کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَقُلُوبَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: ”اللہ ان کی قبروں اور دلوں کو آگ سے بھر دے، جس طرح انہوں نے ہمیں صلاة الوسطیٰ سے مشغول کر دیا، اور وہ صلاة العصر ہے۔“
حدیث نمبر: 393
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا: ”انہوں نے ہمیں صلاة الوسطیٰ، یعنی صلاة العصر سے مشغول کر دیا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا کی۔
حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، وَأُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ؟ قَالَ: أَنَا هَذَا، قَالَ: هِيَ هَذِهِ الصَّلَاةُ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے صلاة الوسطیٰ کے بارے میں پوچھا، مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر صلاة العصر کی اقامت کہی گئی، اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے صلاة الوسطیٰ کے بارے میں سوال کیا تھا؟“ اس نے عرض کیا: ”میں ہوں۔“ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہی وہ نماز ہے۔“
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى: صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صلاة الوسطیٰ، صلاة العصر ہے۔
حدیث نمبر: 396
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ الطَّائِفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى ؟ قَالَ: أَلَا هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مظاہر امیر خان
عبدالرحمٰن بن لبیبہ الطائفی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: صلاة الوسطیٰ کون سی ہے؟ انہوں نے فرمایا: خبردار! وہ صلاة العصر ہے۔
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَاةُ الْوُسْطَى: صَلَاةُ الصُّبْحِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: صلاة الوسطیٰ صلاة الفجر ہے۔
حدیث نمبر: 398
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: هِيَ صَلَاةُ الصُّبْحِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ صلاة الفجر ہے۔
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: هِيَ صَلَاةُ الصُّبْحِ .
مظاہر امیر خان
طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ صلاة الفجر ہے۔
حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ صلاة العصر ہے۔
حدیث نمبر: 401
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَمَرَتْ بِمُصْحَفٍ لَهَا أَنْ يُكْتَبَ، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتُمْ: { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ } فَلَا تَكْتُبُوهَا حَتَّى تُؤْذِنُونِي . فَلَمَّا أَخْبَرُوهَا أَنَّهُمْ قَدْ بَلَغُوا، قَالَتِ: اكْتُبُوهَا صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مصحف کو لکھوانے کا حکم دیا، اور فرمایا: جب ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ﴾ آیت پر پہنچو تو مجھے اطلاع دینا۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ اس آیت تک پہنچ گئے ہیں، تو فرمایا: اسے یوں لکھو ”صلاة الوسطیٰ صلاة العصر“ یعنی درمیانی نماز، صلاة العصر ہے۔
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: هِيَ صَلَاةُ الصُّبْحِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: صلاة الوسطیٰ سے مراد صلاة الصبح ہے۔
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، أُرَاهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: { حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى } قَالَ: هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ سے مراد صلاة العصر ہے۔
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ } - أَيْ مُطِيعِينَ .
مظاہر امیر خان
عبایہ بن رفاعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ سے مراد اللہ کے فرمانبردار بن کر کھڑے ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ... وَخَفْضُ الْأَيْدِي، وَغَضُّ الْبَصَرِ فِي الصَّلَاةِ .
مظاہر امیر خان
حماد بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز میں ہاتھوں کو نیچا رکھنا اور نظر کو جھکانا چاہیے۔
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: مِنَ الْقُنُوتِ: الرُّكُوعُ، وَالْخُشُوعُ، وَغَضُّ الْبَصَرِ، وَخَفْضُ الْجَنَاحِ مِنْ رَهْبَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ الْعُلَمَاءُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ فِي الصَّلَاةِ، يَهَابُ الرَّحْمَنَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَنْ يَمْتَدَّ بَصَرُهُ، أَوْ يَعْبَثَ بِشَيْءٍ، أَوْ يَلْتَفِتَ، أَوْ يَقْلِبَ الْحَصَا، أَوْ يُحَدِّثَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ مِنْ شَأْنِ الدُّنْيَا إِلَّا نَسْيًا .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: قنوت میں رکوع، خشوع، نظر کا جھکانا، اور اللہ عزوجل کے خوف سے عاجزی شامل ہے۔ علماء جب نماز میں کھڑے ہوتے تو رحمن سبحانہ وتعالیٰ کی ہیبت سے اپنی نظر بلند نہ کرتے، کسی چیز سے نہ کھیلتے، نہ ادھر اُدھر دیکھتے، نہ کنکریاں الٹتے، اور نہ ہی اپنے دل میں دنیاوی معاملات کے بارے میں سوچتے، سوائے جو بھولے سے ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ فِي حَوَائِجِهِمْ كَمَا يَتَكَلَّمُ أَهْلُ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ فِي حَوَائِجِهِمْ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ } .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ نماز میں اپنی ضروریات کے متعلق گفتگو کرتے تھے، جیسے اہل کتاب اپنی نماز میں اپنی ضروریات کے بارے میں بات کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ (اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑے ہو جاؤ)۔
حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ أَحَدُنَا مَنْ إِلَى جَانِبِهِ، فَنَزَلَتْ: { وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ } وَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ، وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نماز میں بات چیت کرتے تھے، ہم میں سے کوئی اپنے پہلو میں بیٹھے شخص سے گفتگو کر لیتا، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ (اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑے ہو جاؤ)، تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور گفتگو سے منع کر دیا گیا۔