کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا» کا بیان
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: نَا مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَلِمَاتٍ أَصَابَ فِيهِنَّ: حَقٌّ عَلَى الْإِمَامِ أَنْ يَحْكُمَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنْ يُؤَدِّيَ الْأَمَانَةَ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَحَقٌّ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ، وَأَنْ يُطِيعُوا، وَأَنْ يُجِيبُوا إِذَا دُعُوا .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چند کلمات فرمایے جو حق پر ہیں: امام پر لازم ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرے اور امانت ادا کرے، پھر جب وہ یہ کرے تو لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات سنیں، اس کی اطاعت کریں اور جب بلایا جائے تو لبیک کہیں۔
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ } قَالَ: هُمُ الْأُمَرَاءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد حکمران ہیں۔
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: هُمُ الْفُقَهَاءُ وَالْعُلَمَاءُ
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد فقہاء اور علماء ہیں۔
حدیث نمبر: 654
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے آیت ﴿وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: وہ مراد حکمران اور اہلِ علم دونوں ہیں۔
حدیث نمبر: 655
وَأَبْنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَا: أُولِي الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ .
مظاہر امیر خان
ابن عبد الملک رحمہ اللہ اور عطاء رحمہما اللہ نے فرمایا: ﴿أُولِي الْأَمْرِ﴾ سے مراد اہلِ فقہ اور علم والے ہیں۔
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: أُولِي الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ { فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ } قَالَ: إِلَى كِتَابِ اللهِ، وَإِلَى { الرَّسُولَ } قَالَ: إِلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَرَأَ: { وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ } .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: �أُولِي الْأَمْرِ﴾ سے مراد اہلِ فقہ اور علم والے ہیں، اور اللہ عزوجل کے فرمان ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ کے بارے میں فرمایا: ’’اللہ‘‘ سے مراد اللہ کی کتاب ہے، اور ’’رسول‘‘ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ﴾۔
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: سُئِلَ عِكْرِمَةُ، عَنْ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَقَالَ: هُنَّ أَحْرَارٌ، قِيلَ لَهُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُهُ ؟ قَالَ: بِالْقُرْآنِ، قَالُوا: بِمَاذَا مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ } وَكَانَ عُمَرُ مِنْ أُولِي الْأَمْرِ، قَالَ: أُعْتِقَتْ وَإِنْ كَانَ سِقْطًا .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ سے «امہات الأولاد» کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ آزاد ہیں۔ پوچھا گیا: آپ یہ کس بنیاد پر کہتے ہیں؟ فرمایا: قرآن کی بنیاد پر۔ کہا گیا: قرآن میں کہاں؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اولی الامر میں سے تھے، اور انہوں نے حکم دیا تھا کہ وہ آزاد ہیں، اگرچہ پیدا ہونے والا بچہ ساقط ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ: شَاوَرَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأُمَّهَاتِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَعُمَرُ أَنْ أَعْتَقَهُنَّ، فَقَضَى بِهِ عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا وَلِيتُ رَأَيْتُ أَنْ أُرِقَّهُنَّ، قَالَ عُبَيْدَةُ: فَرَأْيُ عُمْرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الأولاد کے بارے میں مجھ سے مشورہ کیا، تو میرا اور عمر کا یہی خیال تھا کہ انہیں آزاد کر دیا جائے، اور عمر نے اپنی زندگی میں اسی پر فیصلہ کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی زندگی میں اسی پر عمل کیا، لیکن جب میں خلیفہ بنا تو میرا رجحان انہیں غلام رکھنے کی طرف ہوا، تو عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما کا اجتماعی رائے والا فیصلہ، مجھے علی کی انفرادی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