حدیث نمبر: 980
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ أَقْرَأُ فِي مُصْحَفٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: اقْرَأْ فِي مُصْحَفِكَ . قُلْتُ: أَعُودُ مَرِيضًا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: عُدْ مَرِيضَكَ . قُلْتُ: أُشَيِّعُ جِنَازَةً أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: شَيِّعْ جِنَازَتَكَ . قُلْتُ: اسْتَعَانَ بِي رَجُلٌ عَلَى حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَذْهَبَ مَعَهُ أَوْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى حَاجَةِ أَخِيكَ - حَتَّى جَعَلَهُ خَيْرَ مَجَالِسِ الْفَرَاغِ .
مظاہر امیر خان

معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا مصحف میں قرآن پڑھنا آپ کو زیادہ پسند ہے یا کسی قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے مصحف میں قرآن پڑھو۔ میں نے پوچھا: کسی مریض کی عیادت کرنا زیادہ پسند ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: مریض کی عیادت کرو۔ میں نے کہا: جنازے کے ساتھ جانا زیادہ بہتر ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: جنازے کے ساتھ جاؤ۔ میں نے کہا: اگر کوئی آدمی مجھ سے کسی ضرورت میں مدد مانگے تو اس کے ساتھ جانا بہتر ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: اپنے بھائی کی ضرورت میں اس کے ساتھ جاؤ، یہاں تک کہ حسن رحمہ اللہ نے بھائی کی حاجت میں مدد کو فرصت کے اوقات کی بہترین مجلس قرار دیا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 980
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»