کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ نَقْرَأُ: { وَاتَّبَعُوا } أَوِ (اتَّبَعُوا) ؟ قَالَ: هُمَا سَوَاءٌ، اقْرَأْ قِرَاءَتَكَ الْأُولَى .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”ہم «وَاتَّبَعُوا» پڑھیں یا «اتَّبَعُوا»؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”دونوں برابر ہیں، اپنی پہلی قراءت ہی پڑھو۔“
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ } قَالَ: كَانَ سُلَيْمَانُ إِذَا نَبَتَتِ الشَّجَرَةُ قَالَ: لِأَيِّ دَاءٍ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ: لِكَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا نَبَتَتْ شَجَرَةُ الْحُرْنُوبَةِ الشَّامِيُّ، قَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ ؟ قَالَتْ: لِمَسْجِدِكَ أُخَرِّبُهُ، قَالَ: تُخَرِّبِينَهُ ؟ ! قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: بِئْسَ الشَّجَرَةُ أَنْتِ ! فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ تُوُفِّيَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ فِي مَرْضَاهُمْ: لَوْ كَانَ لَنَا مِثْلُ سُلَيْمَانَ ! فَأَخَذُوا الشَّيَاطِينَ، فَأَخَذُوا كِتَابًا فَجَعَلُوهُ فِي مُصَلَّى سُلَيْمَانَ، فَقَالُوا: نَحْنُ نَدُلُّكُمْ عَلَى مَا كَانَ سُلَيْمَانُ يُدَاوِي بِهِ، فَانْطَلَقُوا فَاسْتَخْرَجُوا ذَلِكَ الْكِتَابَ فَإِذَا فِيهِ سِحْرٌ وَرُقًى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: (وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ)، وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ: (وَمَا يُتْلَى عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ) - سَبْعَ مِرَارٍ -، فَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ يَكْفُرَ عَلَّمَاهُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُ نَارٌ - أَوْ نُورٌ -، حَتَّى يَسْطَعَ فِي السَّمَاءِ، قَالَ: الْمَعْرِفَةُ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُ .
مظاہر امیر خان
خصیف رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے قول ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ﴾ کے بارے میں کہا: جب کوئی درخت اگتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پوچھتے: تو کس بیماری کے لیے ہے؟ وہ کہتا: فلاں فلاں کے لیے، جب شامی حُرنوبہ کا درخت اگا تو انہوں نے پوچھا: تو کس چیز کے لیے ہے؟ اس نے کہا: تیری مسجد کو خراب کرنے کے لیے، انہوں نے فرمایا: تو اسے خراب کرے گی؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے فرمایا: تو بدترین درخت ہے! پھر جلد ہی ان کا وصال ہو گیا، لوگ اپنی بیماریوں میں کہنے لگے: کاش ہمارے پاس سلیمان جیسا کوئی ہوتا! شیاطین نے ایک کتاب لی اور اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مصلے میں رکھ دیا اور کہا: ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ سلیمان کس چیز سے علاج کرتے تھے، لوگ گئے اور وہ کتاب نکالی تو اس میں جادو اور تعویذات تھے، تب اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾، اور ذکر کیا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ہے: ﴿وَمَا يُتْلَىٰ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾، سات مرتبہ، اگر وہ کفر سے باز نہ آیا تو اسے سکھایا، پھر اس سے آگ یا نور نکلتا جو آسمان میں چمکتا، انہوں نے کہا: یہ وہ معرفت تھی جو وہ جانتے تھے۔
