کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَتْ عُكَاظٌ، وَذُو الْمَجَازِ، وَالْمَجَنَّةُ (أَسْوَاقًا) فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ تَأَثَّمُوا أَنْ يَبِيعُوا فِيهَا فَنَزَلَتْ: { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ } - فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ - .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جاہلیت کے زمانے میں عکاظ، ذو المجاز اور مجنہ بازار تھے، پھر جب اسلام آیا تو لوگ ان میں خرید و فروخت کو گناہ سمجھنے لگے، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم حج کے موسم میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو)۔
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانُوا لَا يَتَّجِرُونَ فِي أَيَّامِ مِنًى، وَيَوْمِ عَرَفَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگ منیٰ کے دنوں اور یوم عرفہ میں تجارت نہیں کرتے تھے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو)۔
حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللهِ، إِنَّا قَوْمٌ نُكْرَى فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَا حَجَّ لَنَا ؟ فَقَالَ لَهُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَ عَنْهُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ } فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ حُجَّاجٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: اے عبداللہ! ہم لوگ تجارت کے لیے کرایہ پر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا حج نہیں ہوتا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا جو تم نے پوچھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا: ”تم لوگ حاجی ہو۔“