کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
حدیث نمبر: 666
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، وَيَحْيَى الْجَابِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا، ثُمَّ اهْتَدَى ؟ قَالَ: وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُعَلَّقًا رَأْسُهُ، وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا: لِمَ قَتَلَنِي ؟ فَوَاللهِ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ مِنْ بَعْدِ مَا أُنْزِلَتْ: { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا } .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، نیک عمل کیے اور ہدایت پا گیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اسے ہدایت کہاں سے ملے گی؟ اس کی ماں اسے روئے، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن مقتول اس حال میں آئے گا کہ اس کا سر معلق ہوگا اور رگیں خون ٹپکا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اللہ کی قسم! اس آیت کو منسوخ کرنے والی کوئی چیز نازل نہیں ہوئی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾۔
حدیث نمبر: 667
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يَقُولُ لِخَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ: سَمِعْتُ أَبَاكَ هَاهُنَا يَقُولُ: نَزَلَتِ الشَّدِيدَةُ هَذِهِ الْآيَةُ، وَالْهَيِّنَةُ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ: { وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ } ... إِلَى قَوْلِهِ { إِلا مَنْ تَابَ } .
مظاہر امیر خان
ابو الزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک شیخ کو خارجہ بن زید رحمہ اللہ سے کہتے سنا: میں نے تمہارے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اسی جگہ یہ کہتے سنا کہ یہ سخت آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا﴾ اور وہ نرم آیت جو سورہ الفرقان میں ہے: ﴿وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ إِلَّا مَنْ تَابَ﴾۔
حدیث نمبر: 668
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ عُمَرَ سُئِلُوا عَنِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، فَقَالُوا: هَلْ يَسْتَطِيعُ أَنْ لَا يَمُوتَ ؟ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ أَوْ يُحْيِيَهُ . ؟
مظاہر امیر خان
کردم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، تو انہوں نے جواب دیا: کیا وہ مرنے سے بچ سکتا ہے؟ کیا وہ زمین میں کوئی سرنگ نکال سکتا ہے یا آسمان کی طرف کوئی سیڑھی بنا سکتا ہے یا مقتول کو زندہ کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بِجَنْبِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا تَقُولُ فِي قَاتِلِ الْمُؤْمِنِ، هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ: لَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ .
مظاہر امیر خان
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: اے ابو ہریرہ! آپ مومن کے قاتل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، قَالَ: كَانَ بَيْنَ صَاحِبٍ لِي وَرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ السُّوقِ بِمَكَّةَ لِحَاءٌ، فَأَخَذَ صَاحِبِي كُرْسِيًّا، فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ الرَّجُلِ، فَقَتَلَهُ، وَنَدِمَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأُخْرِجُ مِنْ مَالِي، ثُمَّ أَنْطَلِقُ فَأَجْعَلُ نَفْسِي حَبِيسًا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ نَسْأَلُهُ هَلْ لَكَ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ... فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ عَلَى مَا كَانَتْ، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَرَى لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ: كُلْ وَاشْرَبْ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي، إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ، قَالَ: كَذَبَ، يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَشَبَةِ، فَيَضْرِبُ بِهَا رَأْسَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، كَذَبَ، كُلْ وَاشْرَبْ مَا اسْتَطَعْتَ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي، فَلَمْ يَزِدْنَا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُمْنَا .
مظاہر امیر خان
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے ایک ساتھی اور مکہ کے بازار کے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوا، تو میرے ساتھی نے ایک کرسی اٹھا کر اس شخص کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، پھر وہ نادم ہوا اور کہنے لگا: میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں گا اور اللہ کے راستے میں خود کو قید کر دوں گا، میں نے کہا: آؤ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے لیے توبہ ہے؟ چنانچہ ہم مکہ میں ان کے پاس پہنچے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اور پھر پوری تفصیل بیان کی، اور پوچھا: کیا آپ اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کھاؤ پیو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! وہ کہتا ہے کہ اس نے قتل کا ارادہ نہیں کیا؟ جھوٹ بولتا ہے! تم میں سے کوئی لکڑی سے کسی مسلمان کے سر پر مارتا ہے، پھر کہتا ہے: میرا قتل کا ارادہ نہیں تھا؟ جھوٹ بولتا ہے! کھاؤ پیو جتنا کھا سکتے ہو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! اس کے بعد انہوں نے ہمیں کچھ نہ کہا، حتیٰ کہ ہم وہاں سے اٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَتْلُ الْمُؤْمِنِ مَعْقَلَةٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: مومن کا قتل کرنا دیت واجب کرنے والا عمل ہے۔
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادٍ الْمِنْقَرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: وَاللهِ لَوْ تَمَالَأَ أَهْلُ الْأَرْضِ وَأَهْلُ السَّمَاءِ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ لَأَدْخَلَهُمُ اللهُ النَّارَ جَمِيعًا
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: قسم بخدا! اگر زمین و آسمان والے سب کے سب کسی مومن کے قتل پر متفق ہو جائیں، تو اللہ عزوجل ان سب کو جہنم میں داخل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: لَزَوَالُ الدُّنْيَا بِأَسْرِهَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ تَعَالَى مِنْ دَمِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُسْفَكُ بِغَيْرِ حَقٍّ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ عزوجل کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہو جانا ایک مسلمان کے ناحق خون بہانے سے کہیں زیادہ ہلکا ہے۔
حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } قَالَ: جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ، فَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ .
مظاہر امیر خان
ابو مجلز رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ یعنی اس کا بدلہ جہنم ہے، پس اگر اللہ چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَلَأْتُ حَوْضِي أَنْتَظِرُ ظَمِيَّتِي تَرِدُ عَلَيَّ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَهُ، وَثَلَمَ الْحَوْضَ، وَسَالَ الْمَاءُ، فَقُمْتُ فَزِعًا، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِثْلَ الَّذِي قَالَ، فَأَمَرَهُ بِالتَّوْبَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لَا تَوْبَةَ لَهُ، فَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ، قَالُوا لَهُ: تُبْ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میں نے اپنا حوض پانی سے بھر کر اپنی اونٹنی کے پیاسے ہونے کا انتظار کیا، مگر اچانک ایک شخص اونٹنی سمیت آیا، حوض میں داخل ہو گیا، پانی بہہ گیا، میں گھبرا کر اٹھا اور تلوار سے وار کر کے اسے قتل کر دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ اس قاتل عمد کے مانند نہیں جس کا ذکر شدید وعید والی آیت میں آیا ہے، پھر اس شخص کو توبہ کا حکم دیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل علم جب فتویٰ دیتے تو کہتے: اس کے لیے توبہ نہیں، لیکن جب کسی پر واقعہ پیش آتا تو اس سے کہتے: توبہ کر۔
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا يَزَالُ الرَّجُلُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يَسْفِكْ دَمًا حَرَامًا، فَإِذَا سَفَكَ دَمًا حَرَامًا نُزِعَ مِنْهُ الْحَيَاءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی اپنے دین میں وسعت میں رہتا ہے جب تک کہ وہ کسی کا ناحق خون نہ بہا دے، لیکن جب وہ حرام خون بہا دیتا ہے تو اس سے حیا چھین لی جاتی ہے۔