حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ (يَحْيَى) الْأَبَحُّ عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ جَالِسًا، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: اللهُ أَعْلَمُ ! فَقَالَ لَهُ (الرَّجُلُ): قُلْ فِيهَا - أَصْلَحَكَ اللهُ - بِرَأْيِكَ ! فَقَالَ: أَقُولُ فِي كِتَابِ اللهِ بِرَأْيِي ؟ ! فَرَدَّدَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا اور قرآن کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے!“ اس شخص نے کہا: ”آپ اپنی رائے سے کچھ فرمائیں، اللہ آپ کی اصلاح کرے!“ تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا میں اللہ کی کتاب کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہوں؟!“ یہ بات دو یا تین بار دہرائی اور کوئی جواب نہ دیا۔
حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: نَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ قَالَ: خَلَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ وَنَبِيُّهَا وَاحِدٌ، وَكِتَابُهَا وَاحِدٌ، وَقِبْلَتُهَا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، فَقَرَأْنَاهُ، وَعَلِمْنَا فِيمَ أُنْزِلَ ! وَإِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَنَا أَقْوَامٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ وَلَا يَعْرِفُونَ فِيمَ نَزَلَ، فَيَكُونُ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ . فَإِذَا كَانَ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ اخْتَلَفُوا، فَإِذَا اخْتَلَفُوا اقْتَتَلُوا ! فَزَبَرَهُ عُمَرُ، وَانْتَهَرَهُ . فَانْصَرَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ دَعَاهُ بَعْدُ، فَعَرَفَ الَّذِي قَالَ . ثُمَّ قَالَ: (إِيهِ) أَعِدْ عَلَيَّ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن تنہائی میں خود سے گفتگو کر رہے تھے، تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور پوچھا: ”یہ امت اختلاف کیسے کرے گی، جب کہ اس کا نبی ایک ہے، اس کی کتاب ایک ہے اور اس کا قبلہ بھی ایک ہے؟“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہم پر قرآن نازل ہوا، ہم نے اسے پڑھا اور جانا کہ یہ کن امور کے بارے میں نازل ہوا ہے، لیکن ہمارے بعد ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن تو پڑھیں گی مگر نہیں جانیں گی کہ وہ کن اسباب کے تحت نازل ہوا ہے، تو ہر قوم اس میں اپنی اپنی رائے قائم کرے گی، اور جب ہر قوم کی ایک الگ رائے ہوگی، تو وہ باہم اختلاف کریں گے، اور جب اختلاف بڑھ جائے گا تو وہ آپس میں قتال کریں گے۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور سخت لہجے میں بات کی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما واپس چلے گئے۔ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ بلایا، ان کی بات کو سمجھا اور فرمایا: ”اچھا، وہی بات دوبارہ دہرا دو۔“
حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ { وَفَاكِهَةً وَأَبًّا }، فَقَالَ: هَذِهِ الْفَاكِهَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا الْأَبُّ ؟ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ، فَقَالَ: لَعَمْرُكَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ التَّكَلُّفُ يَا عُمَرُ . !
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 31] کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ”یہ فاکہہ (پھل) تو ہم جانتے ہیں، مگر ’ابّ‘ کیا ہے؟“ پھر خود ہی سوچ کر فرمایا: ”اے عمر! یہ تو محض تکلف (یعنی غیر ضروری بحث) ہے۔“
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَأَلْتُ عَبِيدَةَ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالسَّدَادِ ؛ فَقَدْ ذَهَبَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْلَمُونَ فِيمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ . " !
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رحمہ اللہ سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل سے ڈرو اور درست راستے پر چلو، کیونکہ وہ لوگ جا چکے جو جانتے تھے کہ قرآن کن امور کے بارے میں نازل ہوا تھا۔“
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الْبَصْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَطُوفُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ يُوسُفَ، وَيَجْتَمِعُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَإِذَا فَرَغَ سَأَلَ . فَقَالَ الْحَسَنُ: كُنْتُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، فَمَرَّ بِهَذَا السَّائِلِ، فَقَامَ، فَاسْتَمَعَ لِقِرَاءَتِهِ . فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ (عِمْرَانُ): إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ! اذْهَبْ بِنَا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ . !
