کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: قرآن کے فضائل
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ - قَالَ: فَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: مَرَّتَيْنِ -، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَأَنْ لَا أَقْرَأَ إِلَّا سُورَةً وَاحِدَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصْنَعَ ذَلِكَ، فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاقْرَأْ قِرَاءَةً تُسْمِعُ أُذُنَيْكَ وَتُوعِيهِ قَلْبَكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرے لیے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں صرف ایک ہی سورہ پڑھوں بجائے اس کے کہ میں پوری رات قرآن ایک یا دو مرتبہ ختم کر لوں۔ اگر تم ایسا ہی کرنا چاہتے ہو، تو ایسی قراءت کرو کہ تمہارے کان اسے سن سکیں اور تمہارا دل اسے سمجھ سکے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن؛ رجاله ثقات،
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 159، 161، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2470، 4130، 4131، 4789، 4790، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4187»
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ وَيَحْيَى ابْنَيْ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ تَبَّانٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يُسْأَلُ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، قَالَ: لَأَنْ أَقْرَأَ فِي شَهْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَشْرٍ، وَعَشْرٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَبْعٍ، أَقِفُ عِنْدَمَا يَنْبَغِي أَنْ أَقِفَ عِنْدَهُ، وَأَدْعُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَسْأَلُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے قرآن کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: مجھے ایک ماہ میں قرآن پڑھنا پندرہ دن میں پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، اور پندرہ دن میں پڑھنا دس دن میں پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، اور دس دن میں پڑھنا سات دن میں پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، میں وہاں رکوں گا جہاں رکنا چاہیے اور اللہ عزوجل سے دعا کروں گا اور سوال کروں گا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة عين الرجل التبّان وأبيه.
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 687، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 162، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5951، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8673»
حدیث نمبر: 163
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ .
مظاہر امیر خان
عمیر بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ قرآن کا درس دے رہے تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة حال محمد بن يزيد وعمير بن ربيعة، ولأن إسماعيل بن عياش لم يصرِّح بالسماع هنا وهو مدلِّس كما في ترجمته في الحديث [٩] 
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بِمُصْحَفٍ قَدْ زُيِّنَ، فَقَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُيِّنَ بِهِ الْمُصْحَفُ تِلَاوَتُهُ بِالْحَقِّ .
مظاہر امیر خان
شفیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مزین مصحف لایا گیا تو انہوں نے فرمایا: بہترین زینت جو قرآن کو دی جا سکتی ہے، وہ اسے حق کے ساتھ پڑھنا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، والأعمش وإن لم يصرح بالسماع
تخریج حدیث «أخرجه الدارمي فى (مسنده) برقم: 144، 145، 158، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 164، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7947، 20465، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 26643، 30862، 30938، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8845، 8846»
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِذَا حَلَّيْتُمْ مَصَاحِفَكُمْ، وَزَخْرَفْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ، فَالدَّمَارُ عَلَيْكُمْ .
مظاہر امیر خان
ابو سعید انصاری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم اپنے مصاحف کو مزین کرو گے اور اپنی مساجد کو نقش و نگار سے آراستہ کرو گے تو تم پر ہلاکت آ جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف فرج بن فضالة، والانقطاع بين يحيى بن سعيد وأبي هريرة.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا .
مظاہر امیر خان
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متفق ہوں، لیکن جب اختلاف ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: سنده فيه الحارث بن عبيد وتقدم أنه صدوق يخطئ، ولكنه لم ينفرد به، فالحديث صحيح لغيره، فقد أخرجه البخاري ومسلم من غير طريقة كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5060، 5061، 7364، 7365، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2667، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 732، 759، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8042، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 166، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19118، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1519، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30793»
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِهَذَا الْقُرْآنِ شِرَّةً، ثُمَّ إِنَّ لِلنَّاسِ عَنْهُ فَتْرَةً، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْقَصْدِ فَنِعِمَّا هُوَ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْإِعْرَاضِ فَأُولَئِكُمْ بُورٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس قرآن کے ساتھ شوق و رغبت کا ایک وقت آتا ہے، پھر لوگوں پر اس سے بے رغبتی کا زمانہ آتا ہے، تو جس کی بے رغبتی اعتدال پر ہو وہ اچھا ہے، اور جس کی بے رغبتی کنارہ کشی کی طرف ہو تو وہ ہلاک ہونے والے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف أبي معشر
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 167، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6557»