کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: كَانَتْ بَدْرٌ مَتْجَرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدَ أَبَا سُفْيَانَ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا، وَلَقِيَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ بِهَا جَمْعًا عَظِيمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَأَتَوْا بَدْرًا، فَلَمْ يَلْقَوْا أَحَدًا، فَرَجَعَ الْجَبَانُ، وَمَضَى الْجَرِيءُ، فَتَسَوَّقُوا بِهَا، وَلَمْ يَلْقَوْا أَحَدًا، فَنَزَلَتِ: { الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ * فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ } .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میدان میں جاہلیت کے زمانے میں تجارت کی جاتی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ وہاں ملاقات کریں گے۔ پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ وہاں بہت بڑی تعداد میں مشرکین جمع ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا، اور وہ بدر پہنچے لیکن وہاں کسی سے ملاقات نہ ہوئی، تو واپس چلے آئے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ * فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ﴾ (وہ لوگ جنہوں نے کہا: لوگوں نے تمہارے لیے جمع کیا ہے، تم ان سے ڈرو، تو وہ ایمان میں مزید بڑھ گئے اور کہا: اللہ ہمارے لیے کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے، پھر وہ اللہ کے فضل و کرم سے واپس لوٹ آئے۔)
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 543
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مُرْسِله عكرمة.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 543، 2914»
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ مَتَى يُؤْمَرُ، فَيَنْفُخُ فِي الصُّورِ ؟ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیسے چین سے رہ سکتے ہو، حالانکہ صاحبِ قرن نے قرن پکڑ لیا ہے اور اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور کان لگا کر سن رہا ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے گا کہ صور پھونکے؟“ تو صحابہ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: اللہ ہمارے لیے کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 544
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف عطية بن سعد العَوْفي، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 823، والحاكم فى (مستدركه) برقم: بدون ترقيم، 8775، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2431، 3243، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4273، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11196، 11875، 19654، والحميدي فى (مسنده) برقم: 771، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2000، والطبراني فى (الصغير) برقم: 45»
قال الترمذي: حسنه، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (11 / 374)
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنْ كَانَ أَبَوَاكِ مِنَ: الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلهِ وَالرَّسُولِ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے فرمایا: ”تمہارے والد سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ اور تمہاری والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہنے والے تھے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 545
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجاه كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 5607، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 124، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 545، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13209»