کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ } قَالَ: كَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ لِلْوَالِدَيْنِ، وَأُثْبِتَ لَهُمَا نَصِيبُهُمَا فِي سُورَةِ النِّسَاءِ، وَنُسِخَ مِنَ الْأَقْرَبِينَ كُلُّ وَارِثٍ، وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْأَقْرَبِينَ الَّذِينَ لَا يَرِثُونَ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ یعنی موت کے وقت والدین اور اقرباء کے لیے وصیت کا حکم تھا، پھر اس میں سے والدین کے لیے وصیت منسوخ کر دی گئی اور ان کا حصہ سورہ النساء میں مقرر کر دیا گیا، اور اقرباء میں سے ہر وہ شخص جسے وراثت ملنی تھی، اس کے لیے وصیت کا حکم منسوخ ہو گیا، البتہ جو اقرباء وارث نہیں بنتے، ان کے لیے وصیت کا حکم باقی رہا۔
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لَهَا رَجُلٌ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، قَالَتْ: كَمْ مَالُكَ ؟ قَالَ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، قَالَتْ: كَمْ عِيَالُكَ ؟ قَالَ: أَرْبَعَةٌ، قَالَتْ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { إِنْ تَرَكَ خَيْرًا } وَإِنَّ هَذَا الشَّيْءَ يَسِيرٌ، فَاتْرُكْهُ لِعِيَالِكَ فَهُوَ أَفْضَلُ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی نے کہا: میں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: تین ہزار۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے اہل و عیال کتنے ہیں؟ اس نے کہا: چار۔ تو انہوں نے فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ یعنی اگر مال و دولت چھوڑے، اور یہ مال تو تھوڑا ہے، اسے اپنے اہل و عیال کے لیے چھوڑ دو، یہی بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: مَا مِنْ مَالٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ مَالٍ يَتْرُكُهُ الرَّجُلُ لِوَلَدِهِ، يُغْنِيهِمْ عَنِ النَّاسِ .
مظاہر امیر خان
عامر الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی مال اس مال سے زیادہ اجر والا نہیں جو آدمی اپنے بچوں کے لیے چھوڑ جائے تاکہ وہ لوگوں سے بے نیاز رہیں۔
حدیث نمبر: 250
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا تَرَكَ الْمَيِّتُ سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ فَلَا يُوصِي .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب میت سات سو درہم چھوڑے تو وصیت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى صَدِيقٍ لَهُ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: { إِنْ تَرَكَ خَيْرًا } وَإِنَّكَ إِنَّمَا تَدَعُ شَيْئًا يَسِيرًا، فَدَعْهُ لِعِيَالِكَ، فَهُوَ أَفْضَلُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ایک بیمار دوست کی عیادت کے لیے گئے، اس شخص نے کہا: میں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ اور تم جو کچھ چھوڑ رہے ہو، وہ تھوڑا سا ہے، اسے اپنے اہل و عیال کے لیے چھوڑ دو، یہی بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 252
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ نُسِخَ هَذَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ کے منبر پر یہ آیت پڑھی، پھر فرمایا: یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ الْوَصِيَّةَ كَانَتْ قَبْلَ الْمِيرَاثِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْمِيرَاثُ نَسَخَ الْمِيرَاثُ مَنْ يَرِثُ، وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ، فَهِيَ ثَابِتَةٌ، فَمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَةٍ لَمْ تَجُزْ وَصِيَّتُهُ ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ .
مظاہر امیر خان
طاووس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: وصیت کا حکم وراثت سے پہلے تھا، پھر جب وراثت کا حکم نازل ہوا تو ورثاء کے حق میں وصیت منسوخ ہو گئی اور جو وارث نہیں وہ وصیت کے حق دار رہے، پس یہ (حکم) باقی ہے، تو جو شخص کسی غیر قریبی کے لیے وصیت کرے تو اس کی وصیت جائز نہیں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 254
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ فَلِلَّذِينَ أَوْصَى لَهُمْ ثُلُثُ الثُّلُثِ، وَلِقَرَابَتِهِ ثُلُثَا الثُّلُثِ .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: جو شخص اپنے غیر قریبی کے لیے وصیت کرے تو جن کے لیے اس نے وصیت کی ہے، انہیں تہائی کے تہائی کا حصہ ملے گا، اور اس کے قریبی رشتہ داروں کو تہائی کے دو حصے ملیں گے۔