کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ } قَالَ: هِيَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ: (إِلَى الْبَيْتِ)، قَالَ: لَا تُجَاوِزُ بِالْعُمْرَةِ الْبَيْتَ، فَإِذَا أُحْصِرْتُمْ، فَإِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ فَأُحْصِرَ، بَعَثَ بِمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَإِنْ هُوَ عَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَحَلَقَ رَأَسَهُ أَوْ مَسَّ طِيبًا أَوْ تَدَاوَى بِدَوَاءٍ كَانَ عَلَيْهِ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةً أَوْ نُسُكٍ، وَالصِّيَامُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ، { فَإِذَا أَمِنْتُمْ } يَقُولُ: إِذَا بَرَأَ فَمَضَى مِنْ وَجْهِهِ ذَلِكَ إِلَى الْبَيْتِ، أَحَلَّ مِنْ حَجَّتِهُ بِعُمْرَةٍ، وَكَانَ عَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ، فَإِنْ هُوَ رَجَعَ وَلَمْ يُتِمَّ مِنْ وَجْهِهِ ذَلِكَ إِلَى الْبَيْتِ كَانَ عَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ وَدَمٌ لِتَأْخِيرِهِ الْعُمْرَةَ، فَإِنْ هُوَ رَجَعَ مُتَمَتِّعًا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ كَانَ عَلَيْهِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ، فَإِنْ هُوَ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَجْعَلُ آخِرَ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ يَوْمَ عَرَفَةَ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: هَكَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ كُلِّهِ .
مظاہر امیر خان
علقمہ رحمہ اللہ، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ کے بارے میں کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی قراءت میں ہے «إِلَى الْبَيْتِ»، کہا: عمرہ کو بیت اللہ سے آگے نہ بڑھاؤ، پھر اگر تم محصور ہو جاؤ، اگر آدمی نے حج کا احرام باندھا اور وہ محصور ہو گیا تو اس نے جو ہدی میسر ہوئی وہ بھیج دی، اگر اس نے ہدی کے محل تک پہنچنے سے پہلے جلدی کی اور سر منڈوایا یا خوشبو لگائی یا دوا سے علاج کیا تو اس پر فدیہ ہے، روزے یا صدقہ یا نسک، اور روزے تین دن کے، صدقہ تین صاع چھ مسکینوں پر، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور نسک ایک بکری، ﴿فَإِذَا أَمِنْتُمْ﴾ یعنی جب وہ تندرست ہو گیا تو اس نے اسی سمت بیت اللہ کی طرف رخ کیا، اپنے حج سے عمرہ کر کے حلال ہو گیا، اور اس پر اگلے سال حج لازم ہوا، اگر وہ واپس لوٹ آیا اور بیت اللہ کی طرف رخ نہ کیا تو اس پر حج اور عمرہ اور عمرہ کو مؤخر کرنے کا دم لازم ہوا، اگر وہ حج کے مہینوں میں متمتع ہو کر واپس آیا تو اس پر جو ہدی میسر ہوئی یعنی ایک بکری، اگر اسے نہ ملا تو تین دن کے روزے حج میں اور سات جب واپس لوٹیں، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: حج کے تین دنوں کے روزوں کا آخری دن عرفہ کا دن بنائے، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں کہا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 287
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وانظر الحديث رقم [٣] فيما يتعلق بتدليس الأعمش
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ } .
مظاہر امیر خان
ابن عون رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ شعبی رحمہ اللہ ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ اس طرح پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 288
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 288، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8845، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13832»
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ إِلَيْنَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ } قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ شَأْنُكَ ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، فَوَقَعَ الْقَمْلُ فِي رَأْسِي وَلِحْيَتِي وَشَارِبِي، حَتَّى وَقَعَ فِي حَاجِبَيَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ هَذَا، ادْعُ الْحَالِقَ، فَجَاءَ الْحَالِقُ، فَحَلَقَ رَأْسِي، فَقَالَ: هَلْ تَجِدُ مِنْ نَسِيكَةٍ ؟ قُلْتُ: لَا - وَهِيَ شَاةٌ -، قَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، تو ہمارے پاس سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ آ کر بیٹھے، انہوں نے کہا: میری وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ﴾، کہا: میں نے پوچھا: آپ کا معاملہ کیسا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محرم ہو کر نکلے، تو میرے سر، داڑھی اور مونچھوں میں جوئیں پڑ گئیں، حتیٰ کہ میری ابروؤں تک پہنچ گئیں، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تکلیف تمہیں اس حد تک پہنچ جائے گی، حجام کو بلاؤ، تو حجام آیا اور اس نے میرا سر منڈوا دیا، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم نسک (فدیہ) کے لیے کچھ پاتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں - اور وہ بکری تھی -، آپ نے فرمایا: تو تین دن روزہ رکھو یا تین صاع چھ مسکینوں کے درمیان کھلاؤ، کہا: اور یہ آیت خاص طور پر میری وجہ سے نازل ہوئی، اور یہ لوگوں کے لیے عام ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 289
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وقد أخرجه البخاري ومسلم كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ، وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ، فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَنَزَلَتْ: { فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ } فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً .
مظاہر امیر خان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت میری وجہ سے نازل ہوئی، اور کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم تھے، مشرکین نے ہمیں محصور کر رکھا تھا، میرا سر بالوں سے بھرا ہوا تھا، تو کیڑے میرے چہرے پر گرنے لگے، پھر یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دیتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو سر منڈواؤ، اور تین دن روزہ رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھلاؤ، یا نسک (فدیہ) ادا کرو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 290
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وقد أخرجه البخاري من طريق هشيم، عن أبي بشر، وأخرجه هو ومسلم من طريق أخرى عن مجاهد كما سيأتي
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، نَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: احْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ . ¤ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: وَقَالَ سُفْيَانُ، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: اذْبَحْ شَاةً، وَقَالَ أَيُّوبُ: انْسُكْ نَسِيكَةً .
مظاہر امیر خان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جب وہ اپنی ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے کیڑے تمہیں تکلیف دیتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: اپنا سر منڈواؤ اور نسک (فدیہ) ادا کرو، یا تین دن روزہ رکھو، یا چھ مسکینوں کے درمیان فرق (صدقہ) کھلاؤ، سعید رحمہ اللہ نے کہا: اور سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن ابی نجیح رحمہ اللہ نے کہا: بکری ذبح کرو، اور ایوب رحمہ اللہ نے کہا: نسک (فدیہ) ادا کرو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 291
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»
حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَلَإِيَّايَ عَنَى بِهَا، { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ } كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْعَدُوُّ، وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ، فَكَانَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ، وَنَزَلَتِ الْآيَةُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ آیت میری وجہ سے نازل ہوئی اور میرا ہی اس سے مراد تھا ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم تھے، دشمن نے ہمیں محصور کر رکھا تھا، میرا سر بالوں سے بھرا ہوا تھا، تو کیڑے میرے چہرے پر گر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: لگتا ہے تمہارے سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو سر منڈواؤ، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 292
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف، والحديث صحيح من غير هذا الوجه.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ: قَمِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ مَا بَيْنَ طَرَفِ كُلِّ شَعَرَةٍ مِنْ رَأْسِي قَمْلَةٌ وَصِيبَانُ، وَكُنْتُ حَسَنَ الشَّعَرِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے سر میں جوئیں ہو گئیں حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ میرے سر کے ہر بال کے درمیان جوئیں اور ان کے انڈے ہیں، اور میرا سر بالوں سے اچھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تین صاع چھ مسکینوں پر صدقہ کرو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 293
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف أخطأ فيه المصنف وشيخه هشيم، والحديث صحيح من غير طريقهما أخرجه مسلم وغيره. 
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُجَاهِدٍ، قَالَا: الصِّيَامُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ فَصَاعِدًا .
مظاہر امیر خان
مغیرہ رحمہ اللہ نے ابراہیم رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے بیان کیا: روزہ تین دن کا، صدقہ چھ مسکینوں پر، اور نسک ایک بکری یا اس سے زیادہ۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 294
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف وهو صحيح لغيره فمغيرة بن مقسم تقدم في الحديث [٥٤] أنه ثقة متقن
تخریج حدیث «أخرجه الترمذي فى (جامعه) برقم: 2973، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 294، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13951»
حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: الصِّيَامُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ فَصَاعِدًا .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: روزے دس دن کے ہیں، صدقہ دس مسکینوں پر ہے، اور قربانی ایک بکری یا اس سے بڑی چیز ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 295
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وصححه الحافظ ابن حجر في "الفتح" (٤/ ١٦) بعد أن عزاه للمصنف سعيد بن منصور.
