کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا» کا بیان
حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ قَوْلِهِ: { وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا } قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا، أَوْ بَعْدَ مَا اسْتُشْهِدُوا ؟ قَالَ: لَا، بَلْ بَعْدَ مَا شَهِدُوا .
مظاہر امیر خان
محمد بن ثابت العبدی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا، اور میں وہاں موجود تھا۔ اس نے دریافت کیا: اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ ”اور گواہ انکار نہ کریں جب بلائے جائیں“ کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ اس سے پہلے کا حکم ہے کہ انہیں گواہی کے لیے بلایا جائے، یا جب وہ پہلے ہی گواہی دے چکے ہوں؟ عطاء رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”نہیں، بلکہ جب وہ گواہی دے چکے ہوں، اس کے بعد انکار نہیں کرنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 459
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ .
مظاہر امیر خان
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اقامتِ شہادت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب گواہ گواہی دے چکے ہوں، تو اس کے بعد انہیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 460
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ اقامتِ شہادت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب گواہ گواہی دے چکے ہوں، تو اس کے بعد انہیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 461
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: الَّذِي قَدْ أُشْهِدَ وَلَيْسَ الَّذِي لَمْ يَشْهَدْ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہی گواہ ہے جو حاضر ہوچکا ہو، نہ کہ وہ جو موجود نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 462
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: إِذَا كَانَتْ عِنْدَكَ شَهَادَةٌ فَدُعِيتَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب تمہارے پاس گواہی موجود ہو اور تمہیں گواہی کے لیے بلایا جائے، تو اسے پیش کرو۔“
حدیث نمبر: 463
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ وَخَالِدٌ وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إِذَا دُعِيَ لِيَشْهَدَ، وَإِذَا دُعِيَ لِيُقِيمَهَا، فَكِلَاهُمَا .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر کسی کو گواہی دینے کے لیے بلایا جائے یا گواہی کو قائم کرنے کے لیے بلایا جائے، تو دونوں صورتوں میں اسے حاضر ہونا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 464
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: أُدْعَى لِلشَّهَادَةِ وَأَنَا نَسِيٌّ ؟ قَالَ: فَلَا تَشْهَدْ إِنْ نَسِيتَ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر گواہی کے لیے بلایا جائے اور بھول چکے ہو، تو گواہی نہ دو۔“
حدیث نمبر: 465
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قُلْتُ: أُدْعَى لِلشَّهَادَةِ وَأَنَا كَارِهٌ ؟ قَالَ: فَلَا تَشْهَدْ إِنْ شِئْتَ .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر گواہی کے لیے بلایا جائے اور تم اسے ناپسند کرتے ہو، تو اگر چاہو گواہی نہ دو۔“