حدیث نمبر: 1
حَدَّثَنَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَعَلَيْهِ بِالْقُرْآنِ ؛ فَإِنَّ فِيهِ (خَبَرَ) الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا: ”جس نے علم حاصل کرنا ہو، اسے قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں پہلے اور بعد کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔“
حدیث نمبر: 2
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَا يَضُرُّ الرَّجُلَ أَنْ لَا يَسْأَلَ عَنْ نَفْسِهِ إِلَّا الْقُرْآنَ، فَإِنْ كَانَ يُحِبُّ الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آدمی کو اپنے بارے میں کچھ نہ پوچھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا، سوائے قرآن کے۔ اگر وہ قرآن سے محبت کرتا ہے تو یقیناً وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: مَنْ أَحَبَّ الْقُرْآنَ فَلْيَبْشَرْ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے قرآن سے محبت کی، وہ خوشخبری حاصل کرے۔“
حدیث نمبر: 4
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ؛ فَإِنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، لَا أَقُولُ: الم، وَلَكِنْ: أَلِفٌ، وَلَامٌ، وَمِيمٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”قرآن سیکھو، کیونکہ اس کے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ملتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ’الم‘ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف، اور میم ایک حرف ہے۔“
حدیث نمبر: 5
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَهُوَ غِنًى لَا فَقْرَ بَعْدَهُ، وَالْأَمَانَةُ غِنًى .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا، وہ ایسی دولت پا گیا کہ اس کے بعد کوئی فقر نہیں، اور امانت بھی دولت ہے۔“
حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ تُؤْجَرُوا بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: الم، وَلَكِنْ: أَلِفٌ، وَلَامٌ، وَمِيمٌ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”قرآن سیکھو اور اسے پڑھو، تمہیں ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ملیں گی۔ دیکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ ’الم‘ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف، اور میم ایک حرف ہے۔“
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللهِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ ; فَإِنَّهُ حَبْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالنُّورُ الْمُبِينُ، وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ . عِصْمَةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنِ اتَّبَعَهُ . وَلَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ، وَلَا يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبُ . وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ . فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُرُكُمْ عَلَى تِلَاوَتِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: الم " .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، پس تم میں سے جو بھی اس میں سے کچھ سیکھنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ ضرور سیکھے؛ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی رسی ہے، واضح نور ہے، نفع دینے والا شفا ہے، جو اس سے وابستہ رہے وہ محفوظ رہے گا، اور جو اس کی پیروی کرے وہ نجات پائے گا۔ یہ نہ ٹیڑھا ہوتا ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ بھٹکتا ہے کہ اسے متنبہ کیا جائے۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے، اور بار بار پڑھنے سے پرانا نہیں ہوتا۔ بے شک اللہ عزوجل تمہیں اس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ دیکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ ﴿الم﴾ (ایک حرف ہے)۔“
حدیث نمبر: 8
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ كَائِنٌ لَكُمْ أَجْرًا، وَكَائِنٌ لَكُمْ ذِكْرًا، وَكَائِنٌ عَلَيْكُمْ وِزْرًا ؛ فَاتَّبِعُوا الْقُرْآنَ وَلَا يَتَّبِعْكُمْ ؛ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعِ الْقُرْآنَ يَهْبِطْ بِهِ رِيَاضَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ يُتَّبَعُ بِهِ الْقُرْآنُ يَزُخَّ فِي قَفَاهُ حَتَّى يَقْذِفَهُ فِي جَهَنَّمَ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک یہ قرآن تمہارے لیے اجر بن سکتا ہے، تمہارے لیے نصیحت بن سکتا ہے، اور تم پر بوجھ (گناہ) بھی بن سکتا ہے۔ پس قرآن کی پیروی کرو، اسے اپنی پیروی مت کرنے دو؛ کیونکہ جو قرآن کی پیروی کرے گا، وہ اسے جنت کے باغات میں پہنچا دے گا، اور جسے قرآن (زبردستی) پیروی پر مجبور کرے گا، وہ اس کی پیٹھ پر مارے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں دھکیل دے گا۔“
حدیث نمبر: 9
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَلَا آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنِ اسْتَمَعَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ كَتَبَ اللهُ لَهُ حَسَنَةً مُضَاعَفَةً .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ عزوجل کی کتاب میں سے ایک آیت تلاوت کی، وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگی، اور جس نے اللہ کی کتاب کی ایک آیت سنی، اللہ اس کے لیے دگنی نیکی لکھ دے گا۔“
حدیث نمبر: 10
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلِّمُوا أَوْلَادَكُمْ وَأَهَالِيَكُمُ الْقُرْآنَ ; فَإِنَّهُ مَنْ كَتَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (لَهُ مِنْ) مُسْلِمٍ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا قِيلَ لَهُ: اقْرَأْ، وَارْتَقِ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ ! حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى عِلْمِهِ مِنَ الْقُرْآنِ " .
