سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (125) قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مِسْوَرٍ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: { فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ } فَقَالُوا: فَهَلْ لِذَلِكَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ ؛ إِذَا دَخَلَ النُّورُ الْقَلْبَ انْفَسَحَ وَانْشَرَحَ . فَقَالُوا: فَهَلْ لِذَلِكَ مَنْ عِلْمٍ يُعْرَفُ بِهِ ؟ قَالَ: نَعَمِ، الْإِنَابَةُ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ، وَالتَّجَافِي عَنْ دَارِ الْغُرُورِ، وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ .عبدالمہید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ، جو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تھے، بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا اس کے لیے کوئی علامت ہے جس سے اسے پہچانا جا سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کشادہ اور منور ہو جاتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اس کی کوئی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جا سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، دائمی ٹھکانے یعنی آخرت کی طرف رجوع، دھوکے کے گھر سے یعنی دوریہ سے دعا، اور موت کے نزول سے پہلے موت کے لیے تیاری۔۔