حدیث نمبر: 81
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُكْتَبَ الْمُصْحَفُ فِي الشَّيْءِ الصَّغِيرِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مصحف کو کسی چھوٹی چیز پر لکھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 82
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: جَرِّدُوا الْقُرْآنَ، وَلَا تَخْلِطُوا عَلَيْهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: قرآن کو خالص رکھو اور اس میں وہ چیزیں شامل نہ کرو جو اس کا حصہ نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 83
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: يُكْرَهُ بَيْعُ الْقُرْآنِ وَشِرَاؤُهُ وَكِتَابَتُهُ عَلَى الْأَجُرِّ، وَكَانَ يُقَالُ: لَا يُورَثُ الْمُصْحَفُ، إِنَّمَا هُوَ لِقُرَّاءِ أَهْلِ الْبَيْتِ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُحَلَّى الْمُصْحَفُ، وَأَنْ يُعَشَّرَ أَوْ يُصَغَّرَ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: عَظِّمُوا الْقُرْآنَ، وَلَا تَخْلِطُوا بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُكْتَبَ بِالذَّهَبِ أَوْ يُعَلَّمَ عِنْدَ رُؤُوسِ الْآيِ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: جَرِّدُوا الْقُرْآنَ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: کہا جاتا تھا کہ قرآن کو بیچنا، خریدنا اور اجرت پر لکھوانا ناپسندیدہ ہے، نیز کہا جاتا تھا کہ مصحف وراثت میں نہیں دیا جاتا، بلکہ وہ گھر کے قاری افراد کے لیے ہوتا ہے، اور یہ بھی ناپسند کیا جاتا تھا کہ مصحف کو مزین کیا جائے، اسے چھوٹا یا بڑا بنایا جائے، کہا جاتا تھا کہ قرآن کی تعظیم کرو اور اس میں غیر متعلقہ چیزیں شامل نہ کرو، سونے سے لکھنا اور آیات کے سروں پر نشانات لگانا ناپسند کیا جاتا تھا، نیز کہا جاتا تھا کہ قرآن کو خالص رکھو۔
حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ نَقْطَ الْمُصْحَفِ .
مظاہر امیر خان
مغیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ابراہیم رحمہ اللہ مصحف پر نقطے لگانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُضَيْلٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُصَغَّرَ الْمُصْحَفُ وَالْمَسْجِدُ، يُقَالُ: مُصَيْحِفٌ، وَمُسَيْجِدٌ .
مظاہر امیر خان
لیث کہتے ہیں کہ مجاہد رحمہ اللہ مصحف اور مسجد کو چھوٹا کرنے (تصغیر) کو ناپسند کرتے ہیں، جیسے «مُصَيْحِفٌ» اور «مُسَيْجِدٌ» کہا جائے۔
حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مَنْصُورٌ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، عَنْ نَقْطِ الْمَصَاحِفِ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ مَا لَمْ تَبْغُوا .
مظاہر امیر خان
منصور رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حسن بصری رحمہ اللہ سے مصاحف پر نقط (اعراب) لگانے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، جب تک تم اس میں حد سے تجاوز نہ کرو۔
حدیث نمبر: 87
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، أَنَا مُخْبِرٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: قَالَ: لَحْسُ الدُّبُرِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَقْطِ الْمَصَاحِفِ .
مظاہر امیر خان
ابی معشر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم رحمہ اللہ مصحف میں نقطے لگانے کو سخت ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 88
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ، فَرَأَيْتُهُ يَقْرَأُ فِي مُصْحَفٍ مَنْقُوطٍ .
مظاہر امیر خان
خالد الحذاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے پاس داخل ہوا تو میں نے انہیں ایک منقوط (نقطوں والا) مصحف پڑھتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ مُحَمَّدِ بْنِ سَيْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ مُصْحَفٍ يُنْقَطُ بِالْعَرَبِيَّةِ ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، أَوَمَا بَلَغَكَ عَنْ كِتَابِ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ: تَعَلَّمُوا الْعَرَبِيَّةَ، وَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ، وَأَحْسِنُوا عِبَارَةَ الرُّؤْيَا ؟ قَالَ أَبُو رَجَاءٍ: وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ تَزِيدُوا فِي الْحُرُوفِ .
