کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطَأً» کا بیان
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلا أَنْ يَصَّدَّقُوا } قَالَ: هَذَا الْمُسْلِمُ الَّذِي وَرِثَتْهُ الْمُسْلِمُونَ، { فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ } قَالَ: هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ، { وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ } قَالَ: هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ فَيُقْتَلُ، فَيَكُونُ مِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَتَكُونُ دِيَتُهُ لِقَوْمِهِ ; لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے آیت ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً﴾ کی تفسیر میں فرمایا: جب مسلمان غلطی سے کسی ایسے مسلمان کو قتل کرے جس کے ورثاء مسلمان ہوں، تو دیہ انہیں دی جاتی ہے؛ اور اگر وہ مسلمان کسی ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہو، تو اس کی صرف گردن آزاد کی جائے گی، کیونکہ اس کے ورثاء مشرک ہیں اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاہدہ نہیں؛ اور اگر وہ مسلمان ایسی مشرک قوم سے تعلق رکھتا ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو، تو پھر دیہ اس کے مشرک ورثاء کو دی جائے گی کیونکہ وہی اس کی دیت کے ذمہ دار ہیں، اور اس کا ترکہ مسلمانوں کو ملے گا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لأن مغيرة لم يصرح بالسماع بينه وبين إبراهيم.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 664، 2828، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 28580، 34116»
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَا فِي قَوْلِهِ: { عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ }، قَالَا: الرَّجُلُ يَكُونُ مِنَ الْعَدُوِّ فَيُسْلِمُ فَيُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الْمُسْلِمِينَ فَيُقْتَلُ خَطَأً قَالَا: لَا دِيَةَ لَهُ وَعَلَيْهِ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ .
مظاہر امیر خان
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہما اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: مراد وہ شخص ہے جو دشمن قوم سے ہو، پھر اسلام لے آئے اور مسلمانوں کے پاس آنا چاہے، لیکن راستے میں غلطی سے قتل کر دیا جائے، تو اس کی دیت نہیں ہے، البتہ قاتل پر ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 665
درجۂ حدیث محدثین: سنده فيه إسماعيل بن عياش وهو مدلِّس ولم يصرِّح هنا بالسماع، وهو حسن الحديث إذا روى عن الشاميين، وأما إذا روى عن غيرهم فحديثه ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 665، 2827»