کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ» کا بیان
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَتِ الْعَرَبُ: لَا نُبْعَثُ وَلَا نُحَاسَبُ، وَقَالَتِ النَّصَارَى: لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ } .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: عرب کہتے تھے کہ ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے اور نہ ہی ہمارا حساب ہوگا، اور نصاریٰ کہتے تھے کہ ہمیں آگ صرف چند گنے چنے دنوں کے لیے چھوئے گی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ یعنی: یہ تمہاری اور اہل کتاب کی امیدوں سے نہیں، جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ } قَالَ: احْتَجَّ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: نَحْنُ أَهْدَى مِنْكُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ }، فَأَفْلَجَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: { وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ } ... إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: اس آیت ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ کے بارے میں کہا کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان حجت بازی ہوئی، مسلمانوں نے کہا: ہم تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، اور پھر مسلمانوں کو ان الفاظ سے غالب کر دیا: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ آخرِ آیت تک۔
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ } شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ كُلَّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا وَالنَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ تو یہ مسلمانوں پر بہت شاق گزری، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قریب رہو اور میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جو کچھ بھی مسلمان کو پہنچتا ہے وہ اس کے لیے کفارہ بنتا ہے، حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے اور وہ ٹھوکر جو وہ کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ }، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذَا ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُكَ اللهُ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ قَالَ: فَذَاكَ بِذَاكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ سنی تو فرمایا: پھر اس کے بعد بھلا نیکی کیسے ہو سکتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم پر رحم فرمائے اے ابو بکر! کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں تکلیفیں نہیں پہنچتیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو فرمایا: یہی ان گناہوں کا بدلہ ہے۔
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: نَا أَبُو بَكْرٍ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: { لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ }، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذَا ؟ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَمَا تَهْتَمُّ ؟ أَمَا تَحْزَنُ ؟ أَمَا تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَهَذَا بِهَذَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آیت ﴿لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کے بعد بھلا نیکی اور اصلاح کیسے ممکن ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! کیا تم فکر مند نہیں ہوتے؟ کیا تم غم زدہ نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں مشقت نہیں پہنچتی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے رسول اللہ! تو فرمایا: یہی اس کا بدلہ ہے۔
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ } ؟ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ ذَلِكَ مِمَّا تُجْزَوْنَ بِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ کے بعد بھلا اصلاح کیسے ممکن ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں مشقت نہیں پہنچتی؟ فرمایا: کیوں نہیں، تو فرمایا: یہ بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کا بدلہ تمہیں دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ }، قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّمَا ذَاكَ لِمَنْ أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَوَانَهُ، فَأَمَّا مَنْ أَرَادَ اللهُ كَرَامَتَهُ فَإِنَّهُ يَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِ، { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ } .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ اس کے لیے ہے جس کے بارے میں اللہ عزوجل نے رسوائی کا ارادہ فرمایا ہو، اور جو اللہ عزوجل کی نظر میں مکرم ہو، تو اللہ عزوجل اس کی برائیوں سے درگزر فرماتا ہے، ﴿وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ﴾۔
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ }، فَقَالَ: إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ ؟ هَلَكْنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُ فِي الدُّنْيَا فِي نَفْسِهِ، فِي جَسَدِهِ، فِيمَا يُؤْذِيهِ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ تلاوت کی اور کہا: کیا ہم ہر اس عمل کی سزا پائیں گے جو ہم نے کیا؟ تو ہم تو ہلاک ہو گئے! یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مومن کو اس کے برے عمل کی سزا دنیا میں ہی دے دی جاتی ہے، اس کی جان میں، اس کے جسم میں، اور ان چیزوں میں جو اسے تکلیف دیتی ہیں۔
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَشَدَّ هَذِهِ الْآيَةَ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ }، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ الْمُصِيبَةَ فِي الدُّنْيَا جَزَاءٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کتنی سخت ہے یہ آیت: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! دنیا میں جو مصیبت آتی ہے، وہ برے عمل کا بدلہ ہے۔