مظاہر امیر خان
حسن بن سیف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا عربی میں مصحف پر نقطے لگانا جائز ہے؟ فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، کیا تمہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ فرمان نہیں پہنچا کہ انہوں نے لکھا تھا: عربی سیکھو، دین کی سمجھ حاصل کرو، اور خواب کی تعبیر اچھے انداز میں بیان کرو؟ ابو رجاء محمد بن سیف رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تم حروف میں اضافہ نہ کر دو۔
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ وَابْنَ سِيرِينَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: لَا بَأْسَ بِهِ .
مظاہر امیر خان
منصور بن زاذان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے تابعی حسن بصری رحمہ اللہ اور تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، قَالَ: نَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُسْأَلُ عَنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَيُنْشِدُ الشِّعْرَ .
مظاہر امیر خان
عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان سے قرآن کی عربی کے بارے میں پوچھا گیا، تو وہ (اس کی وضاحت کے لیے) شعر سناتے تھے۔
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، أَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَتَأَوَّلُوا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ عِنْدَمَا يَعْرِضُ مِنْ أَحَادِيثِ الدُّنْيَا، قِيلَ لِهُشَيْمٍ: نَحْوُ قَوْلِهِ: { جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى } ؟ قَالَ: نَعَمْ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ لوگ ناپسند کرتے تھے کہ دنیاوی باتوں کے دوران قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کریں۔ ہشیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى﴾ [سورہ طہ: 40] (موسیٰ! تم ایک مقررہ اندازے پر آئے)؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: لَوْلَا تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ صَاحِبَ فِرَاشٍ حَتَّى أَمُوتَ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَرِيضَ يُرْفَعُ عَنْهُ الْحَرَجُ وَتُكَفَّرُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، وَيُكْتَبُ لَهُ بِصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ .
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے کہا: اگر قرآن کی تلاوت نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں بستر کا مریض رہوں یہاں تک کہ فوت ہو جاؤں کیونکہ مریض سے شرعی سختی ہٹا دی جاتی ہے، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اور اس کے نیک اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ صحت مند ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 94
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: نَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدَائِنِ قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ يَقُولُ: كُلُّ مَا لَمْ يَذْكُرِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ فَهُوَ مِنْ عَفْوِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کچھ بھی اللہ عزوجل نے قرآن میں ذکر نہیں فرمایا، وہ اللہ عزوجل کی طرف سے معافی (درگزر) میں شامل ہے۔
حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قُلْتُ لِجَدَّتِي أَسْمَاءَ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَؤُوا الْقُرْآنَ ؟ قَالَتْ: كَانُوا كَمَا نَعَتَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: تَدْمَعُ أَعْيُنُهُمْ وَتَقْشَعِرُّ جُلُودُهُمْ، قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا هَاهُنَا إِذَا سَمِعُوا ذَلِكَ تَأْخُذُهُمْ عَلَيْهِ غَشْيَةٌ، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ قرآن پڑھتے وقت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ عزوجل نے ان کی صفت بیان فرمائی ہے: ان کی آنکھیں آنسو بہاتی تھیں اور ان کی کھالیں کانپ جاتی تھیں۔ میں نے کہا: یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ یہ سنتے ہیں تو ان پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں شیطان سے۔
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: يُسْرَى بِالْقُرْآنِ لَيْلًا، فَيُرْفَعُ مِنْ أَجْوَافِ الرِّجَالِ، فَيُصْبِحُونَ لَا يُصَدِّقُونَ حَدِيثًا وَلَا يُصَدِّقُونَ النِّسَاءَ، يَتَسَافَدُونَ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ، فَيَبْعَثُ اللهُ رِيحًا فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن کو رات کے وقت اٹھا لیا جائے گا، پس وہ لوگوں کے سینوں سے نکال لیا جائے گا، اور جب وہ صبح کریں گے تو نہ کسی بات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی عورتوں کی تصدیق کریں گے، وہ گدھوں کی طرح آپس میں اختلاط کریں گے، پس اللہ ایک ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کی روح قبض کر لے گی۔
