کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ» کا بیان
حدیث نمبر: 508
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي قُلْتُ لِامْرَأَتِي: هِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ ؟ قَالَ: فَإِنَّهَا لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ، قَالَ: فَأَيْنَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: { كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ } ؟ قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: إِنَّ إِسْرَائِيلَ أَخَذَتْهُ الْأَنْسَاءُ، فَأَضْنَتْهُ، فَجَعَلَ لِلهِ عَلَيْهِ إِنِ اللهُ عَافَاهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ عِرْقًا أَبَدًا، فَلِذَلِكَ تَسُلُّ الْيَهُودُ الْعُرُوقَ، وَلَا يَأْكُلُونَهَا .
مظاہر امیر خان
ایک اعرابی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ مجھ پر حرام ہے، تو کیا وہ واقعی مجھ پر حرام ہو گئی؟ انہوں نے فرمایا: وہ تم پر حرام نہیں ہوئی۔ اعرابی نے کہا: پھر اللہ عزوجل کا یہ فرمان کہاں جائے گا؟ ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ﴾ (سارا کھانا بنی اسرائیل کے لیے حلال تھا، سوائے اس کے جو اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا)۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اسرائیل یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کی تھی؟ اعرابی نے کہا: نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسرائیل کو عرق النساء لاحق ہوئی، جس نے انہیں کمزور کر دیا، تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ کبھی ران کا گوشت نہیں کھائیں گے۔ اسی لیے یہود ہڈیوں سے رگیں نکال دیتے ہیں اور انہیں نہیں کھاتے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 508
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 508، 1683، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15164»