کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى» کا بیان
حدیث نمبر: 554
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: بَعَثَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ عَلَى أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرُوا بِشَيْءٍ، وَيُنْهَوْا عَنْهُ فَكَانُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْيَتَامَى، وَلَمْ يَكُنْ لِلنِّسَاءِ عَدَدٌ وَلَا ذِكْرٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ } وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ مَا شَاءَ، فَقَالَ: كَمَا تَخَافُونَ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى، فَخَافُوا فِي النِّسَاءِ أَلَّا تَعْدِلُوا فِيهِنَّ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، جب کہ لوگ جاہلیت کے طریقے پر تھے، سوائے اس کے کہ انہیں کسی بات کا حکم دیا جاتا یا منع کیا جاتا، وہ یتیموں کے بارے میں سوال کرتے، اور عورتوں کے لیے نہ کوئی تعداد تھی نہ ذکر۔ پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾، اور مردوں کو جتنی عورتوں سے نکاح کی اجازت تھی، وہ جیسے چاہیں نکاح کرتے۔ پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: جیسے تم یتیموں میں انصاف کے بارے میں ڈرتے ہو، اسی طرح عورتوں میں انصاف کے بارے میں ڈرو۔
حدیث نمبر: 555
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا } - قَالَ: لَا تَمِيلُوا .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ کا مطلب ہے: «لَا تَمِيلُوا» یعنی تم انصاف سے ہٹ کر نہ جھکو۔
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا } - قَالَ: لَا تَجُورُوا .
مظاہر امیر خان
ابو مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ کا مطلب ہے: «لَا تَجُورُوا» یعنی تم ظلم نہ کرو۔
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا } - أَيْ لَا تَمِيلُوا، ثُمَّ أَنْشَدَنِي بَيْتًا قَالَهُ أَبُو طَالِبٍ: بِمِيزَانِ قِسْطٍ وَزْنُهُ غَيْرُ عَائِلِ .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ کا مطلب ہے: «لَا تَمِيلُوا»۔ پھر عکرمہ رحمہ اللہ نے مجھے ایک شعر سنایا جو ابو طالب نے کہا تھا: «بِمِيزَانِ قِسْطٍ وَزْنُهُ غَيْرُ عَائِلِ» یعنی انصاف کی میزان میں اس کا وزن کبھی کمیاب نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 558
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا } - قَالَ: أَنْ لَا تَمِيلُوا، أُرَاهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مظاہر امیر خان
عامر الشعبی رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے قول ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ کے بارے میں کہا: یعنی تم میل نہ کرو، میرا خیال ہے انہوں نے کہا: یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