حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: لَوْلَا تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ صَاحِبَ فِرَاشٍ حَتَّى أَمُوتَ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَرِيضَ يُرْفَعُ عَنْهُ الْحَرَجُ وَتُكَفَّرُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، وَيُكْتَبُ لَهُ بِصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ .مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے کہا: اگر قرآن کی تلاوت نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں بستر کا مریض رہوں یہاں تک کہ فوت ہو جاؤں کیونکہ مریض سے شرعی سختی ہٹا دی جاتی ہے، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اور اس کے نیک اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ صحت مند ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا۔