تخریج حدیث أخرجه سعيد بن منصور في "سننه" (3 / 743) برقم: (295) وابن أبي شيبة في "مصنفه" (8 / 291) برقم: (13952)
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: نَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: مَا صَنَعَ أَبُوكَ فِي الْأَذَى الَّذِي أَصَابَهُ ؟ قَالَ: ذَبَحَ بَقَرَةً
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابن کعب بن عجرہ سے پوچھا: تمہارے والد نے تکلیف کے بدلے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: ایک گائے ذبح کی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 296
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف، ومتنه منكر
تخریج حدیث «أخرجه أبو داود فى (سننه) برقم: 1859، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 296، والطبراني فى(الكبير) برقم: 209، 210، 364، 365، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1270»
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ ذَبَحَ شَاةً فِي الْأَذَى الَّذِي أَصَابَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے اس تکلیف کے بدلے ایک بکری ذبح کی جو انہیں پہنچی تھی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 297
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة محمد بن خالد القرشي، ومتنه منكر لمخالفته للأحاديث
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 297، والطبراني فى(الكبير) برقم: 355»
حدیث نمبر: 298
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: { فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } قَالَ: الشَّاةُ، حَتَّى الْقُيُودِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ سے مراد بکری ہے، حتیٰ کہ پابند جانور بھی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 298
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 246، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 298، 302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8983، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12936، 12939»
قال ابن حجر: أسانيد صحيحة عن ابن عباس فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 623)
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ (عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ)، { فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } قَالَا: النَّاقَةُ دُونَ النَّاقَةِ، وَالْبَقَرَةُ دُونَ الْبَقَرَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہدی اونٹ اور گائے میں سے ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 299
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وقوّى سنده الحافظ ابن حجر في "الفتح" (٣/ ٥٣٥) بعد أن عزاه للطبري، وابن أبي حاتم فقط
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1438، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 299، 317، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8984، 8986، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12927، 12930، 12939، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1100»
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ يَسْتَيْسِرُ عَلَى الرَّجُلِ الْجَزُورُ، وَالْجَزُورَانِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بعض اوقات آدمی کے لیے ایک یا دو اونٹ مہیا کرنا آسان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 300
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ: { فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } قَالَ: شَاةٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ یعنی اس سے مراد بکری ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 301
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف للانقطاع بين أبي جعفر الباقر محمد بن علي بن الحسين وبين جده عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ الله عنه -
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1436، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 301، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8985، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12938»
حدیث نمبر: 302
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَاةٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ اس سے مراد بکری ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 302
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 246، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 298، 302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8983، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12936، 12939»
قال ابن حجر: أسانيد صحيحة عن ابن عباس فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 623)
حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: { فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ } قَالَ: شَاةٌ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ یعنی اس سے مراد بکری ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 303
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 303، 308»
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ .
مظاہر امیر خان
حجاج بن أرطأة رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ کو اسے بکری مراد لیتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 304
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف؛ فيه حجاج بن أرطأة
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 304، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12934»
حدیث نمبر: 305
وَأَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 306
وَأَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 306
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 306، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12926»
حدیث نمبر: 307
وَأَنَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ .
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 307
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف جدًّا لشدة ضعف جويبر
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 308
وَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُمْ قَالُوا: مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ .
