حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، سَمِعَ شَدَّادَ بْنَ مَعْقِلٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ، وَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ الَّذِي بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ أَوْشَكَ أَنْ يُرْفَعَ، قَالُوا: وَكَيْفَ وَقَدْ أَثْبَتَهُ اللهُ فِي قُلُوبِنَا وَأَثْبَتْنَاهُ فِي الْمَصَاحِفِ ؟ قَالَ: يُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا، فَيَذْهَبُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ، وَيُرْفَعُ مَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: { وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلا } .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے دین سے سب سے پہلے جو چیز ختم ہوگی وہ امانت ہوگی، اور سب سے آخر میں جو باقی رہے گی وہ نماز ہوگی، اور یہ قرآن جو تمہارے درمیان ہے، قریب ہے کہ اٹھا لیا جائے۔ صحابہ نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا جبکہ اللہ نے اسے ہمارے دلوں میں محفوظ کر دیا ہے اور ہم نے اسے مصاحف میں لکھ لیا ہے؟ تو فرمایا: رات کے وقت قرآن اٹھا لیا جائے گا، پس جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو مصاحف میں ہے وہ بھی اٹھا لیا جائے گا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا﴾ [سورہ الإسراء: 86]