کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 685
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ كَانَ بِمَكَّةَ فَمَرِضَ - وَهُوَ ضَمْرَةُ بْنُ الْعِيصِ، أَوِ الْعِيصُ بْنُ ضَمْرَةَ بْنِ زِنْبَاعٍ فَأَمَرَ أَهْلَهُ، فَفَرَشُوا لَهُ عَلَى سَرِيرٍ، وَحَمَلُوهُ، وَانْطَلَقُوا بِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا كَانَ بِالتَّنْعِيمِ مَاتَ، فَنَزَلَتْ: { وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ } .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص مکہ میں بیمار ہو گیا، اور وہ ضمرہ بن العيص یا العيص بن ضمرہ بن زنباع تھا، تو اس نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا، انہوں نے اس کے لیے چارپائی بچھائی، اسے اس پر لٹایا اور مدینہ کی طرف لے کر روانہ ہوئے، جب وہ تنعیم کے مقام پر پہنچے تو وہ فوت ہو گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾۔
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ فِيمَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَبَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا، سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الْأَوَّلِينَ ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، قَالَ: فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ، وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو عیاش الزرقی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان کے مقام پر تھے، اور مشرکین کی طرف سے خالد بن ولید موجود تھے، ہم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو مشرکوں نے کہا: ہمیں ان پر غفلت میں حملہ کرنے کا موقع ملا تھا، کاش ہم ان پر اس وقت حملہ کر دیتے جب وہ نماز میں مشغول تھے، پس ظہر اور عصر کے درمیان قصر والی آیت نازل ہوئی، پھر جب عصر کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ کے سامنے تھے، تو آپ کے پیچھے ایک صف بنی اور اس کے پیچھے دوسری صف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور سب نے رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی صف نے سجدہ کیا، پیچھے والی صف ان کی حفاظت کرتی رہی، جب پہلی صف نے دو سجدے مکمل کر لیے اور کھڑی ہو گئی تو پیچھے والی صف نے سجدہ کیا، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی اور دوسری صف ان کی جگہ آگئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور سب نے رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور قریب والی صف نے سجدہ کیا اور پچھلی صف پہرہ دیتی رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف بیٹھ گئی تو پیچھے والی صف نے سجدہ کیا، پھر سب بیٹھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو سلام پھیرا، ابو عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز عسفان میں اور بنی سلیم کے دن پڑھی۔