کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» کا بیان
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ، قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ } قَالَ: رَبِّ خَلَقْتَنِي بِيَدِكَ، وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوحِكَ، فَسَبَقَتْ رَحْمَتُكَ غَضَبَكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ تُبْتُ وَأَصْلَحْتُ هَلْ أَنْتَ رَادَّنِي إِلَى الْجَنَّةِ ؟ قَالَ: قِيلَ: نَعَمْ .
مظاہر امیر خان
حسن بن یزید اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سدی رحمہ اللہ کو اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہوئے سنا: ﴿فَتَلَقَّىٰ آدمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ (پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے)۔ سدی رحمہ اللہ نے فرمایا: آدم علیہ السلام نے عرض کیا: ”اے رب! تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنی روح میں سے مجھ میں پھونکا، اور تیری رحمت تیرے غضب پر سبقت لے گئی۔ اگر میں توبہ کروں اور اپنی اصلاح کر لوں، تو کیا تو مجھے جنت میں واپس لوٹا دے گا؟“ تو کہا گیا: ”ہاں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 186
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح عن السُّدِّي
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»