مظاہر امیر خان
ضحاک بن قیس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے بچوں اور اہل و عیال کو قرآن سکھاؤ، کیونکہ جس کے لیے اللہ عزوجل نے جنت میں داخلہ لکھ دیا ہے، اس سے کہا جائے گا: پڑھو اور جنت کے درجات پر چڑھتے جاؤ! یہاں تک کہ وہ قرآن کے اپنے علم کی انتہا تک پہنچ جائے۔“
حدیث نمبر: 11
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: " اقْرَأْ، وَارْقَ، وَرَتِّلْ ! فَيَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي بِهِ الْقُرْآنُ " .
مظاہر امیر خان
ابراہیم تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا: ”پڑھو، چڑھو، اور ترتیل کے ساتھ پڑھو! پس وہ وہاں تک پہنچے گا جہاں تک قرآن اسے لے جائے گا۔“
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعٌ مُطَاعٌ وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ، فَيَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اجْزِهِ ; فَإِنَّهُ كَانَ يَعْمَلُ بِي، وَيَسْهَرُ بِي، وَيَنْصَبُ بِي ؛ فَاجْزِهِ ! فَيُقَالُ: " حُلَّةَ الْكَرَامَةِ " ! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اجْزِهِ ; فَإِنَّهُ كَانَ يَعْمَلُ بِي، وَيَسْهَرُ بِي، وَيَنْصَبُ بِي ؛ فَاجْزِهِ ! فَيُقَالُ: " تَاجَ الْكَرَامَةِ " ! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اجْزِهِ ; فَإِنَّهُ كَانَ يَعْمَلُ بِي، وَيَسْهَرُ بِي، وَيَنْصَبُ بِي ! قَالَ: فَيُقَالُ: " رِضْوَانِي، لَا سَخَطَ بَعْدَهُ ! " قَالَ: فَإِلَى ذَلِكَ تَنْتَهِي شَفَاعَةُ الْقُرْآنِ .
مظاہر امیر خان
مسیب بن رافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: قیامت کے دن قرآن شفاعت کرنے والا اور تصدیق شدہ وکیل بن کر آئے گا، پس وہ اپنے صاحب کے لیے سفارش کرے گا اور کہے گا: ”اے میرے رب! اسے جزا دے، کیونکہ یہ میرے ذریعے عمل کرتا تھا، میری خاطر راتوں کو جاگتا تھا اور میرے لیے مشقت اٹھاتا تھا، پس اسے جزا دے!“ تو کہا جائے گا: ”اسے عزت و کرامت کا حلہ پہناؤ!“ پھر قرآن کہے گا: ”اے رب! اسے مزید جزا دے، کیونکہ یہ میرے ذریعے عمل کرتا تھا، میری خاطر جاگتا تھا اور مشقت اٹھاتا تھا!“ تو کہا جائے گا: ”اسے عزت و کرامت کا تاج پہناؤ!“ پھر قرآن دوبارہ کہے گا: ”اے رب! اسے مزید جزا دے، کیونکہ یہ میرے ذریعے عمل کرتا تھا، میری خاطر جاگتا تھا اور مشقت اٹھاتا تھا!“ تو کہا جائے گا: ”میری رضا اسے عطا کر دی گئی، اب اس پر کبھی ناراضگی نہ ہوگی!“ اور یہیں پر قرآن کی شفاعت ختم ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يَقُولُ: لَأَنْ أَكُونَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ قُمْتُ بِهِ سَنَةً - كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ؛ وَذَلِكَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: " اقْرَأْ، وَارْقَ، وَرَتِّلْ ! فَيُرْجَى إِذَا كَانَ جَمَعَ الْقُرْآنَ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ " .
مظاہر امیر خان
عقبہ بن صعیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو صالح رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اگر میں قرآن جمع کر لوں، پھر ایک سال تک اس کے ساتھ قیام کروں، تو یہ مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہوگا، کیونکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا: ’پڑھو، چڑھو، اور ترتیل کے ساتھ پڑھو!‘ پس امید کی جاتی ہے کہ جس نے قرآن جمع کیا ہو، وہ مقربین میں شامل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 14
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ (أَوْفَى)، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ لَهُ حَافِظٌ مَثَلُ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ . وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَلَيْسَ بِحَافِظٍ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ، وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ - فَلَهُ أَجْرَانِ .
