کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «الم * ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ» کا بیان
حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: ذَكَرُوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِيمَانَهُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ أَمْرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيِّنًا لِمَنْ رَآهُ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا آمَنَ مُؤْمِنٌ أَفْضَلَ مِنْ إِيمَانٍ بِغَيْبٍ، ثُمَّ قَرَأَ: { الم * ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ } .
مظاہر امیر خان
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ، عمارہ بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، جب صحابۂ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ایمان کا ذکر کیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ان لوگوں کے لیے بالکل واضح تھا، جو انہیں دیکھتے تھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کوئی بھی مؤمن ایسا ایمان نہیں لایا جو غیب پر ایمان لانے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو۔ پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿الم * ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ * الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ [سورہ البقرہ: 1-3]۔
حدیث نمبر: 181
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ الْحَارِثُ بْنُ قَيْسٍ لِعَبْدِ اللهِ: عِنْدَ اللهِ نَحْتَسِبُ مَا سَبَقْتُمُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ مِنْ رُؤْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: نَحْتَسِبُ إِيمَانَكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَرَوْهُ .
مظاہر امیر خان
حارث بن قیس رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اللہ کے ہاں ہم اس چیز کا اجر امید رکھتے ہیں جس میں تم، اے صحابۂ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ہم سے سبقت لے گئے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا شرف حاصل کیا۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم تمہارے اس ایمان کا اجر اللہ سے امید رکھتے ہیں جو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لائے حالانکہ تم نے انہیں نہیں دیکھا۔“