حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: { وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ } قَالَ: الْبَهَائِمُ إِذَا أَسْنَتَتِ الْأَرْضُ قَالَتِ الْبَهَائِمَ: هَذَا مِنْ أَجْلِ عُصَاةِ بَنِي آدَمَ، لَعَنَ اللهُ عُصَاةَ بَنِي آدَمَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے آیت ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ کی تفسیر میں کہا کہ جب زمین خشک سالی کا شکار ہو جاتی ہے تو جانور کہتے ہیں: یہ بنی آدم کے نافرمانوں کی وجہ سے ہے۔ اللہ بنی آدم کے نافرمانوں پر لعنت کرے۔
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: { وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ } قَالَ: دَوَابُّ الْأَرْضِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ سے مراد زمین کے جانور ہیں۔
حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ (1)، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: { وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ } قَالَ: الْجِنُّ وَالْإِنْسُ وَكُلُّ دَابَّةٍ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ سے مراد جن، انسان اور ہر جاندار مخلوق ہے۔
وضاحت:
(1) یہ عبارت دار الصميعي کی طباعت کے محقق کی تحقیق سے متعلق ہے۔ محقق کا کہنا ہے کہ مخطوطہ میں جو نام آیا ہے، وہ کسی معروف راوی کے مطابق نہیں ہے، اور غالباً اس میں تصحیف (تحریفی غلطی) ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں درست نام ”عبد الملك بن أبي سليمان“ ہونا چاہیے، کیونکہ یہی راوی عطاء بن أبي رباح سے روایت کرتا ہے اور اس سے خالد بن عبد الله الطحان الواسطي روایت لیتے ہیں۔ عبد الملك بن أبي سليمان ثقہ اور حافظ تھے، لیکن کبھی کبھار غلطی بھی کر جاتے تھے۔ مزید یہ کہ ابن أبي حاتم نے بھی یہ اثر روایت کیا ہے اور وہاں راوی کا نام ”عبد الملك“ بغیر نسبت کے آیا ہے۔