حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: اشْتَرِهَا وَلَا تَبِعْهَا .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: مصاحف خریدو لیکن انہیں فروخت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: اشْتَرِ الْمُصْحَفَ وَلَا تَبِعْهُ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: مصحف خریدو لیکن اسے فروخت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ بَيْعَ الْمَصَاحِفِ وَاشْتِرَاءَهَا .
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبیدہ السلمانی رحمہ اللہ مصاحف کی خرید و فروخت کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ الْأَيْدِيَ قُطِعَتْ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ .
مظاہر امیر خان
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ مصاحف کی خرید و فروخت کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔
حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ عَنْ كِتَابِ الْمُعَلِّمِ، فَقَالَ: كَانَ مُعْلِّمٌ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ عِنْدَهُ أَوْلَادُ أُولَئِكَ الضِّخَامِ، وَكَانَ مَمْلُوكًا، وَكَانَ مَوَالِيهِ يُكَلِّفُونَهُ الشَّيْءَ، فَيَقُولُ الْغِلْمَانُ: دَعْنَا نَكْفِيكَ - فَيَأْبَى عَلَيْهِمْ .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے معلم کی تحریر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مدینہ میں ایک معلم تھا، اس کے پاس بڑے لوگوں کے بچے پڑھتے تھے، وہ غلام تھا، اس کے مالک اس سے کچھ کام لینے کا مطالبہ کرتے، تو بچے کہتے: ہمیں کرنے دو، مگر وہ انہیں ایسا کرنے سے روکتا تھا۔
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُنْزِلَ الْمُفَصَّلُ بِمَكَّةَ، فَمَكَثْنَا حِجَجًا نَقْرَؤُهُ لَا يَنْزِلُ غَيْرُهُ .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مکہ میں مفصل سورتیں نازل ہوئیں، پھر ہم کئی سال تک انہیں پڑھتے رہے اور کوئی اور وحی نازل نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا يَغُرَّنَّكُمْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، إِنَّمَا هُوَ كَلَامٌ يَتَكَلَّمُ بِهِ، وَلَكِنِ انْظُرُوا إِلَى مَنْ يَعْمَلُ بِهِ .
مظاہر امیر خان
ابو اسحاق رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کوئی دھوکا نہ دے کہ وہ قرآن پڑھتا ہے، یہ تو محض الفاظ ہیں جو زبان سے ادا کیے جاتے ہیں، لیکن دیکھو کہ وہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ يُبَرِّئُنِي مِنَ الشِّرْكِ، قَالَ: اقْرَأْ: { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } فَمَا أَخْطَأَهَا أَبِي مِنْ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا .
مظاہر امیر خان
عبدالرحمن بن نوفل الاشجعی رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نیا مسلمان ہوا ہوں، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے شرک سے بالکل پاک کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورہ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھا کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس دن سے لے کر وفات تک کوئی دن یا رات ایسی نہ گزاری جب انہوں نے یہ سورہ نہ پڑھی ہو۔
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ التَّيْمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ، فَسَمِعَ قَارِئًا يَقْرَأُ: { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ .، وَسِرْنَا، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: { قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ } فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ غُفِرَ لَهُ، فَكَفَفْتُ رَاحِلَتِي لِأَنْظُرَ مَنْ هُوَ فَأُبَشِّرُهُ، فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا .
مظاہر امیر خان
ابی الحسن التیمی رحمہ اللہ ایک شخص کے حوالے سے کہتے ہیں: میں ایک اندھیری رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا کہ کسی کو سورہ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھتے ہوئے سنا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص شرک سے بری ہو گیا۔ پھر ہم آگے بڑھے تو کسی اور کو سورہ «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» پڑھتے سنا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مغفرت کر دی گئی۔ میں نے اپنی سواری روک کر دیکھنا چاہا کہ یہ خوشخبری کس کو دوں، لیکن دائیں بائیں دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مَوْلًى لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی خوبصورت آواز والے شخص کی قرآن خوانی سننے میں اس سے زیادہ رغبت رکھتا ہے جتنی کہ گانے بجانے والا اپنی گانے والی کی آواز سننے میں رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قراءت سنی تو فرمایا: بے شک، انہیں آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز عطا کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، كَذَلِكُمُ الْبِرُّ، كَذَلِكُمُ الْبِرُّ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو ایک قراءت سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو کہا گیا: حارثہ بن نعمان۔ (پھر فرمایا:) نیکی کا یہی مقام ہے، نیکی کا یہی مقام ہے۔
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ عَلِيًّا فَرَضَ - أَوْ أَعْطَى - لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ، وَكَانَ أَبِي مِمَّنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَأْخُذْ .