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مُجَاهِدٍ، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ حِينَ جَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ وَمَا يَرْكَبُونَ مِنَ الْمَعَاصِي الْخَبِيثَةِ - وَلَيْسَ يَسْتُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ شَيْءٌ -، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَقُولُ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا إِلَى بَنِي آدَمَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ كَذَا وَكَذَا، مَا أَجْرَأَهُمْ عَلَى اللهِ - يَعِيبُونَهُمْ بِذَلِكَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ: قَدْ سَمِعْتُ الَّذِي تَقُولُونَ فِي بَنِي آدَمَ، فَاخْتَارُوا مِنْكُمْ مَلَكَيْنِ أُهْبِطُهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، وَأَجْعَلُ فِيهِمَا شَهْوَةَ بَنِي آدَمَ . فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ، لَيْسَ فِينَا مِثْلُهُمَا، فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، وَجَعَلَ فِيهِمَا شَهْوَةَ بَنِي آدَمَ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزَّهْرَةُ فِي صُورَةِ امْرَأَةٍ، فَلَمَّا نَظَرَا إِلَيْهَا لَمْ يَتَمَالَكَا أَنْ تَنَاوَلَا مِنْهَا مَا اللهُ أَعْلَمُ بِهِ، وَأَخَذَتِ الشَّهْوَةُ بِأَسْمَاعِهِمَا وَأَبْصَارِهِمَا، فَلَمَّا أَرَادَا أَنْ يَطِيرَا إِلَى السَّمَاءِ لَمْ يَسْتَطِيعَا، فَأَتَاهُمَا مَلَكٌ فَقَالَ: إِنَّكُمَا قَدْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا أَوْ عَذَابَ الْآخِرَةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَاذَا تَرَى ؟ قَالَ: أَرَى أَنْ أُعَذَّبَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعَذَّبَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعَذَّبَ سَاعَةً وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ، فَهُمَا مُعَلَّقَانِ مُنَكَّسَانِ فِي السَّلَاسِلِ، وَجُعِلَا فِتْنَةً .
مظاہر امیر خان
خصیف رحمہ اللہ نے کہا: میں مجاہد رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، ہمارے پاس قریش کا ایک آدمی گزرا، مجاہد نے اس سے کہا: ہمیں بتاؤ جو تم نے اپنے باپ سے سنا، اس نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ جب فرشتوں نے بنی آدم کے اعمال اور ان کی گندی نافرمانیوں کو دیکھنا شروع کیا، اور لوگوں کو فرشتوں سے کچھ بھی نہیں چھپتا، تو کچھ فرشتوں نے ایک دوسرے سے کہا: بنی آدم کو دیکھو، وہ کیسے کیسے کام کرتے ہیں، اللہ پر کتنے دلیر ہیں، وہ ان پر تنقید کرتے تھے، اللہ عزوجل نے ان سے فرمایا: میں نے تمہاری باتیں بنی آدم کے بارے میں سن لیں، اپنے میں سے دو فرشتوں کا انتخاب کرو، میں انہیں زمین پر اتاروں گا اور ان میں بنی آدم کی شہوت ڈال دوں گا، انہوں نے ہاروت اور ماروت کو چنا، انہوں نے کہا: اے رب! ہم میں ان جیسا کوئی نہیں، چنانچہ وہ زمین پر اتارے گئے اور ان میں بنی آدم کی شہوت ڈال دی گئی، زہرہ ان کے سامنے عورت کی شکل میں ظاہر کی گئی، جب انہوں نے اسے دیکھا تو خود کو نہ روک سکے اور اس سے وہ کچھ لیا جو اللہ کو بہتر معلوم ہے، شہوت نے ان کے کانوں اور آنکھوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ آسمان کی طرف اڑنا چاہتے تو نہ اڑ سکے، ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور کہا: تم نے جو کیا سو کیا، اب دنیا کا عذاب چنو یا آخرت کا، ایک نے دوسرے سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ دنیا میں عذاب سہوں پھر عذاب سہوں، یہ مجھے آخرت میں ایک گھڑی کے عذاب سے زیادہ پسند ہے، چنانچہ وہ دونوں زنجیروں میں الٹے لٹکائے گئے اور فتنہ بنا دیے گئے۔
