کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» کا بیان
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: { وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا } قَالَ: عَدْلًا، { لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ } قَالَ: يُؤْتَى بِالنَّبِيِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُ رَجُلٌ لَمْ يَتْبَعْهُ غَيْرُهُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلَانِ لَمْ يَتْبَعْهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَيُقَالُ لِلنَّبِيِّ: هَلْ بَلَّغْتَ هَؤُلَاءِ ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُمْ: هَلْ بَلَّغَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَنْ يَشْهَدُ لَكُمْ أَنَّكُمْ قَدْ بَلَّغْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَشْهَدُونَ لَهُمْ بِالْبَلَاغِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا يُدْرِيكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَا بِذَلِكَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: { جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا } يَقُولُ: عَدْلًا، { لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ } قَالَ: عَلَى هَذِهِ الْأُمَمِ أَنَّهُمْ قَدْ بُلِّغُوا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ کے بارے میں فرمایا: یعنی ”عدل والی امت“، ﴿لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾ یعنی ”تم لوگوں پر گواہ بنو گے“۔ قیامت کے دن ایک نبی لایا جائے گا جس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہوگا، اور ایک نبی ہوگا جس کے ساتھ دو آدمی ہوں گے، اور کسی کے ساتھ اس سے زیادہ ہوں گے، پھر نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے ان لوگوں تک پیغام پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے: ہاں۔ پھر ان لوگوں سے پوچھا جائے گا: کیا تمہارے پاس پیغام پہنچا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر نبی سے کہا جائے گا: تمہارے گواہ کون ہیں؟ وہ کہیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔ پس امت محمدیہ انبیاء کی تصدیق کرے گی کہ انہوں نے پیغام پہنچایا تھا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم؟ وہ کہیں گے: ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ انبیاء نے پیغام پہنچایا ہے، پس ہم نے اس کی تصدیق کی۔ یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے ﴿جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ یعنی ”عدل والی امت“، ﴿لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾ یعنی ”تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو“۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3339، 4487، 7349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6477، 7216، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3080، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10939، 10940، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2961، 2961 م، 2961 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4284، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 222، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11226، 11443، 11456، 11736، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1173، 1207، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 913، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32342»