مظاہر امیر خان
خیثمہ بن ابی خیثمہ الانصاری البصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص طواف کر رہا تھا اور سورہ یوسف کی تلاوت کر رہا تھا، لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے، جب وہ فارغ ہوا تو سوال کرنے لگا۔ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، وہ اس سائل کے پاس سے گزرے، رک کر اس کی قراءت سنی، جب وہ فارغ ہوا اور سوال کیا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾! ہمیں یہاں سے لے چلو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو قرآن پڑھے، وہ اللہ عزوجل سے مانگے، کیونکہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔
حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ لَمْ يُحَاجَّهُ الْقُرْآنُ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسَمِائَةِ آيَةٍ أَصْبَحَ لَهُ قِنْطَارٌ (مِنَ) الْأَجْرِ، وَالْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں سو آیات کی تلاوت کرے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا اجر لکھ دیا جاتا ہے، اور جو دو سو آیات پڑھے، قرآن اس کے خلاف حجت نہیں ہوگا، اور جو پانچ سو آیات پڑھے، وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ اس کے لیے ایک قنطار اجر لکھا جائے گا، اور قنطار بارہ ہزار (درہم) کے برابر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: وَاللهِ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْ طَلْقِ ابْنِ حَبِيبٍ ! وَأَشَارَ بِيَدِهِ، وَسُئِلَ: مَنْ أَقْرَأُ النَّاسِ ؟ قَالَ: مَنْ إِذَا سَمِعْتَ قِرَاءَتَهُ رَأَيْتَ أَنَّهُ يَخْشَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
طاووس رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے طلق بن حبیب رحمہ اللہ سے بہتر قراءت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، اور (یہ کہتے ہوئے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ان سے پوچھا گیا: سب سے بہترین قاری کون ہے؟ تو فرمایا: وہ شخص، جس کی قراءت سن کر تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے۔
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: إِنَّا قَوْمٌ أُوتِينَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نُؤْتَى الْقُرْآنَ، وَإِنَّكُمْ قَوْمٌ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُؤْتَوُا الْإِيمَانَ . !
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن سے پہلے ایمان عطا کیا گیا، اور تم وہ لوگ ہو جنہیں ایمان سے پہلے قرآن عطا کیا گیا۔
حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْنٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مَا خَيَّبَ اللهُ بَيْتًا أَوَى إِلَيْهِ امْرُؤٌ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ أَوْ آلِ عِمْرَانَ، أَوْ بَعْضِ صَوَاحِبِهِنَّ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کبھی اس گھر کو بے برکت نہیں کرتا جہاں کوئی شخص سورہ البقرہ یا سورہ آل عمران، یا ان میں سے کسی کا کچھ حصہ پڑھ کر رہتا ہو۔
حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَوْصِنِي ! فَقَالَ: إِذَا سَمِعْتَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا - فَأَصْغِ لَهَا سَمْعَكَ ؛ فَإِنَّهُ خَيْرٌ تُؤْمَرُ بِهِ، أَوْ شَرٌّ تُصْرَفُ عَنْهُ . ! "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا: مجھے نصیحت فرمائیں! آپ نے فرمایا: جب اللہ عزوجل کو اپنی کتاب میں یہ فرماتے سنو ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ تو اپنے کانوں کو متوجہ کرلو، کیونکہ یا تو کوئی بھلائی ہے جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے، یا کوئی برائی ہے جس سے تمہیں روکا جا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ عَلَيَّ " ! فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ! فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ! فَقَرَأَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ سُورَةَ النِّسَاءِ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ: { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا } فَاسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْسَكَ عَبْدُ اللهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مجھ پر قرآن پڑھو!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ میں نے سورہ النساء کی تلاوت کی، یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اور میں خاموش ہوگیا۔
حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا (أَبُو) الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللهِ: " اقْرَأْ " ! فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ! قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ! وَافْتَتَحَ عَبْدُ اللهِ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا } ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، وَقَالَ: " حَسْبُكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قرآن پڑھو!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کیسے قرآن پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچے: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو!“
حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ مُؤَدِّبُ أَبِي عَبْدِ اللهِ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللهِ: " اقْرَأْ عَلَيَّ " ! قَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ! فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ! فَقَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ: { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا } قَالَ: فَغَمَزَنِي، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا دُمُوعُهُ تَنْحَدِرُ .
مظاہر امیر خان
عبیدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے سامنے قرآن پڑھو!“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کیسے قرآن پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ انہوں نے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 54
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَرَأَ عَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: رَتِّلْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؛ فَإِنَّهُ زَيْنُ الْقُرْآنِ . " !