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: فِي سَفَرٍ - فَقَالَ لِي: ارْمُقِ الْكَوْكَبَةَ، فَإِذَا طَلَعَتْ أَيْقِظْنِي، فَلَمَّا طَلَعَتْ أَيْقَظْتُهُ فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَسُبُّهَا سَبًّا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَجْمًا سَامِعًا مُطِيعًا، مَا لَهُ يُسَبُّ ؟ فَقَالَ: هَا، إِنَّ هَذِهِ كَانَتْ بَغِيًّا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَقِيَ الْمَلَكَانِ مِنْهَا مَا لَقِيَا .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، غالباً سفر میں، انہوں نے مجھ سے کہا: ستاروں کے جھرمٹ کو دیکھتے رہو، جب وہ طلوع ہو تو مجھے جگا دینا، جب وہ طلوع ہوا تو میں نے انہیں جگایا، وہ بیٹھ گئے اور اسے بہت برا بھلا کہنے لگے، میں نے کہا: ابا عبدالرحمن! اللہ آپ پر رحم کرے، یہ تو ایک سننے والا اور فرمانبردار ستارہ ہے، اسے کیوں برا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: سنو! یہ بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی، اس سے دو فرشتوں کو وہی کچھ سہنا پڑا جو سہنا پڑا۔
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ فَقَالَ: مِنَ الْعِرَاقِ، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ النَّاسَ وَرَاءَكَ ؟ قَالَ: تَرَكْتُ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا سَوْفَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: لَوْ شَعَرْنَا مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ ؛ إِنَّ الشَّيَاطِينَ كَانَتْ تَسْتَرِقُ السَّمْعَ فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُهُمْ كَلِمَةَ حَقٍّ كَذَبَ مَعَهَا أَلْفَ كِذْبَةٍ، فَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُ النَّاسِ وَاتَّخَذُوهَا دَوَاوِينَ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ، فَدَفَنَهَا تَحْتَ كُرْسِيِّهِ، فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ، قَامَ شَيَاطِينُ بِالطَّرِيقِ، فَقَالَتْ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِ سُلَيْمَانَ الْمُمَنَّعِ الَّذِي لَا كَنْزَ لَهُ مِثْلَهُ ؟ فَاسْتَخْرَجُوهَا، قَالُوا: سِحْرٌ، وَإِنَّ بَقِيَّتَهَا هَذَا يَتَحَدَّثُ بِهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ، وَأَنْزَلَ اللهُ عُذْرَ سُلَيْمَانَ فِيمَا قَالُوا مِنَ السِّحْرِ: { وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے، انہوں نے پوچھا: وہاں کے لوگوں کو کیسے چھوڑا؟ اس نے کہا: میں لوگوں کو اس بات پر گفتگو کرتے چھوڑ آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس دوبارہ آئیں گے، انہوں نے فرمایا: اگر ہمیں معلوم ہوتا تو نہ ان کی بیویوں کی شادی کرتے اور نہ ان کا ورثہ تقسیم کرتے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں، شیاطین آسمان سے چھپ کر باتیں سنتے تھے، جب ان میں سے کوئی ایک سچی بات سنتا تو اس کے ساتھ ہزار جھوٹ ملاتا، لوگوں کے دلوں میں وہ باتیں بٹھا دی گئیں اور انہوں نے انہیں دیوان بنا لیا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے جان لیا اور اپنے تخت کے نیچے دفن کر دیا، جب ان کا وصال ہوا تو شیاطین نے راستے پر کھڑے ہو کر کہا: کیا میں تمہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس نایاب خزانے کی طرف نہ بتاؤں جس کا کوئی خزانہ برابر نہیں؟ لوگوں نے اسے نکالا، کہا: یہ جادو ہے، اور اس کا باقی حصہ آج کل اہل عراق بیان کرتے ہیں، اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عذر کو جادو کے الزام سے بری کرنے کے لیے نازل فرمایا: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ﴾ سے آخر آیت تک۔