی روکا ہو، لوگوں کو ڈرایا ہو، نہ مال لوٹا ہو اور نہ قتل کیا ہو تو اسے جلاوطن کیا جائے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 729
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ .
مظاہر امیر خان
یہ روایت حسن بصری رحمہ اللہ تابعی سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 730
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال أبي حُرَّة، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 730، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29619، 33468، 33469»
حدیث نمبر: 731
وَأَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ .
مظاہر امیر خان
عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میں نے یہ بات ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت کی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 731
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف عُبيدة.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 732
وَجُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ امام کو محارب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 732
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف جدًّا لما تقدم عن حال جويبر وتدليس هشيم.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 732، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33468»
حدیث نمبر: 733
وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ، حسن رحمہ اللہ اور ضحاک رحمہ اللہ یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ امام کو محارب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 733
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، وهو حسن لغيره عن مجاهد ما سيأتي في الحديث بعده رقم [٧٣٤]، وصحيح لغيره عن عطاء كما سيأتي في الحديث رقم [٧٣٥].
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 733، 734، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 18549، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29619، 33468»
حدیث نمبر: 734
وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالُوا: الْإِمَامُ مُخَيَّرٌ فِي الْمُحَارِبِ، أَيُّ ذَلِكَ شَاءَ فَعَلَ .
مظاہر امیر خان
حجاج بن ارطاة رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: امام کو محارب کے بارے میں اختیار ہے، ان میں سے جو سزا چاہے دے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 734
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال حجاج وعدم تصريحه بالسماع، وهو صحيح لغيره عن عطاء كما في الحديث الآتي برقم [٧٣٥]، وحسن لغيره عن مجاهد بالطريق السابقة رقم [٧٣٣]، وهذه الطريق التي يرويها حجاج بن أرطأة عنه، وطريق القاسم بن أبي بَزَّة الآتية في التخريج.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 733، 734، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 18549، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 29619، 33468»
حدیث نمبر: 735
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ، أَوْ كَذَا، أَوْ كَذَا، فَهُوَ بِالْخِيَارِ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن میں جہاں ﴿يَا هَٰذَا﴾، ﴿يَا هَٰذَا﴾، ﴿يَا هَٰذَا﴾ کا ذکر ہو، تو وہاں اختیار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 735
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الْحَمِيدِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْعِرَاقِ بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ قَدْ قَطَعُوا الطَّرِيقَ، وَخَذَمُوا بِالسُّيُوفِ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ نَاسٌ بِقَتْلِهِمْ، فَاسْتَشَارَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: لَا تَفْعَلْ، فَنَهَيْتُهُ أَنْ يَقْتُلَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَعْلَمُ مِنْ رَأْيِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، أَنَّهُ لَا يَسْتَحِلُّ قَتْلَ شَيْءٍ كَانَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قُتِلَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَخَذَ بِقَلْبِهِ بَعْضُ مَا قُلْتُ، فَكَتَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى عُمْرَ، فَجَاءَهُ جَوَابُهُ جَوَابًا غَلِيظًا، يُقَبِّحُ لَهُ مَا صَنَعَ، وَفِي الْكِتَابِ: فَهَلَّا إِذْ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ وَرَأَيْتَ أَنَّهُمْ أَهْلَهَا أَخَذْتَ بِأَيْسَرِ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَإِنْ رَأَى الَّذِي يَنْتَهِي إِلَى رَأْيِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، مُدَّعِيًا أَنَّهُ لَيْسَ بِالْمُحَارِبِ الَّذِي يَتَلَصَّصُ وَيَسْتَخْفِي مِنَ السُّلْطَانِ وَيَغْزُو، لَكِنَّهُمْ قَالُوا: إِنَّ الْمُحَارِبَ الَّذِي يُفْسِدُ نَسْلَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يُجِيبُ دَعْوَةَ السُّلْطَانِ .
مظاہر امیر خان
ابو الزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبد الحمید جو عراق کا گورنر تھا، اس کے پاس تین آدمی لائے گئے جنہوں نے راستہ کاٹا اور تلواروں سے حملہ کیا، کچھ لوگوں نے ان کے قتل کا مشورہ دیا، اس نے مجھ سے رائے لی تو میں نے منع کیا کیونکہ مجھے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی رائے معلوم تھی کہ وہ اس حال میں قتل کو جائز نہیں سمجھتے، لیکن لوگوں کے اصرار پر ان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا، پھر گورنر کو میری بات کا کچھ احساس ہوا تو عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا، ان کا سخت جواب آیا جس میں اس کے فعل کو برا کہا، اور لکھا: اگر تم نے اس آیت پر غور کیا ہوتا اور دیکھا ہوتا کہ وہ اس کے مصداق ہیں تو تم ان پر سب سے ہلکی سزا جاری کرتے، ابو الزناد کہتے ہیں: مدینہ میں جو اس مسئلہ میں صاحب رائے تھے وہ کہتے تھے کہ محارب وہ ہے جو مسلمانوں کی نسل بگاڑتا ہے، سلطان کی دعوت کو قبول نہیں کرتا، چوری چھپے نہیں بلکہ اعلانیہ فساد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 736
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وهو صحيح لغيره؛ لأن عبد الرحمن تابعه الإمام مالك كما سيأتي، مع بعض الاختلاف في المتن والاختصار.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»