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، اور ان کی آواز بہت خوبصورت تھی۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ترتیل سے پڑھو، میرے ماں باپ تم پر قربان جائیں، کیونکہ یہ قرآن کی زینت ہے!“
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ - أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمِيكَائِيلَ نَزَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مِيكَائِيلُ: اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ ! وَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: اسْتَزِدْهُ ! فَاسْتَزَادَهُ، فَقَالَ لَهُ: اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ ! فَقَالَ لَهُ: اسْتَزِدْهُ ! فَقَالَ لَهُ: اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ ! فَاسْتَزَادَهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ! فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَكَتَ .
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نازل ہوئے۔ میکائیل علیہ السلام نے کہا: ”ایک حرف پر پڑھیں!“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”ان سے اور مانگیں!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کی درخواست کی، تو کہا گیا: ”دو حروف پر پڑھیں!“ پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”اور مانگیں!“ تو کہا گیا: ”تین حروف پر پڑھیں!“ یہاں تک کہ تعداد سات حروف تک پہنچی، تو کہا گیا: ”سات حروف پر پڑھیں!“ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور دونوں فرشتے بھی خاموش ہو گئے۔
حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: لَقِيَ رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ، فَقَالَ لَهُ: اقْرَأْ عَلَيَّ ! فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: " اقْرَأْ عَلَيَّ " ! (فَقُلْتُ): يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَيْسَ مِنْكَ تَعَلَّمْتُهُ ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي . !
مظاہر امیر خان
ابو حیان اشجعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: ”مجھ پر قرآن پڑھیں!“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھ سے فرمایا تھا: ’مجھ پر قرآن پڑھو!‘ میں نے عرض کیا: ’یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر وہ قرآن پڑھوں جو میں نے آپ ہی سے سیکھا ہے؟‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ہاں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اسے کسی اور سے سنوں!‘“
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: كَانَ جِبْرِيلُ يُعَارِضُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَارَضَهُ مَرَّتَيْنِ . ¤ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: فَيُرْجَى أَنَّ تَكُونَ قِرَاءَتُنَا هَذِهِ عَلَى الْعَرْضَةِ الْأَخِيرَةِ . !
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ہر رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ قرآن کا دور کیا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”امید ہے کہ ہماری یہ قراءت (قرآن کی تلاوت) اسی آخری بار کی گئی قراءت پر ہوگی۔“
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلًا ؟ قُلْنَا: قِرَاءَتُنَا . فَقَالَ: لَا، بَلْ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ ؛ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، فَشَهِدَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ . !
مظاہر امیر خان
ابی ظبیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: ”تم کس قراءت کو پہلے شمار کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہماری قراءت کو۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر رمضان میں قرآن کا دور کیا جاتا تھا، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس سال دو مرتبہ قرآن کا دور کیا گیا، چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کے گواہ تھے کہ قرآن میں کیا منسوخ کیا گیا اور کیا بدلا گیا۔“
حدیث نمبر: 59
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: لَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا تُبَلِّغُنِيهِ الْإِبِلُ أَحْدَثَ عَهْدًا بِالْعَرْضَةِ الْآخِرَةِ مِنِّي لَأَتَيْتُهُ . أَوْ: لَتَكَلَّفْتُ أَنْ آتِيَهُ . !
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر مجھے معلوم ہو کہ کوئی ایسا شخص ہے جو مجھ سے زیادہ آخری مرتبہ کے قرآن کے پیش کیے جانے کا قریب العہد ہے (یعنی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی آخری بار پڑھی گئی قراءت کے مطابق سیکھا ہو)، اور اس تک پہنچنے کے لیے اونٹ مجھے لے جا سکتے ہیں، تو میں ضرور اس کے پاس جاتا۔ یا پھر میں اس کے پاس جانے کی ہر ممکن کوشش کرتا۔“
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ، لَا يَدَعُونَ مِنْهُ أَلِفًا، وَلَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ . " !
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسے لوگ قرآن پڑھیں گے جو اسے تیر کی طرح درست کریں گے، اس میں سے کوئی حرف نہیں چھوڑیں گے، مگر ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَحَدَّى النَّاسَ بِالْحِفْظِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَمَا تَرَكَ أَلِفًا وَلَا وَاوًا . " !
