کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَقَدْ نَـزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ، فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ، فَيَرْضَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، فَتُصِيبُهُ الرَّحْمَةُ، فَتَعُمُّ مَنْ حَوْلَهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ، فَيَسْخَطُ اللهُ بِهَا، فَيُصِيبُهُ السُّخْطُ، فَيَعُمُّ مَنْ حَوْلَهُ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آدمی مجلس میں ایک ایسی بات کہتا ہے جس سے اللہ راضی ہو جاتا ہے، تو اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اس کے آس پاس والوں کو بھی گھیر لیتی ہے، اور کبھی آدمی مجلس میں ایک ایسی بات کہتا ہے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے، تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے اور وہ غضب اس کے آس پاس والوں کو بھی گھیر لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ نَحْوًا مِنْ هَذَا، وَزَادَ فِيهِ: { وَقَدْ نَـزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ } .
مظاہر امیر خان
ابو وائل رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی شخص ایسی بات کہتا ہے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے، تو وہ رحمت اس پر اور اس کے آس پاس والوں پر نازل ہوتی ہے، اور اگر کوئی ایسی بات کرتا ہے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے، تو اس کا غضب اس پر اور مجلس والوں پر بھی آتا ہے، پھر انہوں نے آیت تلاوت کی: ﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ﴾۔
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اللہ کی رضا کی بات کرتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس بات کے ذریعے قیامت تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور آدمی اللہ کی ناراضی کی بات کہتا ہے، اور وہ گمان بھی نہیں کرتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے ذریعے قیامت تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