مظاہر امیر خان
ابو بشر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ سے مراد بکری ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 308
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وتقدم برقم [٣٠٣] من طريق أبي عوانة، عن أبي بشر.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 303، 308»
حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُنَا يَقُولُونَ: مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب کہا کرتے تھے کہ ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ سے مراد بکری ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 309
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف، فمغيرة بن مِقْسم مدِّلس ولم يُصَرِّح بالسماع
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: هَلْ لَكَ إِلَى هَذَيْنِ الشَّيْخَيْنِ: ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ يَخْتَلِفَانِ فِي الْفُتْيَا ; قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّمَا الشَّاةُ ذَبْحٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ؟ قُلْتُ: أَيُّهُمَا أَصْوَبُ ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: هِيَ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کیا تم ان دو بزرگوں، سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس چلنا پسند کرو گے، جو فتویٰ میں اختلاف کرتے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بکری کا ذبح کرنا ہی کافی ہے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ یعنی جو قربانی میسر ہو۔ میں نے پوچھا: ان میں سے کس کا قول درست ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہی وہ قربانی ہے جو میسر ہو۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 310
درجۂ حدیث محدثین: سنده فيه عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ، وتقدم أني لم أجده، والحكم على الحديث متوقف على معرفة حاله. وقد صح عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عنهما - من طرق كثيرة أنه يرى أن الشاة تجزئ في الهدي، وهو قول الجمهور كما سبق بيانه في الحديث [٢٩٨]
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ الْأَزْوَاجِ الثَّمَانِيَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آٹھ اقسام کے جانوروں میں سے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 311
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن، وهو صحيح لغيره بما سيأتي له من طرق وشواهد.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 311، 312، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10262، 10263، 19151»
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ الْأَزْوَاجِ الثَّمَانِيَةِ: مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، وَالضَّأْنِ، وَالْمَعْزِ، عَلَى قَدْرِ الْمَيْسَرَةِ مَا عَظُمَتْ فَهُوَ أَفْضَلُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آٹھ اقسام میں سے اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری، استطاعت کے مطابق، جو بڑا ہو وہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 312
درجۂ حدیث محدثین: سنده فيه أبو إسحاق السبيعي، والحديث صحيح لغيره، فقد مضى برقم [٣١١] بإسناد حسن
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 311، 312، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10262، 10263، 19151»
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْأَصْفَرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَتُجْزِئُ الْمُتَمَتِّعَ شَاةٌ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كُلُّكُمْ شَاةٌ ؟ - مَرَّتَيْنِ - أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا شَاةٌ . ؟
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیا تمتع کرنے والے کے لیے بکری کافی ہے؟ تو انہوں نے دو مرتبہ فرمایا: تم سب بکری ہو؟ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ قیامت کے دن اس کے پاس اللہ کے ہاں صرف ایک بکری ہو؟
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 313
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 313، 314»
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَتُجْزِئُ الْمُتَمَتِّعَ شَاةٌ ؟ فَقَالَ: كُلُّكُمْ شَاةٌ ؟ - كَأَنَّهُ يَحْكِيهَا - وَكَرِهَهَا فِي الْمُتْعَةِ .
مظاہر امیر خان
غیلان بن جریر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا تمتع کرنے والے کے لیے بکری کافی ہے؟ تو انہوں نے (طنزیہ انداز میں) کہا: تم سب بکری ہو؟ اور انہوں نے تمتع میں اسے ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 314
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 313، 314»
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: الصَّوْمُ لِلْمُتَمَتِّعِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الشَّاةِ .
مظاہر امیر خان
وبرة رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: تمتع کرنے والے کے لیے روزہ رکھنا میرے نزدیک بکری سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 315
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 315، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12929، 12937»
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: « فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ » قَالَ: بَقَرَةٌ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَاةٌ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ سے مراد گائے ہے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بکری۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 316
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف خصيف من قبل حفظه، وهو صحيح لغيره لمجيئه من غير طريق خصيف،
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 316، 317، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12927»
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الزُّهْرِيُّ، سُئِلَ عَمَّا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِنَ الْغَنَمِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی میں میسر چیز اونٹوں اور گایوں میں سے ہے“؛ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بھیڑوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 317
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف لانقطاعه بين الزهري وابن عمر وابن عباس
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1438، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 299، 316، 317، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8984، 8986، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12927، 12930، 12939، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1100»
حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ، أَوْ: بَدَنَةٌ، أَوْ: بَقَرَةٌ، أَوْ: شِرْكٌ فِي دَمٍ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ سے مراد بکری، یا اونٹ، یا گائے، یا کسی قربانی میں شریک ہونا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 318
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1567، 1688، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1242، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 318، 319، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8955، 8982، 10261، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2192، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2872، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12923، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3664، 6239، 6240، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12962»
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، قَالَ: نَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ الْمُتْعَةِ فِي الْحَجِّ، فَأَمَرَنِي بِهَا، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الذَّبْحِ، فَقَالَ: نَاقَةٌ، أَوْ بَقَرَةٌ، أَوْ شَاةٌ، أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ .
