کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى» کا بیان
حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْنَا لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا }، قُلْتُ: مَا رُخْصَةُ الْمَرِيضِ هَاهُنَا ؟ قَالَ: إِذَا كَانَتْ بِهِ قُرُوحٌ، أَوْ جُرُوحٌ، أَوْ كَبُرَ عَلَيْهِ الْمَاءُ، يَتَيَمَّمُ بِالصَّعِيدِ .
مظاہر امیر خان
قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ﴾ کے بارے میں پوچھا کہ اس میں مریض کے لیے کیا رخصت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر کسی کو پھوڑے، زخم ہوں، یا پانی کا استعمال دشوار ہو تو وہ پاک مٹی سے تیمم کرے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 637
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف وإن كان ظاهره الصحة؛ لأنه سقط من إسناده رجل بين قتادة وسعيد بن جبير
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 637، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 862، 870، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1080، 2130»
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: الْمُلَامَسَةُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ، وَالْقُبْلَةُ مِنْهُ، وَمِنْهَا الْوُضُوءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ملامست جماعت سے کم درجے کا تعلق ہے، اور اس میں بوسہ شامل ہے، اور اس سے وضو لازم آتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 638
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف من هذا الطريق للانقطاع بين الشعبي وابن مسعود
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 638، 639، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 612، والدارقطني فى (سننه) برقم: 523، 524، 525، 526، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 500، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 496، 1780، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9227»
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الْقُبْلَةُ مِنَ اللَّمْسِ، وَمِنْهَا الْوُضُوءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بوسہ لمس میں شامل ہے، اور اس سے وضو لازم آتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 639
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف من هذا الطريق للانقطاع بين أبي عبيدة وأبيه، وقد صححه الدارقطني كما سيأتي، وهو صحيح لغيره كما في الحديث السابق.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 638، 639، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 612، والدارقطني فى (سننه) برقم: 523، 524، 525، 526، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 500، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 496، 1780، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9227»
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنَّا فِي حُجْرَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَنَفَرٌ مِنَ الْمَوَالِي، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَنَفَرٌ مِنَ الْعَرَبِ فَتَذَاكَرْنَا اللِّمَاسَ، فَقُلْتُ أَنَا وَعَطَاءٌ: اللَّمْسُ بِالْيَدِ، وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَالْعَرَبُ: هُوَ الْجِمَاعُ، فَقُلْتُ: إِنَّ عِنْدَكُمْ مِنْ هَذَا الْفَضْلِ قَرِيبٌ، فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى سَرِيرٍ، فَقَالَ لِي مَهْيَمْ ؟ فَقُلْتُ: تَذَاكَرْنَا اللَّمْسَ، فَقَالَ بَعْضُنَا: هُوَ اللَّمْسُ بِالْيَدِ، وَقَالَ بَعْضُنَا: هُوَ الْجِمَاعُ، قَالَ: مَنْ قَالَ هُوَ الْجِمَاعُ ؟ قُلْتُ: الْعَرَبُ، قَالَ: فَمَنْ قَالَ هُوَ اللَّمْسُ بِالْيَدِ ؟ قُلْتُ: الْمَوَالِي، قَالَ: فَمِنْ أَيِّ الْفَرِيقَيْنِ كُنْتَ ؟ قُلْتُ: مَعَ الْمَوَالِي، فَضَحِكَ وَقَالَ: غَلَبَتِ الْمَوَالِي، غَلَبَتِ الْمَوَالِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمَسَّ وَالْمُبَاشَرَةَ إِلَى الْجِمَاعِ إِلَى الْجِمَاعِ مَا هُوَ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حجرے میں تھے، ہمارے ساتھ عطاء بن ابی رباح، کچھ موالی، عبید بن عمیر اور چند عرب موجود تھے، تو ہم نے ”لمس“ کے معنی پر گفتگو کی، میں اور عطاء کہنے لگے کہ لمس کا مطلب ہاتھ سے چھونا ہے، جبکہ عبید بن عمیر اور عرب کہنے لگے کہ اس سے مراد جماع ہے، میں نے کہا: آپ کے پاس اس مسئلے میں فضیلت کی بات قریب ہی ہے، پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ تخت پر بیٹھے تھے، انہوں نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ہم لمس کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، کچھ نے کہا کہ یہ ہاتھ سے چھونا ہے، اور کچھ نے کہا کہ یہ جماع ہے، انہوں نے پوچھا: ”جماع کا قول کس نے کیا؟“ میں نے کہا: عربوں نے، پھر پوچھا: ”اور ہاتھ سے چھونے کا قول کس نے کیا؟“ میں نے کہا: موالی نے، تو پوچھا: ”تم کس گروہ کے ساتھ تھے؟“ میں نے کہا: موالی کے ساتھ، تو وہ ہنس پڑے اور تین بار فرمایا: ”موالی غالب آ گئے، موالی غالب آ گئے“، پھر فرمایا: لمس، مس اور مباشرت، ان سب کی انتہا جماع ہے، لیکن اللہ عزوجل جس بات کو چاہے، جس لفظ سے چاہے کنایہ دیتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 640