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرآن پڑھتا ہے اور اسے حفظ بھی کیے ہوئے ہے، اس کی مثال معزز و نیکوکار فرشتوں جیسی ہے، اور جو قرآن پڑھتا ہے لیکن حفظ نہیں، اور اسے یاد رکھنا اس پر دشوار ہوتا ہے، پھر بھی وہ اسے دہراتا رہتا ہے، تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 15
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: الَّذِي تَهُونُ عَلَيْهِ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ يُكْتَبُ مِنَ السَّفَرَةِ، وَالَّذِي تَشُقُّ عَلَيْهِ قِرَاءَتُهُ وَتَثْقُلُ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص بآسانی قرآن پڑھتا ہے، اسے معزز فرشتوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور جو قرآن پڑھنے میں مشقت محسوس کرتا ہے اور اس پر گراں گزرتا ہے، اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔
حدیث نمبر: 16
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ; فَإِنَّهُ لَهُوُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ ! وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ! بَلْ هُوَ نُسِّيَ . !
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قرآن کی حفاظت کرتے رہو، کیونکہ یہ انسان کے سینے سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے بندھے ہوئے اونٹ کھل کر بھاگ جاتے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کا یہ کہنا کہ ”میں نے فلاں آیت بھلا دی“ بہت برا ہے، بلکہ حقیقت میں وہ بھلا دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 17
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ - أَوْ قَالَ: لِأَحَدِهِمْ - أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ! بَلْ هُوَ نُسِّيَ ! اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ؛ فَلَهُوَ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مَنْ عُقُلِهَا " ! أَوْ قَالَ أَحَدُهُمَا: " مِنْ عُقُلِهِ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ ”میں نے فلاں آیت بھلا دی“ بہت برا ہے، بلکہ حقیقت میں وہ بھلا دیا گیا ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، کیونکہ یہ انسان کے سینے سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے بندھے ہوئے اونٹ کھل کر بھاگ جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا، لَا يَفُكُّهُ مِنْ غُلِّهِ إِلَّا الْعَدْلُ ! وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ نَسِيَهُ - لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ (أَجْذَمَ .) !
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ شخص جو کسی جماعت کے امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہو، وہ قیامت کے دن قید کی حالت میں لایا جائے گا، اور اسے اس قید سے صرف انصاف ہی چھڑوا سکے گا۔ اور جو شخص قرآن پڑھے اور پھر اسے بھلا دے، وہ اللہ تعالیٰ سے ایسے ملے گا جیسے اس کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ الْفَزَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أُبَالِي، تَعَلَّمْتُ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ تَرَكْتُهَا، أَوْ مَشَيْتُ فِي النَّاسِ مَقْطُوعَةً يَدِي . ! "
مظاہر امیر خان
سوید بن جبلہ الفزاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے قرآن کی کوئی سورت سیکھی اور پھر اسے چھوڑ دیا، یا یہ کہ میں لوگوں میں کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ چل رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ . وَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَجْلَسَنِي مَجْلِسِي هَذَا، فَأَقْرَأَنِي .
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، مجھے اپنے پاس بٹھایا اور مجھے قرآن پڑھایا۔
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ¤ إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ . ¤ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: ذَلِكَ أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا . !
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔“ ابو عبدالرحمٰن السلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسی (حدیث) کی بنا پر میں اس جگہ (لوگوں کو قرآن سکھانے کے لیے) بیٹھا ہوں۔“
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ (مُجَاهِدًا) يَقُولُ: الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، جَعَلْتَنِي فِي جَوْفِهِ، فَأَسْهَرْتُ لَيْلَهُ، وَمَنَعْتُهُ كَثِيرًا مِنْ شَهْوَتِهِ، وَلِكُلِّ عَامِلٍ عُمَالَةٌ ! فَيَقُولُ: ابْسُطْ يَدَكَ، أَوْ قَالَ: يَمِينَكَ ! فَيَمْلَأُهَا مِنْ رِضْوَانِهِ، فَلَا يَسْخَطُ عَلَيْهِ بَعْدَهَا . ثُمَّ يُقَالُ: اقْرَهْ، وَارْقَهْ، فَيُرْفَعُ لَهُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ، وَبِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةٌ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: قرآن قیامت کے دن اپنے ساتھی کی سفارش کرے گا اور کہے گا: ”اے میرے رب! تو نے مجھے اس کے سینے میں رکھا، میں نے اس کی راتوں کو جاگنے میں گزارا، اور اسے بہت سی خواہشات سے روکے رکھا، اور ہر عمل کرنے والے کے لیے بدلہ ہوتا ہے!“ پس (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: ”اپنا ہاتھ پھیلاؤ!“ یا فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ پھیلاؤ!“ پس اس کا ہاتھ اللہ کے رضوان سے بھر دیا جائے گا، اور اس پر کبھی ناراضگی نہ ہوگی۔ پھر کہا جائے گا: ”پڑھو اور چڑھو!“ پس ہر آیت کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا، اور ہر آیت کے بدلے اسے نیکی ملے گی۔
