سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَاتُ (119 - 121) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَا لَكُمْ أَلا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ}، إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَا لَكُمْ أَلا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ وَالَانَ مَرَّ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى الدَّارِ، قَالَ: وَشَاةٌ مَذْبُوحَةٌ، فَقَالَ لِنِسْوَةٍ حَوْلَهَا: مَنْ ذَبَحَهَا ؟ فَقُلْنَ: ذَبَحَهَا فُلَانٌ غُلَامُكَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا يُصَلِّي غُلَامِي ! فَقُلْنَ: وَلَكِنْ عَلَّمْنَاهُ فَسَمَّى، فَرَجَعْتُ كَمَا أَنَا فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَأَنْبَأْتُهُ بِتَعْلِيمِ النِّسْوَةِ إِيَّاهُ التَّسْمِيَةَ، فَقَالَ: كُلْ .مالک بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے خچر پر سوار ہو کر چلا جا رہا تھا کہ ایک گھر کے قریب پہنچا، وہاں ایک ذبح شدہ بکری تھی۔ تو اس کے اردگرد عورتوں سے پوچھا: اسے کس نے ذبح کیا؟ انہوں نے کہا: تمہارے غلام نے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا غلام تو نماز نہیں پڑھتا! عورتوں نے کہا: ہم نے اسے سکھایا تھا اور اس نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا تھا۔ تو میں وہیں سے واپس لوٹ آیا اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عورتوں کے غلام کو تسمیہ سکھانے کا واقعہ انہیں بتایا، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھا لو۔