سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (172) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ } - قَالَ: أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينَ كُلِّهِمْ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقُوا . قَالَ: أَخَذَ النُّطَفَ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، فَرَأَى مِنْهَا نُطْفَةً تَتَلَأْلَأُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا ؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ . قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ جَعَلْتَ لَهُ ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَقْلَلْتَ لَهُ، قَالَ: فَأَعْطِهِ مِنْ سِنِينِكَ، فَإِنِّي جَعَلْتُ لَكَ أَلْفَ سَنَةٍ - فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً . ¤ فَلَمَّا حَضَرَ أَجَلُ آدَمَ قَالَ: رَبِّ، أَلَيْسَ جَعَلْتَ لِي أَلْفَ سَنَةٍ ؟ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَيْسَ قَدْ جَعَلْتَ مِنْ سِنِينِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً لِدَاوُدَ ؟ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ وَالْبَيِّنَةِ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل نے تمام انبیاء سے ان کی پیدائش سے پہلے ہی عہد لیا۔ فرمایا: اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی پشت سے نطفے نکالے، تو آدم علیہ السلام نے ان میں ایک چمکدار نطفہ دیکھا، کہنے لگے: اے میرے رب! یہ میرے بیٹوں میں سے کون ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داؤد ہے۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! اس کے لیے کتنی عمر رکھی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: اے رب! یہ تو تھوڑی ہے، میری عمر میں سے اسے دے دے، کیونکہ میں نے تیرے لیے ایک ہزار سال کی عمر رکھی ہے۔ تو آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کو عطا کر دیے۔ پھر جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے: اے رب! کیا تو نے میرے لیے ایک ہزار سال کی عمر نہیں رکھی تھی؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو نے داؤد کو اپنی عمر میں سے چالیس سال نہیں دیے تھے؟ تب اللہ عزوجل نے تحریر، گواہوں اور دلیل کا حکم جاری فرمایا۔