کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، وَمَعَهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَبَعَثَ عَلِيٌّ حَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَكَمَيْنِ: أَتَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا ؟ إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا فَرَّقْتُمَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا جَمَعْتُمَا، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكَلِمَاتِ اللهِ لِي وَعَلَيَّ، فَقَالَ الزَّوْجُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ، حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ مَا أَقَرَّتْ بِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک زوجین آئے، تو آپ نے ان کے درمیان دو ثالث مقرر کیے اور ان سے فرمایا: ”اگر تم دونوں مناسب سمجھو تو جدائی کروا سکتے اور اگر چاہو تو ان میں صلاح کروا سکتے۔“ عورت نے کہا: ”میں اللہ کے احکام کو اپنے حق میں اور اپنے خلاف قبول کرتی ہوں۔“ مگر شوہر نے کہا: ”میں جدائی کو قبول نہیں کرتا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جب تک تم بھی اسی طرح اقرار نہ کرو جیسے اس نے کیا ہے، ایسا نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، نَا مَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ بِمِثْلِهِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ وَسَلَّمْتُ، فَقَالَ الزَّوْجُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، لَسْتَ بِبَارِحٍ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ مَا رَضِيَتْ بِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تمہارے اختیار میں نہیں، تم یہاں سے نہیں جاؤ گے جب تک اسی بات پر راضی نہ ہو جاؤ جس پر وہ عورت راضی ہوئی ہے۔“
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ عَلَى زَوْجِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: ابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا، فَفَعَلُوا، فَنَظَرَ الْحَكَمَانِ فِي أَمْرِهِمَا، فَرَأَيَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَهُمَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: فَفِيمَ كُنَّا فِيهِ الْيَوْمَ ؟ وَأَجَازَ أَمْرَهُمَا .
مظاہر امیر خان
ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف نافرمانی کی، تو وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ لے کر گئے۔ قاضی شریح نے فرمایا: ”ایک ثالث اس کے خاندان سے اور ایک ثالث شوہر کے خاندان سے مقرر کرو۔“ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ دونوں ثالثوں نے ان کے معاملے پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان جدائی ہونی چاہیے۔ اس پر مرد نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تو قاضی شریح نے فرمایا: ”پھر ہم آج کس معاملے میں تھے؟“ اور دونوں ثالثوں کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: مَا حَكَمَ الْحَكَمَانِ مِنْ شَيْءٍ جَازَ، إِنْ فَرَّقَا، وَإِنْ جَمَعَا .
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو بھی فیصلہ دونوں حاکم کریں، وہ جائز ہے، چاہے وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کا فیصلہ کریں یا ان کے درمیان صلاح کرائیں۔“
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ نَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِثْلَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
عبیدہ رحمہ اللہ نے ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْحَكَمَيْنِ فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَا وُلِدْتُ إِذْ ذَاكَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَعْنِي حُكْمَ شِقَاقٍ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ دَرْءٌ أَوْ تَدَارِي، بَعَثُوا حَكَمَيْنِ، فَأَقْبَلَا عَلَى الَّذِي التَّدَارِي مِنْ قِبَلِهِ، فَوَعَظَاهُ وَأَمَرَاهُ، فَإِنْ أَطَاعَهُمَا، وَإِلَّا أَقْبَلَا عَلَى الْآخَرِ، فَإِنْ سَمِعَ مِنْهُمَا وَأَقْبَلَ إِلَى الَّذِي يُرِيدَانِ وَإِلَّا حَكَمَا بَيْنَهُمَا، فَمَا حَكَمَا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي قَالَ لِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي: فَهُوَ جَائِزٌ .
مظاہر امیر خان
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے حکمین کے بارے میں پوچھا تو وہ غصے میں آ گئے اور فرمایا: ”میں اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔“ میں نے کہا: ”میرا مطلب شقاق کے حکم سے ہے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”جب مرد اور عورت کے درمیان اختلاف یا ناراضگی ہو تو وہ دو حکم بھیجتے ہیں۔ یہ دونوں پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی طرف سے ناراضگی ہو رہی ہو، پس اسے نصیحت کرتے ہیں اور اسے حکم دیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ وہ دوسرے فریق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ ان کی بات سنتا ہے اور اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں، تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ دونوں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتے ہیں۔ اور جو بھی فیصلہ وہ کریں، وہ جائز ہوتا ہے۔“ شُعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق میرے قریب بیٹھے ایک شخص نے کہا: ”پس وہ فیصلہ جائز ہوتا ہے۔“