مظاہر امیر خان
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن پڑھنے والے کے لیے دو دو ہزار (درہم) مقرر کیے، اور میرے والد بھی قرآن پڑھنے والوں میں سے تھے مگر انہوں نے نہیں لیے۔
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا لَا أَدْرِي أَنَّ أَحَدًا يُرِيدُ بِقِرَاءَتِهِ غَيْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَةٍ أَنَّ أَقْوَامًا يُرِيدُونَ بِقِرَاءَتِهِمْ غَيْرَ اللهِ، فَأَرِيدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ .
مظاہر امیر خان
ابو فراس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ایک زمانہ ایسا تھا کہ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی قرآن کی تلاوت سے اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی رضا چاہ سکتا ہے، یہاں تک کہ بعد میں مجھے خیال ہونے لگا کہ کچھ لوگ اپنی تلاوت سے غیر اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اپنی قراءت اور اعمال میں اللہ عزوجل کی رضا ہی کو مقصود بناؤ۔
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ قَرَأَهُ عَبِيدٌ وَصِبْيَانٌ لَمْ يَأْخُذُوهُ مِنْ أَوَّلِهِ وَلَا عِلْمَ لَهُمْ بِتَأْوِيلِهِ، إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْقُرْآنِ مَنْ رُئِيَ فِي عَمَلِهِ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: { كِتَابٌ أَنْـزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ } وَإِنَّمَا تَدَبُّرُ آيَاتِهِ اتِّبَاعُهُ بِعَمَلِهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَارِئُكَ، وَاللهِ مَا كَانَتِ الْقُرَّاءُ تَفْعَلُ هَذَا، وَاللهِ مَا هُمْ بِالْقُرَّاءِ وَلَا الْوَرَعَةِ، لَا كَثَّرَ اللهُ فِي النَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، لَا كَثَّرَ اللهُ فِي النَّاسِ أَمْثَالَهُمْ .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ قرآن ایسے غلاموں اور بچوں نے پڑھا ہے جو نہ اسے اس کے آغاز سے سیکھ سکے اور نہ ہی ان کو اس کی تفسیر و تعبیر کا علم ہے۔ بلاشبہ قرآن کے سب سے زیادہ حقدار وہ لوگ ہیں جن کے عمل میں اس کی جھلک نظر آتی ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [سورہ ص: 29] ”یہ ایک بابرکت کتاب ہے، جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور و تدبر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں“ اور اس کی آیات پر غور و تدبر کا حقیقی مطلب اس کی پیروی اور عمل کرنا ہے۔ (آج) ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے: ”آؤ، میں تمہیں قرآن پڑھاؤں!“ اللہ کی قسم! پہلے کے قراء (تلاوت کرنے والے) ایسا نہیں کرتے تھے، اللہ کی قسم! یہ نہ تو قراء میں سے ہیں اور نہ ہی اہلِ تقویٰ میں سے، اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ نہ کرے، اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کے وقت سو (100) آیات کی تلاوت کرے، وہ قانتین (فرمانبردار بندوں) میں لکھا جاتا ہے، اور جو پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، وہ غافلوں میں شمار نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَقْرَؤُوا بَعْضَ الْآيَةِ وَيَتْرُكُوا بَعْضًا .
مظاہر امیر خان
ابن ابی الہذیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام بعض آیات کو جزوی طور پر پڑھنے اور کچھ چھوڑ دینے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 138
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ قَالَ: مَنْ قَرَأَ عِنْدَ مَنَامِهِ آيَاتٍ مِنَ الْبَقَرَةِ لَمْ يَنْسَ الْقُرْآنَ ؛ أَرْبَعَ آيَاتٍ مِنْ: { وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ } وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالثَّلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا .
مظاہر امیر خان
مغیرہ بن سبیع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص سونے سے پہلے سورہ البقرہ کی چند آیات پڑھے، وہ قرآن کو نہیں بھولے گا؛ یعنی چار آیات: ﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ﴾، آیت الکرسی، اور اس کے آخری تین آیات۔
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَيْسَ الْخَطَأُ أَنْ تَجْعَلَ خَاتِمَةَ آيَةٍ خَاتِمَةَ آيَةٍ أُخْرَى .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غلطی یہ نہیں کہ ایک آیت کے خاتمے کو دوسری آیت کے خاتمے سے ملا دیا جائے۔
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: أَخَذْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ، وَمَا يُدْرِيهِ مَا كُلُّهُ، قَدْ ذَهَبَ مِنْهُ قُرْآنٌ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ يَقُولُ: أَخَذْنَا مَا ظَهَرَ مِنْهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورا قرآن لے لیا، اسے کیا معلوم کہ پورا قرآن کیا ہے! اس میں سے بہت سا قرآن جا چکا ہے، بلکہ یوں کہے: ہم نے اس میں سے وہی لیا جو ظاہر ہوا۔
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنَزِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ حَتَّى أَتَى السُّدَّةَ - سُدَّةَ السُّوقِ -، فَاسْتَقْبَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى دَرَجَ الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: يَا حَنْظَلَةُ، أَتَرَى هَذَا يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ ؟ إِنَّ لِكُلِّ آيَةٍ كَفَّارَةً، أَوْ قَالَ: يَمِينٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا حنظلہ بن خویلد العنزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ وہ بازار کے دروازے پر پہنچے، اس کا سامنا کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کے خیر اور اس کے اہل کے خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور اس کے اہل کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر وہ مسجد کی سیڑھیوں تک پہنچے تو ایک شخص کو قرآن کی کسی سورہ پر قسم کھاتے ہوئے سنا۔ تب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے حنظلہ! کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شخص اپنی قسم کا کفارہ دے سکتا ہے؟ ہر آیت کا کفارہ ہوتا ہے، یا فرمایا: یہ ایک قسم ہے۔“
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي كَنَفٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي سُوقِ الرَّقِيقِ إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ عَلَيْهِ لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا يَمِينًا .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو کنف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ غلاموں کے بازار میں چل رہا تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو قرآن کی کسی سورہ پر قسم کھاتے ہوئے سنا۔ تب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس پر ہر آیت کے بدلے ایک قسم لازم ہے۔“
حدیث نمبر: 143
قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مَنْ حَلَفَ بِالْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ يَمِينٌ، وَمَنْ كَفَرَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَقَدْ كَفَرَ بِهِ كُلِّهِ .
مظاہر امیر خان
الاعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ سے ذکر کی، تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جو شخص قرآن کی قسم کھائے، اس پر ہر آیت کے بدلے ایک قسم لازم ہے، اور جو قرآن کی کسی ایک آیت کا انکار کرے، تو گویا اس نے پورے قرآن کا انکار کر دیا۔“
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
مطرف رحمہ اللہ کہتے ہیں: کوئی شخص یہ نہ کہے کہ بے شک اللہ عزوجل یوں یوں فرماتے ہیں، بلکہ یوں کہے: اللہ عزوجل نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ الْقُرْآنَ فَيَسْقِيهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى سَيُصِيبُهُ بَلَاءٌ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک شخص قرآن لکھ کر اسے پانی میں گھول کر پلاتا تھا، تو (کسی نے) کہا: مجھے لگتا ہے کہ اسے کوئی مصیبت پہنچے گی۔
حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ فِي سَبْعٍ، وَلَا تَقْرَؤُوهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ، وَلْيُحَافِظِ الرَّجُلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَلَى جُزْئِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن کو سات دن میں مکمل پڑھو، اور تین دن سے کم میں نہ پڑھو، اور ہر شخص کو چاہیے کہ دن اور رات میں اپنے حصے کی تلاوت کی حفاظت کرے۔
حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ فَهُوَ رَاجِزٌ، هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ .
مظاہر امیر خان
ابو عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھے، وہ اسے تیز پڑھنے والا ہے، جیسے شاعری کی طرح جلدی پڑھنا، اور کھجور کے خشک ٹکڑوں کی طرح بکھیرنا۔
حدیث نمبر: 148
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ فَهُوَ رَاجِزٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھے، وہ اسے تیز پڑھنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثٍ، لَا يَسْتَعِينُ عَلَيْهِ مِنَ النَّهَارِ إِلَّا بِالْيَسِيرِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تین دن میں قرآن ختم کرتے تھے اور دن میں بہت کم مدد لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي رَمَضَانَ فِي ثَلَاثٍ، وَفِي غَيْرِ رَمَضَانَ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان میں تین دن میں قرآن ختم کرتے اور غیر رمضان میں جمعہ سے جمعہ تک ختم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ الْأَسْوَدُ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ لَيْلَتَيْنِ، وَيَنَامُ فِيمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَكَانَ يَخْتِمُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ فِي سِتَّةٍ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اسود رحمہ اللہ رمضان میں ہر دو رات میں قرآن ختم کرتے، اور مغرب اور عشاء کے درمیان سوتے، جبکہ دیگر ایام میں چھ دن میں ختم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَلْقَمَةُ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ خَمْسٍ، وَكَانَ الْأَسْوَدُ يَخْتِمُهُ فِي كُلِّ سِتٍّ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ يَخْتِمُهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علقمہ رحمہ اللہ ہر پانچ دن میں، اسود رحمہ اللہ ہر چھ دن میں، اور عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ ہر سات دن میں قرآن ختم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ أَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِ الْقُرْآنِ فَهُوَ رَاجِزٌ .
مظاہر امیر خان
ابو عبیدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: جس نے ایک رات میں تہائی سے زیادہ قرآن پڑھا، وہ راجز (جلدی جلدی پڑھنے والا) ہے۔
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ ثَمَانٍ، وَأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ يَخْتِمُ فِي كُلِّ سَبْعٍ .
مظاہر امیر خان
ابو قلابہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہر آٹھ دن میں قرآن ختم کرتے تھے، اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ہر سات دن میں ختم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّهُ كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ ثَمَانٍ .
مظاہر امیر خان
ابی المهلب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہر آٹھ دن میں قرآن ختم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا سَيَّارٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ فِي رَكْعَةٍ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوهُ، هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ، بِسُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، بِسُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ .
مظاہر امیر خان
ابو وائل رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے گزشتہ رات ایک رکعت میں مفصل (قرآن کی چھوٹی سورتیں) پڑھی ہیں۔ تو وہ غصہ ہوئے اور کہا: انہیں تفصیل سے پڑھنے کے لیے مفصل کیا گیا تھا۔ تم انہیں شعر کی طرح تیزی سے پڑھتے ہو اور کم قیمت کھجور کی طرح بکھیرتے ہو۔ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں جوڑ کر پڑھتے تھے۔ ہر رکعت میں دو سورتیں، ہر رکعت میں دو سورتیں۔
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَافِعِ بْنِ لَبِيبَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: أَفَعَلْتُمُوهَا ؟ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ شَاءَ أَنْ يُنْزِلَهُ جُمْلَةً وَاحِدَةً فَعَلَ، أَعْطُوا كُلَّ سُورَةٍ حَظَّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
مظاہر امیر خان
عبدالرحمن بن نافع رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے میں نے کہا: میں نے مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیں۔ تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نے ایسا کیا؟ اگر اللہ عزوجل چاہتے تو اسے ایک ساتھ نازل فرما دیتے۔ ہر سورہ کو اس کے رکوع اور سجدے کا حق دیا کرو۔
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قُتِلَ: لَقَدْ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنَّهُ لَيُحْيِي اللَّيْلَ كُلَّهُ بِالْقُرْآنِ فِي رَكْعَةٍ .
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کی اہلیہ نے کہا: تم نے انہیں شہید کر دیا، حالانکہ وہ ساری رات ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ طَالُوتَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَأَنْ أَقْرَأَ الْبَقَرَةَ فِي لَيْلَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرے لیے ایک رات میں سورہ البقرہ پڑھنا، پوری رات میں پورا قرآن پڑھنے سے زیادہ پسند ہے۔“
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَامَ لَيْلَتَهُ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُكَرِّرُهَا عَلَى نَفْسِهِ .
مظاہر امیر خان
ابو متوکل ناجی رحمہ اللہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات قیام کیا اور رات بھر قرآن کی ایک آیت کو دہراتے رہے۔
…