حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شَيْبَةَ بْنِ نِصَاحٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ أَكْرَمَهُ كَرَامَةً لَمْ يُكْرِمْهَا أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، أَرَاهُ مَنْ هُوَ كَائِنٌ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ يَكُنْ مِمَّا أَرَاهُ اللهُ إِيَّاهُ يَكُنْ، فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَفْعَلَهُ .
مظاہر امیر خان

میں نے سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے عزل یعنی جماع کے دوران منی کو باہر نکالنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو ایسی عزت دی جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی، اور ان کو ان کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام لوگوں کو دکھایا۔ پھر فرمایا: جو کچھ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو دکھایا ہے، وہ ضرور ہو کر رہے گا، لہٰذا اگر تم عزل نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 968
درجۂ حدیث محدثین: سنده فيه هشام بن سعد وتقدم الكلام عن روايته عن غير زيد بن أسلم.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»