حدیث نمبر: 97
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، سَمِعَ شَدَّادَ بْنَ مَعْقِلٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ، وَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ الَّذِي بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ أَوْشَكَ أَنْ يُرْفَعَ، قَالُوا: وَكَيْفَ وَقَدْ أَثْبَتَهُ اللهُ فِي قُلُوبِنَا وَأَثْبَتْنَاهُ فِي الْمَصَاحِفِ ؟ قَالَ: يُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا، فَيَذْهَبُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ، وَيُرْفَعُ مَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: { وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلا } .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے دین سے سب سے پہلے جو چیز ختم ہوگی وہ امانت ہوگی، اور سب سے آخر میں جو باقی رہے گی وہ نماز ہوگی، اور یہ قرآن جو تمہارے درمیان ہے، قریب ہے کہ اٹھا لیا جائے۔ صحابہ نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا جبکہ اللہ نے اسے ہمارے دلوں میں محفوظ کر دیا ہے اور ہم نے اسے مصاحف میں لکھ لیا ہے؟ تو فرمایا: رات کے وقت قرآن اٹھا لیا جائے گا، پس جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو مصاحف میں ہے وہ بھی اٹھا لیا جائے گا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا﴾ [سورہ الإسراء: 86]
حدیث نمبر: 98
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: إِذَا تَثَاءَبْتَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فَأَمْسِكْ عَنِ الْقِرَاءَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْكَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم قرآن پڑھ رہے ہو اور تمہیں جمائی آئے تو قراءت روک دو یہاں تک کہ جمائی ختم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 99
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ رُبَّمَا قَرَأَ - وَقَوْمٌ نِيَامٌ - فَيَجِدُ الرِّيحَ، فَيُمْسِكُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حَتَّى تَذْهَبَ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: کبھی ایسا ہوتا کہ میں قرآن پڑھ رہا ہوتا اور کچھ لوگ سو رہے ہوتے، پھر جب ہوا محسوس کرتا تو قراءت روک دیتا یہاں تک کہ وہ ختم ہو جاتی۔
حدیث نمبر: 100
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ زُرْزُرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَطَاءً، قَالَ: أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَخْرُجُ الرِّيحُ مِنِّي ! فَقَالَ: أَمْسِكْ عَنِ الْقِرَاءَةِ حَتَّى تَذْهَبَ عَنْكَ .
مظاہر امیر خان
تابعی عطاء رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے پوچھا: میں قرآن پڑھتا ہوں اور مجھ سے ہوا خارج ہو جاتی ہے! تو انہوں نے فرمایا: قراءت روک دو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ أَنَّهُمْ قَالُوا: لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ، أَوْ قَالُوا: الْمُصْحَفَ .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن (یا فرمایا: مصحف) کو صرف وہی ہاتھ لگائے جو طاہر ہو۔
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِمُجَاهِدٍ مُصْحَفًا، فَأَعْطَاهُ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ .
مظاہر امیر خان
مسلم اعور رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام عبدالرحمن تھا، اس نے مجاہد رحمہ اللہ کے لیے مصحف لکھا، تو اس نے اسے پانچ سو درہم دیے۔
حدیث نمبر: 103
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ بُعِثَ إِلَيْهِ أَنْ يَقُومَ بِالنَّاسِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَامَ بِهِمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ عُبَيْدُ اللهِ بِحُلَّةٍ وَخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِآخِذٍ عَلَى الْقُرْآنِ أَجْرًا .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد نے کسی کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ رمضان المبارک میں لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو انہوں نے امامت کی۔ عبیداللہ بن زیاد نے انہیں ایک حلہ اور پانچ سو درہم بھیجے، تو انہوں نے کہا: میں قرآن پر کوئی اجر نہیں لوں گا۔
حدیث نمبر: 104
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ بَيْعَ الْمَصَاحِفِ وَتَعْلِيمَ الْغِلْمَانِ بِالْأَجْرِ، وَيُعَظِّمُونَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ قرآن کے نسخے بیچنے اور بچوں کو اجرت پر تعلیم دینے کو ناپسند کرتے تھے اور اسے بڑا معاملہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 105
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُعَلِّمُ .
مظاہر امیر خان
مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے اجرت پر پڑھانے والے معلم کے شرط لگانے کو ناپسند کیا۔ (یعنی کہ پڑھانے والا کوئی اپنی شرط عائد کرے)
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَوْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِالْأَجْرِ بَأْسًا .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ یا خالد نے ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ وہ دونوں اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 107
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُضَيْلٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إِذَا قَاطَعَ الْمُعَلِّمُ وَلَمْ يَعْدِلْ كُتِبَ مِنَ الظَّلَمَةِ .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب معلم (استاد) مقررہ اجرت طے کرے اور انصاف نہ کرے تو وہ ظالموں میں لکھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقْرِئُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَحَجَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَأَهْدَى لِلَّذِي أَقْرَأَهُ قَوْسًا، فَأَتَى عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَلْقِهَا عَنْكَ، فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَغْزُوَ، فَقَالَ: أَلْقِهَا عَنْكَ، فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَغْزُوَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ: أَتُرِيدُ أَنْ تُعَلِّقَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ ؟ قَالَ: فَرَدَّهَا الرَّجُلُ إِلَى صَاحِبِهَا .
مظاہر امیر خان
عمیر بن ہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص دوسرے کو قرآن پڑھا رہا تھا، پھر وہ شخص حج پر گیا اور جس نے اسے پڑھایا تھا اسے کمان ہدیہ میں دی۔ وہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: اسے واپس کر دو۔ اس نے کہا: میں اس کے ذریعے جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس کر دو۔ اس نے کہا: میں اس کے ذریعے جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جہنم کی کمان کو اپنے ساتھ لٹکانا چاہتے ہو؟ چنانچہ اس شخص نے وہ کمان اس کے مالک کو واپس کر دی۔
حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْتُونٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَقْرَأَنِي أُبَيٌّ الْقُرْآنَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ قَوْسًا، فَغَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ بِهَا، فَقَالَ: مَنْ سَلَّحَكَ هَذِهِ ؟ قَالَ: الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، أَقْرَأْتُهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَقَلَّدُهَا شِلْوَةً مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَأْكُلُ مِنْ طَعَامِهِمْ، فَقَالَ: أَمَّا طَعَامٌ صُنِعَ لِغَيْرِكَ فَحَضَرْتَهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ تَأْكُلَهُ، وَأَمَّا مَا صُنِعَ لَكَ فَإِنَّمَا تَأْكُلُ بِخَلَاقِكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قرآن پڑھایا، تو میں نے انہیں ایک کمان ہدیہ دی، پھر وہ صبح کے وقت سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ وہ اس کمان کو پہنے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ ہتھیار تمہیں کس نے دیا؟“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے، میں نے انہیں قرآن پڑھایا تھا۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اپنے گلے میں لٹکا لیا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم ان کا کھانا بھی تو کھاتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی کھانا دوسروں کے لیے تیار کیا گیا اور تم وہاں موجود ہو تو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر وہ خاص تمہارے لیے بنایا گیا ہے تو تم اسے صرف اپنے عمل (اجر) کے بدلے کھا رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: سَأَلْتُ ثَلَاثَةً - فَلَمْ آلُوا -: عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ، وَمَسْرُوقًا، وَشُرَيْحًا، عَنْ بَيْعِ الْمَصَاحِفِ، فَقَالُوا: لَا تَأْخُذْ لِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَمَنًا .
مظاہر امیر خان
ابو الضحی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے تین افراد سے پوچھا (سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ، مسروق رحمہ اللہ اور شریح رحمہ اللہ) مصاحف کی خرید و فروخت کے بارے میں، تو انہوں نے کہا: ”اللہ عزوجل کی کتاب کے بدلے کوئی قیمت نہ لو۔“
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ عَنْ كُتَّابِ الْمَصَاحِفِ بِالْأَجْرِ، قَالَ: كُرِهَ كِتَابَتُهَا وَاسْتِكْتَابُهَا وَبَيْعُهَا وَشِرَاؤُهَا .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے مصاحف لکھنے پر اجرت لینے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اسے لکھنا، لکھوانا، بیچنا اور خریدنا ناپسند کیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: سَأَلْتُ شُرَيْحًا، وَمَسْرُوقًا، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ عَنْ بَيْعِ الْمَصَاحِفِ، فَقَالُوا: لَا تَأْخُذْ لِكِتَابِ اللهِ ثَمَنًا .
مظاہر امیر خان
ابو الضحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے شریح رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ اور عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے مصاحف کی خرید و فروخت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب کے بدلے کوئی قیمت مت لو۔“
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: نَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا أَكْتُبُ، فَقُلْتُ: كَيْفَ تَرَى صَنْعَتِي هَذِهِ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ ؟ فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ صَنْعَتَكَ، تَنْقُلُ كِتَابَ اللهِ وَرَقَةً إِلَى وَرَقَةٍ وَآيَةً إِلَى آيَةٍ وَكَلِمَةً إِلَى كَلِمَةٍ، هَذَا الْحَلَالُ لَا بَأْسَ بِهِ .
مظاہر امیر خان
مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جابر بن زید رحمہ اللہ میرے پاس آئے جبکہ میں کتابت کر رہا تھا، تو میں نے کہا: ”اے ابو الشعثاء! آپ میری اس کتابت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”تمہاری صنعت بہت خوبصورت ہے، تم اللہ کی کتاب کو ایک ورق سے دوسرے ورق کی طرف، ایک آیت سے دوسری آیت کی طرف، اور ایک کلمہ سے دوسرے کلمہ کی طرف منتقل کر رہے ہو، یہ حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔“
حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ عَلْقَمَةُ أَنْ يَكْتُبَ مُصْحَفًا، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَ عَلَى كِتَابَتِهِ أَجْرًا، فَاشْتَرَى وَرَقَهُ وَمِدَادَهُ وَمَا يَنْبَغِي وَأَعْطَاهُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَكَتَبَهُ لَهُ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علقمہ رحمہ اللہ ایک مصحف لکھوانا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کی کتابت پر اجرت دینا ناپسند کرتے تھے، لہٰذا انہوں نے خود اس کے لیے کاغذ، روشنائی اور ضروری سامان خریدا، اور اسے اپنے کسی ساتھی کو دے دیا تاکہ وہ ان کے لیے لکھ دے۔
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: نَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ عِكْرِمَةَ: بَاعَ مُصْحَفًا لَهُ، وَأَنَّ الْحَسَنَ كَانَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا .
مظاہر امیر خان
مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عکرمہ رحمہ اللہ نے اپنا مصحف فروخت کیا، اور حسن بصری رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِبَيْعِهَا وَاشْتِرَائِهَا .
مظاہر امیر خان
یونس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حسن بصری رحمہ اللہ (مصاحف کی) خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَبِيعُ ثَمَنَ وَرَقِهِ وَأَجْرَ كُتَّابِهُ .
مظاہر امیر خان
داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعبی رحمہ اللہ سے اس بارے میں (مصاحف کی خرید و فروخت) پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ تو صرف اپنے کاغذ کی قیمت اور اپنے لکھنے والوں کی اجرت بیچتا ہے۔
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا گیا کہ فرمایا: وہ صرف کاغذ کی قیمت اور لکھنے والے کی اجرت بیچتا ہے۔
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا لَيْثٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اشْتَرِ الْمَصَاحِفَ وَلَا تَبِعْهَا .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مصاحف خریدو لیکن انہیں فروخت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِثْلَهُ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ سے اسی کے مثل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
…