کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، فَبَدَرَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ وَاللهُ يَقُولُ: { وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ } ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؟ إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ بِقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے سامنے آئے اور ہم امید کر رہے تھے کہ وہ ہمیں کوئی اچھی حدیث سنائیں گے۔ اس دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور پوچھا: ”اے ابو عبدالرحمن! آپ فتنے کے دوران لڑائی کے بارے میں کیا کہتے ہیں، حالانکہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: «وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ»؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”تمہیں فتنے کا کیا علم ہے؟ تمہاری ماں تمہیں غمگین کرے! محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے جنگ کرتے تھے، اور ان کا دین میں داخل ہونا فتنہ تھا، لیکن تمہاری یہ لڑائیاں ملک کے لیے نہیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ } قَالَ: تَرْكُ النَّفَقَةِ .
مظاہر امیر خان
شقیق رحمہ اللہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ عزوجل کے فرمان: «وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ» کے بارے میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا مطلب ہے خرچ نہ کرنا (یعنی اپنی ضروریات پر خرچ سے گریز کرنا)۔“
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: بِمَنْعِكُمُ النَّفَقَةَ فِي سَبِيلِ اللهِ مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تمہاری طرف سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رکنا، یہ خوف فقر (غربت یا افلاس) کی وجہ سے ہے۔“