حدیث نمبر: 428
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ } - قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، قَالَ: قُلْتُ: خَاصَّةً ؟ قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزْرَةً، أَوْ مِقْلَاتًا، تَنْذُرُ: لَئِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ، تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الْإِسْلَامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ ؟ فَسَكَتْ عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ } فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا: ”خاص طور پر ان کے لیے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، خاص طور پر ان کے لیے۔“ کیونکہ انصار میں جب کوئی عورت کم اولاد والی یا بانجھ ہوتی تو وہ نذر مانتی کہ اگر اسے بچہ ہوا تو وہ اسے یہودیوں میں دے دے گی تاکہ اس کی عمر دراز ہو۔ جب اسلام آیا تو انصار میں ایسے بچے موجود تھے جو یہودیوں کے ساتھ تھے۔ پھر جب بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا تو انصار نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے بیٹے اور بھائی ان کے ساتھ ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھیوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ تمہیں اختیار کریں تو وہ تم میں شامل ہوں گے، اور اگر وہ انہیں اختیار کریں تو انہیں ان کے ساتھ بھیج دو۔“
حدیث نمبر: 429
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ لَهُ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: جَرِيرٌ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُ: أَسْلِمْ، فَقَالَ: كَذَا كَانَ يُقَالُ لَهُمْ، وَإِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ أُرْضِعُوا فِي قُرَيْظَةَ، وَكَانُوا يَقُولُونَ لَهُمْ: أَسْلِمُوا فَنَزَلَتْ { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ } .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام تھا جسے جرِیر کہا جاتا تھا، وہ اس سے کہہ رہے تھے: ”اسلام قبول کر لو۔“ تو انہوں نے فرمایا: اسی طرح ان سے کہا جاتا تھا، اور کچھ انصار کے لوگ بنی قریظہ میں دودھ شریک تھے، اور وہ ان سے کہا کرتے تھے: اسلام قبول کر لو۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (دین میں کوئی زبردستی نہیں)۔
حدیث نمبر: 430
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الْحَسَنِ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ } - قَالَ: لَا يُكْرَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ عَلَى الْإِسْلَامِ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے آیت ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ کے بارے میں فرمایا: ”اہلِ کتاب کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ وَسَقٍ ؟؟ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ نَصْرَانِيًّا، فَكَانَ يَقُولُ لِي: يَا وَسْقُ ؟؟، أَسْلِمْ، فَإِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ لَوَلَّيْتُكَ بَعْضَ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَلِيَ أَمْرَهُمْ مَنْ لَيْسَ عَلَى دِينِهِمْ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ }، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ أَعْتَقَنِي .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام، جو نصرانی تھا، کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے فرماتے: اے وسق! اسلام قبول کر لو، اگر تم اسلام لے آؤ تو میں تمہیں مسلمانوں کے کچھ معاملات کا نگران بنا دوں گا، کیونکہ ان کے معاملات کی سربراہی وہی کر سکتا ہے جو ان کے دین پر ہو۔ لیکن میں نے انکار کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (دین میں کوئی جبر نہیں)۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 432
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وُهَيْبٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أَعْتَقَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامًا لَهُ مَجُوسِيًّا، يُقَالُ لَهُ مَابُورَا، فَرَأَيْتُهُ عِنْدَ أَبِي يَقْطَعُ الشِّوَاءَ .
مظاہر امیر خان
عبدالملک بن وہیب رحمہ اللہ، مولیٰ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مجوسی غلام، جس کا نام مابورا تھا، آزاد کر دیا۔ میں نے اسے اپنے والد کے پاس دیکھا کہ وہ بھنا ہوا گوشت کاٹ رہا تھا۔