کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 261
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ سَوَّارِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ } قَالَ: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کے فرمان ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ کا مطلب ہے کہ ہر مہینے میں تین دن کے روزے فرض کیے گئے تھے۔
حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: نَسَخَ شَهْرُ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ .
مظاہر امیر خان
ابو جعفر رحمہ اللہ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزوں نے تمام سابقہ روزوں کو منسوخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 263
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ } قَالَ: هُوَ الْكَبِيرُ الَّذِي كَانَ يَصُومُهُ فَعَجَزَ، وَالْمَرْأَةُ الْحُبْلَى الَّتِي يَشُقُّ عَلَيْهَا، فَعَلَيْهِمَا طَعَامُ مِسْكِينٍ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى يَنْقَضِيَ شَهْرُ رَمَضَانَ .
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ» کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد وہ بوڑھا شخص ہے جو روزہ رکھتا تھا مگر اب اس کی طاقت نہیں رکھتا، اور وہ حاملہ عورت جس کے لیے روزہ رکھنا دشوار ہو، تو ان دونوں پر لازم ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں یہاں تک کہ رمضان مکمل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ } يَعْنِي: مِنَ الَّذِينَ بَلَغُوا الْأَعْمَالَ فَوَجَبَ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، فَمَنْ كَانَ مِنْ هَؤُلَاءِ بِهِ عِلَّةٌ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُطَاسٍ أَوْ ذَا عِلَّةٍ مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ مَعْذُورَةٍ فَتَرَكَ الصِّيَامَ - أَوِ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ - فَعَلَيْهِ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ لِكُلِّ يَوْمٍ { فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا } يَعْنِي يُطْعِمُ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينَيْنِ، { وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ } مِنْ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
زیاد بن ابی مریم رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ» کے بارے میں فرمایا: یعنی وہ لوگ جو اعمال (عبادت) کی عمر کو پہنچ چکے ہوں، تو ان پر روزہ فرض ہے، پس جو ان میں سے کسی بیماری، زکام، یا کسی اور عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے، یا بہت بوڑھا ہو، تو اس پر ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی فدیہ لازم ہے۔ ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ یعنی اگر کوئی ہر دن دو مسکینوں کو کھانا کھلا دے تو بہتر ہے، ﴿وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ یعنی روزہ رکھنا اس سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: (وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ)، وَقَالَ: لَوْ كَانَ " يُطِيقُونَهُ " إِذًا صَامُوا .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ﴾ کو «وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ» پڑھتے تھے اور فرمایا: اگر «يُطِيقُونَهُ» ہوتا تو وہ روزہ رکھتے۔
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، كَانَ يَقْرَأُ: (وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ)، وَيَقْرَأُ: إِنَّ الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ هُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَهُ، وَالَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ هُمُ الَّذِينَ ضَعُفُوا، عَلَيْهِمُ الْفِدْيَةُ .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ﴾ کو «وَعَلَى الَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ» پڑھتے تھے اور فرمایا: «إِنَّ الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ» سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں، اور «وَالَّذِينَ يُطَوَّقُونَهُ» سے مراد وہ لوگ ہیں جو کمزور ہو گئے، ان پر فدیہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَفَسَّرَهَا، فَلَمَّا أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ قَرَأَ: { طَعَامُ مِسْكِينٍ } .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے منبر پر سورہ البقرہ کی تلاوت کی اور اس کی تفسیر بیان کی، جب اس آیت پر پہنچے تو یوں پڑھا: «طَعَامُ مِسْكِينٍ»۔
حدیث نمبر: 268
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ .
مظاہر امیر خان
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 269
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ } .
مظاہر امیر خان
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما «فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ» پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 270
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: { فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ } .
مظاہر امیر خان
عبید اللہ رحمہ اللہ، نافع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما «فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ» پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 271
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
عباد بن راشد رحمہ اللہ اور دیگر رواۃ، حسن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بھی اسے اسی طرح پڑھتے تھے۔