کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 455
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: { مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ } فَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى، لَا تَجُوزُ .
مظاہر امیر خان
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا اور بچوں کی گواہی کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے جواب میں لکھا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ یعنی ’ان میں سے جن کی گواہی تم پسند کرو‘، بچے ان میں سے نہیں جن کی گواہی کو ہم معتبر سمجھیں، اس لیے ان کی گواہی جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ } - قَالَ: مِنَ الْأَحْرَارِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آزاد مرد ہیں۔“
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللهُ يَقُولُ: { وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ } أَفَلَسْنَ مِنَ النِّسَاءِ ؟ فَقَالَ: وَاللهُ يَقُولُ: { وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ } أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ ؟ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو کیا حکم ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ ظہار کچھ بھی نہیں۔“ پوچھا گیا: ”کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ ’اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں‘، تو کیا وہ لونڈیاں عورتوں میں شامل نہیں؟“ اس پر مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے یہ بھی فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ’اور اپنے لوگوں میں سے دو مرد گواہ بنا لو‘، تو کیا غلاموں کی گواہی جائز ہے؟“ یعنی جیسے گواہی کے معاملے میں مردوں کی قید لگائی گئی اور غلام اس میں شامل نہیں، اسی طرح ”بیویوں“ کے حکم میں بھی آزاد عورتیں مراد ہیں، لونڈیاں نہیں۔