کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ» کا بیان
حدیث نمبر: 561
َّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو حُرَّةَ، وَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ } - قَالَ: السُّفَهَاءُ: الصِّغَارُ، وَالنِّسَاءُ مِنَ السُّفَهَاءِ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے قول ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ﴾ کے بارے میں کہا: سفہاء سے مراد بچے ہیں، اور عورتیں بھی سفہاء میں شامل ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 561
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يَقُولُ: عُودُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّهَا سَفِيهَةٌ، إِنْ أَطَعْتَهَا أَهْلَكَتْكَ .
مظاہر امیر خان
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ کہتے تھے: عورتوں کو عادت ڈالو، کیونکہ وہ سفیهہ ہوتی ہے، اگر تو نے اس کی بات مانی تو اس نے تجھے ہلاک کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 562
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»