سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (204) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ أَقْرَأُ فِي مُصْحَفٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: اقْرَأْ فِي مُصْحَفِكَ . قُلْتُ: أَعُودُ مَرِيضًا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: عُدْ مَرِيضَكَ . قُلْتُ: أُشَيِّعُ جِنَازَةً أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: شَيِّعْ جِنَازَتَكَ . قُلْتُ: اسْتَعَانَ بِي رَجُلٌ عَلَى حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَذْهَبَ مَعَهُ أَوْ أَجْلِسُ إِلَى قَاصٍّ ؟ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى حَاجَةِ أَخِيكَ - حَتَّى جَعَلَهُ خَيْرَ مَجَالِسِ الْفَرَاغِ .معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا مصحف میں قرآن پڑھنا آپ کو زیادہ پسند ہے یا کسی قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے مصحف میں قرآن پڑھو۔ میں نے پوچھا: کسی مریض کی عیادت کرنا زیادہ پسند ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: مریض کی عیادت کرو۔ میں نے کہا: جنازے کے ساتھ جانا زیادہ بہتر ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: جنازے کے ساتھ جاؤ۔ میں نے کہا: اگر کوئی آدمی مجھ سے کسی ضرورت میں مدد مانگے تو اس کے ساتھ جانا بہتر ہے یا قصہ گو کے پاس بیٹھنا؟ فرمایا: اپنے بھائی کی ضرورت میں اس کے ساتھ جاؤ، یہاں تک کہ حسن رحمہ اللہ نے بھائی کی حاجت میں مدد کو فرصت کے اوقات کی بہترین مجلس قرار دیا۔