مظاہر امیر خان
ابو جمرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حج میں تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کا حکم دیا، اور قربانی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اونٹ، یا گائے، یا بکری، یا کسی قربانی میں شرکت۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 319
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1567، 1688، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1242، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 318، 319، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8955، 8982، 10261، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2192، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2872، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12923، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3664، 6239، 6240، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12962»
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: الْجَزُورُ، وَالْبَقَرَةُ، عَنْ سَبْعَةٍ يَشْتَرِكُ فِيهِ الْمُضَحُّونَ، وَالْمُتَمَتِّعُونَ، وَالْمَحْصُورُونَ
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اونٹ اور گائے میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں، خواہ وہ قربانی کرنے والے ہوں، تمتع کرنے والے ہوں یا احصار میں مبتلا ہوں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف، فحجّاج بن أَرْطأَةْ تقدم في الحديث [١٧٠] أنه صدوق كثير الخطأ والتدليس، ولم يصرِّح بالسماع هنا.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 320، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12943»
حدیث نمبر: 321
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: مَنْ لَمْ يَصُمِ الثَّلَاثَةَ أَيَّامٍ الَّتِي فِي الْحَجِّ آخِرُهَا يَوْمُ عَرَفَةَ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْهَدْيُ . قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ؟ قَالَ: فَلْيَبِعْ ثَوْبَهُ . وَزَادَ هُشَيْمٌ: وَيَشْتَرِي شَاةً بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص حج کے دوران تین روزے نہ رکھے، جن کا آخری دن عرفہ ہے، تو اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔ ابو بشر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سعید سے پوچھا، اگر کسی کے پاس نہ ہو (قربانی کے لیے)؟ تو فرمایا: وہ اپنا کپڑا بیچ دے۔ ہشیم رحمہ اللہ کی روایت میں اضافہ ہے: اور تین درہم میں بکری خرید لے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 321
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وقد صرّح هشيم بالسماع في رواية ابن جرير الآتية، وتابعه هنا أبو عوانة.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 321، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15384»
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، (وَعَنْ) طَاوُسٍ قَالَا فِي الْمُتَمَتِّعِ: قَالَ: إِنْ شَاءَ صَامَ يَوْمًا مِنْ شَوَّالٍ، وَيَوْمًا مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَيَوْمًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد اور طاؤس رحمہما اللہ تمتع کرنے والے کے بارے میں فرماتے ہیں: اگر چاہے تو ایک روزہ شوال میں، ایک ذیقعدہ میں، اور ایک ذی الحجہ میں رکھ لے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 322
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح إلى مجاهد وطاوس، وقد صرح ابن أبي نجيح بالسماع في رواية ابن جرير الآتية.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 322، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13137»
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَا يَصُومُ إِلَّا فِي الْعَشْرِ، فَإِنْ فَاتَهُ الصِّيَامُ، أَهَرَاقَ دَمًا .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ (متمتع) صرف عشرہ ذی الحجہ میں روزے رکھے، پس اگر روزے فوت ہو جائیں تو دَم (قربانی) دے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 323
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف، عبد الله بن أبي نجيح تقدم في الحديث [١٨٤] أنه ثقة ربما دلس، ولم يصرح بالسماع هنا، لكن قوله: ((لَا يَصُومُ إِلَّا فِي الْعَشْرِ)) صحيح لغيره، وقوله: ((فَإِنْ فَاتَهُ الصِّيَامُ، أَهْرَاقَ دَمًا)) حسن لغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 323، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13137، 13139»
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: يَصُومُ الْمُتَمَتِّعُ فِي السَّفَرِ، وَلَا يَصُومُ إِلَّا فِي الْعَشْرِ، وَيَجْعَلُ آخِرَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ، وَإِنْ فَاتَهُ أَهَرَاقَ لِذَلِكَ دَمًا .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: متمتع سفر میں روزے رکھے اور صرف عشرہ ذی الحجہ میں روزے رکھے، آخری روزہ یوم عرفہ کو رکھے، پس اگر یہ فوت ہو جائے تو اس کے بدلے دَم دے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 324
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 324، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13136، 13231»
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ، وَحَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ - فِي قَوْلِهِ: { وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ } - قَالَ: هِيَ رُخْصَةٌ، وَإِنْ شَاءَ صَامَ فِي السَّفَرِ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ آیت ﴿وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ رخصت ہے، اور اگر چاہے تو سفر میں روزے رکھ لے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 325
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 325، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13154»
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ مِثْلَ قَوْلِ عَطَاءٍ قَالَ: هِيَ رُخْصَةٌ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے بھی عطاء رحمہ اللہ کے قول کی طرح فرمایا: ”یہ رخصت ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 326
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 326، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13155»