کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ» کا بیان
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، أَنَّ مَسْرُوقًا أَتَى صِفِّينَ، فَقَامَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْصِتُوا، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ مُنَادِيًا نَادَاكُمْ مِنَ السَّمَاءِ فَرَأَيْتُمُوهُ وَسَمِعْتُمْ كَلَامَهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ عَمَّا أَنْتُمْ فِيهِ، أَكُنْتُمْ مُنْتَهُونَ ؟ قَالَ: فَسَبُّوهُ، قَالَ: فَوَاللهِ لَقَدْ نَزَلَ بِذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمَا ذَاكَ عِنْدَنَا بِأَبْيَنَ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ اللهَ يَقُولُ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا * وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا } قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ إِلَى النَّاسِ وَرَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ .
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ صفین گئے اور صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! خاموش ہو جاؤ۔ اگر آسمان سے ایک منادی تمہیں پکارے، تم اسے دیکھو اور اس کی آواز سنو، اور وہ کہے کہ اللہ تمہیں اس چیز سے روکتا ہے جس میں تم پڑے ہوئے ہو، تو کیا تم باز آ جاؤ گے؟“ لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جبریل علیہ السلام یہی پیغام لے کر نازل ہوئے، اور یہ بات ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے زیادہ واضح نہیں ہے۔ بےشک، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا﴾ (اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ، مگر یہ کہ وہ باہمی رضا مندی سے تجارت کے طور پر ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بےشک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو یہ سب زیادتی اور ظلم کے طور پر کرے گا، تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے)۔“ پھر وہ لوگوں میں داخل ہوئے اور کوفہ لوٹ آئے۔