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ¤ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسِينَ آيَةً كُتِبَ مِنَ الْحَافِظِينَ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَرَأَ ثَلَاثَمِائَةِ آيَةٍ يَقُولُ الْجَبَّارُ: قَدْ نَصِبَ عَبْدِي فِيَّ ! وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ - وَالْقِنْطَارُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا - وَأَكْثَرُ، مَا شَاءَ مِنَ الْأَجْرِ ! فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ رَبُّكَ لِلْعَبْدِ: اقْرَأْ وَارْقَ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً ! حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى آخِرِ آيَةٍ مَعَهُ، يَقُولُ رَبُّكَ لِلْعَبْدِ: اقْبِضْ ! يَقُولُ الْعَبْدُ بِيَدِهِ: يَا رَبِّ، أَنْتَ أَعْلَمُ ! قَالَ: يَقُولُ: بِهَذِهِ الْخُلْدَ، وَبِهَذِهِ النَّعِيمَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا فضیلہ بن عبید اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات میں دس آیات پڑھے، وہ نماز پڑھنے والوں میں لکھا جائے گا اور غافلوں میں شمار نہ ہوگا۔ جو پچاس آیات پڑھے، وہ صبح تک اللہ کے محافظ بندوں میں لکھا جائے گا۔ جو تین سو آیات پڑھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’میرا بندہ میری خاطر مشقت میں رہا!‘ اور جو ایک ہزار آیات پڑھے، اس کے لیے ایک قنطار (اجر) لکھا جائے گا، اور قنطار دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ، جتنا اللہ چاہے اجر عطا فرمائے! جب قیامت کا دن ہوگا تو تمہارا رب بندے سے فرمائے گا: ’پڑھو اور ہر آیت کے بدلے چڑھتے جاؤ!‘ یہاں تک کہ وہ اپنی آخری آیت تک پہنچ جائے گا، پھر اللہ فرمائے گا: ’لے لو!‘ بندہ ہاتھ پھیلا کر عرض کرے گا: ’اے رب! تو ہی بہتر جانتا ہے!‘ اللہ فرمائے گا: ’اس کے ذریعے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرو، اور اس کے ذریعے نعمتیں پاؤ!‘“
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ عَشْرَ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ . !
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو رات میں دس آیات پڑھے، وہ غافلوں میں شمار نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: نَا بَعْضُ أَشْيَاخِنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَأَعْرَبَ بِقِرَاءَتِهِ، فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ - كَانَ كَالشَّهِيدِ الْمُتَخَبِّطِ فِي دَمِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرآن پڑھے اور درست تلفظ کے ساتھ پڑھے، پھر اسی حالت میں وفات پائے، تو وہ اس شہید کی مانند ہوگا جو اللہ کے راستے میں خون میں لت پت ہو۔“
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ (بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ)، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، (عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ)، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونچی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے کھلے عام صدقہ دینے والا، اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے پوشیدہ صدقہ دینے والا۔“
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ أَهْلَهُ فَدَعَا .
مظاہر امیر خان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب قرآن ختم کرتے تو اپنے اہل خانہ کو جمع کرتے اور دعا فرماتے۔
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ أُعْطِيَ دَعْوَةً لَا تُرَدُّ " .
مظاہر امیر خان
تابعی مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جو قرآن ختم کرے اسے ایسی دعا دی جاتی ہے جو رد نہیں کی جاتی۔
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نَا هُشَيْمٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: أَنَا شَيْخٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللهُ: أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ ; فَإِنَّهُ عَرَبِيٌّ، وَسَيَكُونُ بَعْدَكُمْ أَقْوَامٌ يَثْقَفُونَهُ وَلَيْسُوا بِخِيَارِكُمْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن کو صحیح عربی لہجے میں پڑھو، کیونکہ یہ عربی ہے، اور تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو اسے غلط انداز میں پڑھیں گے، حالانکہ وہ تم میں بہترین نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: اقْرَؤُوا، فَكُلٌّ كِتَابُ اللهِ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ، يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ قرآن پڑھ رہے تھے، تو فرمایا: پڑھو، سب اللہ کی کتاب ہے، اس سے پہلے کہ ایسے لوگ آئیں جو اسے تیر سیدھا کرنے کی طرح درست کریں گے، وہ جلدی لیں گے اور ٹھہر کر نہیں پڑھیں گے۔
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْجَمِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ: اقْرَؤُوا، وَكُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ يُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ الْقِدْحُ، يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے، اور ہمارے درمیان عجمی اور دیہاتی بھی تھے، تو فرمایا: پڑھو، اور ہر قراءت اچھی ہے، مگر عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے تیر کی طرح سیدھا کریں گے، جلدی کریں گے اور ٹھہر کر نہیں پڑھیں گے۔
حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ (عُبَيْدِ اللهِ) بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَبِأَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتَ أَصَبْتَ .