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 497، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 640، 641، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 614، 8689، 15540، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 506، 10826، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1768، 1769، 1772، 1779، 1781، 13397»
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اللَّمْسُ وَالْمَسُّ وَالْمُبَاشَرَةُ إِلَى الْجِمَاعِ مَا هُوَ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَنَّى عَنْهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لمس، مس اور مباشرت سب کے سب جماع تک جانے والے مراحل ہیں، لیکن اللہ عزوجل نے اس کے لیے کنایہ کا انداز اختیار فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 641
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وهو طريق آخر مختصر للحديث السابق عن أبي بشر.
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 497، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 640، 641، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 614، 8689، 15540، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 506، 10826، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1768، 1769، 1772، 1779، 1781، 13397»
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ } قَالَ: يَعْنِي مَا دُونَ الْجِمَاعِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ ﴿أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ کی تلاوت کرتے تھے اور فرماتے تھے: اس سے مراد جماع سے کم درجے کا تعلق ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 642
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لأن هشيمًا ومغيرة لم يصرحا
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبِيدَةَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ } فَأَشَارَ بِيَدِهِ وَظَنَنْتُ مَا قَالَ .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عبیدہ رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا، اور میں نے خود سمجھ لیا کہ ان کی مراد کیا تھی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 643
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 643، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 503، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1738، 1774، 1776»
حدیث نمبر: 644
وَقَالَ مُحَمَّدٌ: وَنُبِّئْتُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَسَّ فَرْجَهُ تَوَضَّأَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ وَعَبِيدَةَ شَيْءٌ وَاحِدٌ .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں خبر دی گئی کہ وہ جب اپنی شرمگاہ کو چھوتے تو وضو کرتے، تو میں نے گمان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور عبیدہ رحمہ اللہ کا قول ایک ہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 644
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لإبهام الواسطة بين ابن سيرين وابن عمر، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 129، 132، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 644، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 638، 640، 642، والدارقطني فى (سننه) برقم: 531، 1374،وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1738، 1743، 1744، 1747»
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يَمُرُّ فِي الْمَسْجِدِ جُنُبًا مُجْتَازًا .
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص جنبہ حالت میں مسجد میں چل کر گزر جاتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 645
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لأن أبا الزبير مدلس ولم يصرح بالسماع.
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1331، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1212، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 645، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4395، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1560»
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمْ مُجْنِبُونَ ; إِذَا تَوَضَّئُوا وُضُوءَ الصَّلَاةِ .
مظاہر امیر خان
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کو دیکھا کہ وہ جنبہ حالت میں مسجد میں بیٹھتے تھے، جب وہ نماز کے لیے وضو کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 646
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُونَ الْمَسْجِدَ وَيَخْرُجُونَ مِنْهُ وَلَا يُصَلُّونَ فِيهِ، وَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
مظاہر امیر خان
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مسجد کربہ میں کر داخل کرصحہ ہوتے اور اس سے نکل جاتے لیکن اس میں بلہ نماز نہ پڑھتا، اور تو میں نے نہ سیدنا عبداللہ حمد بن سرمر بن خطاب خط س رضی بحا اللہ عہنہما کو بھی ایسا کرتے دیکھا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 647
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته، وهو نفس إسناد الحديث السابق، وهو صحيح لغيره
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3447»