کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» کا بیان
حدیث نمبر: 361
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا نَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ: أَنَّ لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبْرِ، يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ مُسُوكَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ، وَيَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ، قَالَ اللهُ: عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ ؟ وَبِي يَغْتَرُّونَ ؟ بِعِزَّتِي، لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ حَيْرَانَ . فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: هَذَا فِي كِتَابِ اللهِ { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ } فَقَالَ الرَّجُلُ: قَدْ عَلِمْنَا فِيمَنْ أُنْزِلَتْ . فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: إِنَّ الْأَمْرَ يَنْزِلُ فِي الرَّجُلِ، ثُمَّ يَكُونُ عَامًّا .
مظاہر امیر خان
محمد بن کعب رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”ہم کچھ کتابوں میں یہ الفاظ پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوتی ہیں، لیکن ان کے دل صبر سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے نرمی کا اظہار کرتے ہیں جیسے وہ بھیڑ کی کھال پہنے ہوئے ہوں، مگر دین کے ذریعے دنیا حاصل کرنے کی چالاکی کرتے ہیں۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں؟ اور مجھ سے دھوکہ کھاتے ہیں؟ میری عزت کی قسم! میں ان پر ایسی آزمائش مسلط کروں گا جو عقلمند کو بھی حیران و پریشان کر دے گی۔“ محمد بن کعب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ بات اللہ کی کتاب میں موجود ہے“ اور پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی باتیں دنیاوی زندگی میں تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہیں)۔ وہ شخص بولا: ”ہم جانتے ہیں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ محمد بن کعب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حکم پہلے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوتا ہے، لیکن پھر وہ سب کے لیے عام ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 361
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف أبي معشر
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ عِبَادَتِي، يَلْبَسُونَ مُسُوكَ الضَّأْنِ، قُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبِرِ ؟ أَبِي يَغْتَرُّونَ ؟ أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ ؟ بِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ .
مظاہر امیر خان
ابو عبیدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”یہ کیا حال ہے کہ کچھ لوگ دین کا علم حاصل کرتے ہیں، لیکن میری عبادت کے لیے نہیں؟ وہ بھیڑ کی کھال پہنے ہوئے ہیں، مگر ان کے دل صبر سے بھی زیادہ سخت ہیں! کیا وہ مجھ سے دھوکہ کھاتے ہیں؟ یا مجھے فریب دینا چاہتے ہیں؟ میری قسم! میں ان پر ایسی آزمائش مسلط کروں گا جو عقلمند کو بھی حیران و پریشان کر دے گی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 362
درجۂ حدیث محدثین: سنده عن أبي عبيدة ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، وأبو عبيدة لم أعرفه
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 362، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 36504»