مظاہر امیر خان
سیدہ ام ایوب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حروف (لہجوں) پر نازل ہوا ہے، پس جس حرف (لہجے) میں بھی تم نے پڑھا، درست پڑھا۔
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ .
مظاہر امیر خان
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حروف (لہجوں) پر نازل ہوا ہے، اور سب کے سب شفا اور کفایت کرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنِّي قَدِ اسْتَمَعْتُ إِلَى الْقِرَاءَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُمْ إِلَّا مُتَقَارِبِينَ، فَاقْرَؤُوا عَلَى مَا عُلِّمْتُمْ ! وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالِاخْتِلَافَ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ: أَقْبِلْ، وَهَلُمَّ، وَتَعَالَ " .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قراءت سنی تو سب کو ایک دوسرے سے قریب پایا، پس جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، اسی طرح پڑھو! اور حد سے تجاوز اور اختلاف سے بچو، کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے: آؤ، «ھلم»، اور «تعال»۔ («ھلم» اور «تعال» یعنی دونوں کا معنی ہے آؤ)۔
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا، فَأَخَذْتُهُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، لَا تَخْتَلِفُوا . !
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص کو ایسی آیت پڑھتے سنا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برعکس سنی تھی، تو میں اسے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں اچھا پڑھ رہے ہو، اختلاف نہ کرو!“
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: نَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ (عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ)، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - أَوْ عُمَرَ، شَكَّ سَعِيدٌ -، قَالَ: هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ، فَخَرَجَ وَقَدْ عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَّا إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ . !
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جلدی حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو سنا جو ایک آیت میں اختلاف کر رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یاد رکھو! تم سے پہلے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔“
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ (عَنْهُ) عَلَى قَوْمٍ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَرَاجَعُونَ فِيهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ (فَقَالُوا): نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَنَتَرَاجَعُ فِيهِ ! فَقَالَ: تَرَاجَعُوا، وَلَا تَلْحَنُوا . !
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک قوم کے پاس آئے جو قرآن پڑھ رہے تھے اور آپس میں مراجعت کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ہم قرآن پڑھ رہے ہیں اور اس پر غور و فکر کر رہے ہیں!“ تو آپ نے فرمایا: ”غور و فکر کرو، مگر غلطی نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 38
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَعَلَّمُ الْعَرَبِيَّةَ ؛ لِيُقِيمَ بِهَا كَلَامَهُ، وَيُقِيمَ بِهَا الْقُرْآنَ ! فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ ؛ فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقْرَأُ الْآيَةَ، فَيَعْيَا بِوَجْهِهَا، فَيَهْلِكُ " .
مظاہر امیر خان
میں نے حسن بصری رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو عربی زبان سیکھتا ہے تاکہ اپنی گفتگو اور قرآن کی قراءت کو درست کر سکے، تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بعض اوقات آدمی آیت پڑھتا ہے اور اس کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 39
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: أَيَّةُ أَرْضٍ تُقِلُّنِي، أَوْ أَيَّةُ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي، أَوْ أَيْنَ أَذْهَبُ، وَكَيْفَ أَصْنَعُ - إِذَا أَنَا قُلْتُ فِي آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ بِغَيْرِ مَا أَرَادَ اللهُ بِهَا . ؟ !
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا: ”کون سی زمین مجھے اٹھائے گی، کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا، میں کہاں جاؤں اور کیا کروں، اگر میں اللہ کی کتاب کی کسی آیت کے بارے میں وہ کہہ دوں جو اللہ نے اس کا مطلب نہیں چاہا؟!“
حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا (جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ) عَنْ إِدْرِيسَ وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ، قَالَ: قِيلَ لِلْحَسَنِ: إِنَّ لَنَا إِمَامًا يَلْحَنُ ! قَالَ: أَخِّرُوهُ . !
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا گیا: ”ہمارا امام قراءت میں غلطی کرتا ہے!“ تو فرمایا: ”اسے پیچھے کر دو۔“
…