مظاہر امیر خان
تابعی مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں لوگوں سے حفظ میں مقابلہ کرتا تھا، پس میں نے سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو انہوں نے سورہ البقرہ پڑھی اور کوئی الف یا واؤ نہیں چھوڑا۔
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: الْقُرْآنُ ذَكَرٌ، فَذَكِّرُوهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: الْقُرْآنُ ذَكَرٌ، فَذَكِّرُوهُ، وَإِنِ اخْتَلَفْتُمْ فِي الْيَاءِ وَالتَّاءِ فَاجْعَلُوهَا يَاءً .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم لوگوں کو کسی حرف کی یاء اور تاء ہونے میں شک ہو جائے تو اس کو یاء بنا دو۔ کیونکہ قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ بْنَ قَيْسٍ وَأَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي قِرَاءَةِ يَاءٍ وَتَاءٍ فَاقْرَؤُوا عَلَى يَاءٍ، وَذَكِّرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ مُذَكَّرٌ . ¤ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَسَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: الْيَاءُ عَامَّةٌ، وَالتَّاءُ خَاصَّةٌ .
مظاہر امیر خان
عطیہ بن قیس رحمہ اللہ اور ہمارے شیوخ فرماتے تھے: جب یاء اور تاء کی قراءت میں اختلاف ہو تو یاء کے ساتھ پڑھو، کیونکہ قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔ ابو بکر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنے شیوخ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یاء عام ہوتی ہے اور تاء خاص۔
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ يَقُولُ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي قِرَاءَةِ يَاءٍ وَتَاءٍ، فَاقْرَؤُوا عَلَى يَاءٍ، وَذَكِّرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ مُذَكَّرٌ .
مظاہر امیر خان
خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے تھے: جب یاء اور تاء کی قراءت میں اختلاف ہو تو یاء کے ساتھ پڑھو، اور قرآن کو یاد رکھا کرو کیونکہ قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ: قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ سُنَّةٌ، يَأْخُذُهَا الْآخِرُ عَنِ الْأَوَّلِ .
مظاہر امیر خان
محمد بن المنکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قرآن کی قراءت ایک سنت ہے، جو بعد والا پہلے والے سے حاصل کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: الْقِرَاءَةُ سُنَّةٌ .
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قراءت سنت ہے۔
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَخَذَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَعَمِلَ بِهِ فَقَدْ أَخَذَ أَمْرَ ثُلُثِ النُّبُوَّةِ، وَمَنْ أَخَذَ نِصْفَ الْقُرْآنِ فَقَدْ أَخَذَ أَمْرَ نِصْفِ النُّبُوَّةِ، وَمَنْ أَخَذَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فَعَمِلَ بِهِ فَقَدْ أَخَذَ النُّبُوَّةَ كُلَّهَا .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کے تہائی حصے کو حاصل کیا اور اس پر عمل کیا تو اس نے نبوت کے تہائی حصے کو حاصل کیا، اور جس نے قرآن کے نصف کو حاصل کیا تو اس نے نبوت کے نصف کو حاصل کیا، اور جس نے پورے قرآن کو حاصل کیا اور اس پر عمل کیا تو اس نے پوری نبوت کو حاصل کر لیا۔
حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الطُّوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ خَيْرٌ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن کی سات طویل سورتیں حاصل کیں، وہ بہترین ہے۔
حدیث نمبر: 70
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ عَرَبِيٌّ، وَتَفَقَّهُوا فِي السُّنَّةِ، وَأَحْسِنُوا عِبَارَةَ الرُّؤْيَا، وَإِذَا قَصَّ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَلَنَا، وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَعَلَى عَدُوِّنَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: قرآن کو صحیح طریقے سے عربی قواعد کے مطابق پڑھو کیونکہ یہ عربی ہے، سنت میں فقہ حاصل کرو، خواب کی تعبیر اچھے انداز میں بیان کرو، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو خواب سنائے تو یوں کہے: ”اے اللہ! اگر یہ خیر ہے تو ہمارے لیے ہو، اور اگر شر ہے تو ہمارے دشمن پر ہو۔“
حدیث نمبر: 71
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔“
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ هَذَا الْقُرْآنَ آمِرًا وَزَاجِرًا، وَسُنَّةً خَالِيَةً، وَمَثَلًا مَضْرُوبًا، فِيهِ نَبَؤُكُمْ وَنَبَأُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَنْ بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ خَاصَمَ بِهِ فَلَجَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، لَا يُخْلِقُهُ طُولُ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے اس قرآن کو حکم دینے والا، منع کرنے والا، سابقہ امتوں کی سنن، مثالیں، تمہاری خبریں، تم سے پہلے والوں کی خبریں، تمہارے بعد والوں کی خبریں، اور تمہارے درمیان فیصلے کا ذریعہ بنا کر نازل فرمایا ہے۔ جو اس کے مطابق بات کرے وہ سچا ہے، جو اس کے ذریعے جھگڑا کرے وہ کامیاب ہے، جو اس پر عمل کرے وہ اجر پائے گا، اور جو اس کو مضبوطی سے تھامے گا وہ سیدھے راستے کی ہدایت پائے گا۔ اس کے بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا اور اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: نَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، أَوْ غَيْرِهِ - شَكَّ حَمَّادٌ - قَالَ: مَنْ قَرَأَ: { إِذَا زُلْزِلَتِ } فَكَأَنَّمَا قَرَأَ نِصْفَ الْقُرْآنِ، وَمَنْ قَرَأَ: { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَمَنْ قَرَأَ: { قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ } فَكَأَنَّمَا قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ .
مظاہر امیر خان
مسیب بن رافع رحمہ اللہ یا کسی اور سے مروی ہے (حماد کو شک ہے) کہ جس نے سورہ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ پڑھی تو گویا اس نے نصف قرآن پڑھا، اور جس نے سورہ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھی تو گویا اس نے چوتھائی قرآن پڑھا، اور جس نے سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ پڑھی تو گویا اس نے تہائی قرآن پڑھا۔
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ { قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ } كَانَتْ لَهُ عِدْلَ ثُلُثِ الْقُرْآنِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے سورہ الاخلاص ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ پڑھی، تو یہ اس کے لیے ثلث (یعنی ایک تہائی) قرآن کے برابر ہوگی۔
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَأَ: { يس } فَكَأَنَّمَا قَرَأَ الْقُرْآنَ عَشْرَ مَرَّاتٍ .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورہ یس ﴿يس﴾ پڑھی، تو گویا اس نے قرآن دس مرتبہ پڑھا۔
حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا أَبُو سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: إِذَا قَرَأَ أَحَدُكُمُ الْآيَةَ فَلَا يَقْطَعْهَا حَتَّى يُتِمَّهَا .
مظاہر امیر خان
ابن ابی الہذیل رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آیت پڑھے تو اسے مکمل کیے بغیر نہ روکے۔
حدیث نمبر: 77
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا شَابًّا، فَكَأَنَّهُمْ قَالُوا فِيهِ وَقَدْ كَانَ قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ جِرَابٍ مُلِئَ مِسْكًا، إِنْ فَتَحْتَهُ فَتَحْتَهُ طَيِّبًا، وَإِنَّ أَوْعَيْتَهُ أَوْعَيْتَهُ طَيِّبًا .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کو کسی کام پر مقرر کیا، تو کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حالانکہ وہ قرآن پڑھ چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال ایسے برتن کی مانند ہے جو مشک سے بھرا ہوا ہو، اگر تم اسے کھولو گے تو خوشبو بکھرے گی، اور اگر اسے بند رکھو گے تو بھی خوشبو باقی رہے گی۔
حدیث نمبر: 78
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { إِنَّا أَنْـزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ } قَالَ: أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَجِيءُ بَعْدُ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مظاہر امیر خان
اللہ عزوجل کے فرمان ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ﴾ سورہ الدخان [44:3] کے بارے میں ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن ایک ساتھ جبرائیل علیہ السلام پر نازل کیا گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام اسے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آتے رہے۔
حدیث نمبر: 79
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ نَزَلَ مُفَصَّلًا .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن ایک ساتھ بلند آسمان سے آسمانِ دنیا پر شبِ قدر میں اترا، پھر بعد میں تفصیل کے ساتھ نازل ہوتا رہا۔
حدیث نمبر: 80
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَدَّادٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سُلَيْمَانَ (1)، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَكِيمَةَ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا أَكْتُبُ مُصْحَفًا، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى كِتَابِي، فَقَالَ: أَجِلَّ قَلَمَكَ، فَقَضَمْتُ مِنْ قَلَمِي قَضْمَةً، ثُمَّ جَعَلْتُ أَكْتُبُ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: نَعَمْ، نَوِّرْهُ كَمَا نَوَّرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
ابو حکیمہ العبدی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے جبکہ میں مصحف لکھ رہا تھا، تو وہ میرے لکھنے کو دیکھنے لگے اور فرمایا: اپنے قلم کو خوبصورت بناؤ۔ میں نے اپنے قلم کو تراشا، پھر لکھنے لگا، تو انہوں نے دوبارہ دیکھا اور فرمایا: ہاں! تو آپ نے فرمایا: اس طرح واضح کرو جیسا کہ اللہ نے واضح کیا۔
…