کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ» کا بیان
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ } قَالَ: فَرْضُ الْحَجِّ: التَّلْبِيَةُ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے ﴿فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ﴾ کے بارے میں فرمایا: حج کو لازم کرنے کا مطلب تلبیہ کہنا ہے۔
حدیث نمبر: 336
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ - فِي قَوْلِهِ: { وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ } - قَالَ: لَيْسَ فِي الْحَجِّ جِدَالٌ، وَلَا شَكٌّ، وَلَا نِسْيَانٌ فِي الْحَجِّ، الْحَجُّ فِي ذِي الْحِجَّةِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ کے بارے میں فرمایا: حج میں نہ جھگڑا ہے، نہ شک، نہ بھول چوک، حج صرف ذی الحجہ میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: فَرْضُ الْحَجِّ: التَّلْبِيَةُ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: حج کا فرض تلبیہ کہنا ہے۔
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَلا رَفَثَ } قَالَ: الرَّفَثُ الَّذِي ذُكِرَ هَاهُنَا لَيْسَ الرَّفَثَ الَّذِي ذَكَرْتُمْ: { أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ } وَهِيَ الْعَرَابَةُ - بِكَلَامِ الْعَرَبِ - وَالتَّعْرِيضُ بِذِكْرِ النِّكَاحِ .
مظاہر امیر خان
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان «فَلَا رَفَثَ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہاں مذکور ”رفث“ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ﴾۔ بلکہ اس سے مراد عربی زبان میں فحش کلام اور نکاح کا اشارتاً ذکر کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: الْمِرَاءُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رفث“ سے مراد جماع ہے، ”فسوق“ سے مراد گناہ ہیں، اور ”جدال“ سے مراد جھگڑا ہے۔
حدیث نمبر: 340
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: الْمِرَاءُ فِي الْحَجِّ حَتَّى يَغْضَبُوا .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رفث“ سے مراد جماع ہے، ”فسوق“ سے مراد گناہ ہیں، اور ”جدال“ سے مراد حج میں ایسا جھگڑا ہے جو غصے تک پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، أَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رفث سے مراد جماع، فسوق سے مراد گناہ، اور جدال سے مراد ایسا جھگڑا ہے جو غصے تک پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ سے بھی یہی قول منقول ہے۔
حدیث نمبر: 343
وَأَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: الْمِرَاءُ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور مغیرہ رحمہما اللہ نے فرمایا: الرفث (رفث) سے مراد جماع ہے، الفسوق (فسوق) سے مراد معاصی (گناہ) ہیں، اور الجدال (جدال) سے مراد مراء (بحث و تکرار) ہے۔
حدیث نمبر: 344
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: مَعَاصِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْجِدَالُ: الْخُصُومَةُ وَالْمِرَاءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: الرفث (رفث) سے مراد جماع ہے، الفسوق (فسوق) سے مراد اللہ عزوجل کی نافرمانیاں (معاصی) ہیں، اور الجدال (جدال) سے مراد جھگڑا اور بحث و تکرار (خصومت و مراء) ہے۔
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَجَعَلَ يَسُوقُهَا، وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: ¤ وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا إِنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسًا ¤ ذَكَرَ الْجِمَاعَ، وَلَمْ يُكَنِّ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ تَقُولُ الرَّفَثَ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ؟ ! قَالَ: الرَّفَثُ: مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی سواری سے اترے، اسے ہانکنے لگے اور یہ شعر پڑھنے لگے: «وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا، إِنْ تَصْدُقِ الطَّيْرُ نَنِكْ لَمِيسًا» (وہ سبک خرامی سے ہمیں لے جا رہی ہیں، اگر پرندے سچ بولتے ہیں تو ہم لمیس سے ہمبستری کریں گے۔) انہوں نے جماع کا ذکر صریح الفاظ میں کیا اور کوئی کنایہ نہ کیا، میں نے کہا: اے ابوعباس! آپ محرم ہو کر رفث کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: رفث وہ ہے جس میں عورتوں سے براہ راست بات کی جائے۔